The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور خارجہ امور کے سربراہ علامہ سید شفقت حسین شیرازی نے کہا ہے کہ پولیس کی طاقت سے سیاسی مخالفین کو کچلنا، ان کے چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا، باپردہ خواتین کو ان کے گھروں میں بے آبرو کرنا، بے گناہوں کو پکڑ کر تھانوں اور جیلوں میں بھرنا، نہ کردہ جرائم کی آیف آئی آر کاٹنا اور دوسری جانب آیف آئی آر میں نامزد ملزمان حکمرانوں کا دندنانا، عدالتوں اور پولیس کو بے بس دکھانا، سول ڈکٹیٹرشپ کی بدترین مثال نہیں تو اور کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک جاری بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ اگر لوگ دھرنے والوں کی اپیل پر نہیں نکلے تو اس میں ہمارا قصور کیا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کے آنے کے تمام تر راستے بند ہیں۔ حکمرانوں نے ظلم و تشدد سے ہزاروں کنٹینرز لگا کر جمہوریت کا گلا کھونٹ دیا ہے۔ عوام پر باہر نکلنے کے تمام تر دروازنے بند کرکے پورے ملک کی عوام کو نظر بند کرنا، ہزاروں سیاسی کارکنان کی پکڑ دھکڑ، ملک میں حراسمنٹ ایجاد کرنا اور انہیں جمہوری حق سے محروم کرنا کہاں کی جمہوریت ہے۔؟

 

علامہ شفقت شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر، سرگودہا اور ملک کے دیگر تمام شہروں میں گو نواز گو کے نعرے بلند کرکے عوام نے اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ اب ملک و قوم پر رحم کرتے ہوئے نواز شریف اور شہباز شریف صاحب کو مستعفی ہو جانا چاہیے، کیونکہ حکمرانی کا اخلاقی حق تو وہ پہلے ہی کھو چکے تھے، اب جمہوری حق بھی کھو چکے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے ارتکاب، پورے ملک کو دہشت گردی کی دلدل میں دھکیلنے، آئین کی پاسداری اور عدالتوں و فوج کے وقار کو مجروح کرنے کے بعد اب انہیں اپنی کرسی کو نہیں اس ملک کو بچانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت کی بنا پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان، پاکستان عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنان کی گرفتاریاں اور بے بنیاد مقدمے قابل مذمت ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے کارکنان کو فی الفور رہا کیا جائے اور مقدمات واپس لئے جائیں اور مخلصانہ سیاسی جدوجہد سے ملک کو اس سیاسی بحران سے نکالا جائے۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ پورا ملک زیر آب ہے، عوام کی پناہ گاہیں اور غریبوں کے گھر تباہ ہوچکے ہیں۔ ملک میں لاکھوں عوام کہ جن میں ہماری مائیں، بہنیں اور بزرگان، نوجوانان اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، اب وہ چھت کی نعمت سے محروم ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے خوراک اور پینے کے لیے پانی تک ان کو میسر نہیں ہے۔ بچوں کے لیے دودھ اور پہننے کے لیے کپڑے اور مریضوں کو دواء تک میسر نہیں۔ کروڑوں کا مالی نقصان ہوچکا ہے۔ پوری قوم بالخصوص مخیر حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ انکی فی الفور مدد کی جائے۔ تاکہ ہمارے یہ بہن بھائی اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرسکیں۔

وحدت نیوز (پشاور) گذشتہ دنوں وفات پانے والے شیعہ اسیر رہنماء محمد حسین حسینی کی روح کے ایصال ثواب کیلئے امام بارگاہ دربار حسین (ع) میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا، مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید محمد سبطین الحسینی کا کہنا تھا کہ پشاور میں جس طرح لاشیں گرائی گئیں اس پر انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی یہی بتاتی ہے کہ وہ اس قتل عام کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہتی، انہوں کا کہنا تھا کہ محمد حسین حسینی کو کئی سال جیل میں بے گناہ رکھا گیا، جس کی وجہ سے ان کی طعبیت خراب ہوئی، اس طرح پشاور کی انتظامیہ نے ہر قسم کا ظلم یہاں کے اہل تشیع سے روا رکھا ہوا ہے، جو انتہائی افسوناک اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں صرف اس کی چلتی ہے جو اس مملکت کا دشمن ہو، جو فوج کا دشمن ہو، جو غریب عوام کا دشمن ہو۔ مگر جس کو اس پاک سرزمیں کے ساتھ محبت ہو اس کے ساتھ جس قسم کا بھی ظلم ہو اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے پشاور جیل میں قید محمد حسین حسینی کے فرزند عسکری اور علی محسن کی رہائی کے لئے بھی خصوصی دعا کی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان عوامی تحریک نے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کیخلاف احتجاجاً حکومت سے مذاکرات معطل کردیئے، خرم نواز گنڈا پور کہتے ہیں کہ حکومت ایک طرف مذاکرات دوسری جانب کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے، اسد نقوی اور ان کے ساتھیوں کی رہائی تک مذاکرات نہیں ہونگے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پولیس نے مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد نقوی اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے کارکنوں کی گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کر رہی  ہے، اگر پولیس نے گرفتاریاں نہیں کیں تو اسد نقوی اور ان کے ساتھیوں کے اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے، خرم نواز گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جرگے کے ارکان کو بھی کارکنوں کی گرفتاریوں سے آگاہ کرینگے، حکومت سے ہونیوالے مذاکرات میں احتجاجاً شریک نہیں ہوں گے۔

آئین کا تقدس

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) آج کل آئین کے بارے میں ہر ایک اپنی اپنی رائے کا اظہار کررہاہے سوچا چلو ہم بھی طبع آزمائی کرتے ہیں تو معاملہ اتنا پیچیدہ نکلا کہ شروعات کرناہی مشکل ہوگیا ۱۹۷۳ سے شروع کررہا ہوں تو موجودہ لات لکھنا سمجھ نہیں آتا اگر حال سے شروع کرتا ہوں توآئین کے گذشتہ ادوار سمجھانا مشکل ہورہاتھا۔ خیر سوچاکہ چلوپہلے آئین تو سمجھیں کہ ہوتا کیاہے بہت غور کے بعد سمجھ میں آیا کہ شاید کسی ملک اور ملت کو چلانے کے لئے اداروں کے مابیں قوائد و ضوابط حقوق و فرائض کے مجموعہ کو آئین کہتے ہیں۔ویسے تو کسی بھی ملک کا آئین سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل کے نظام کو سمجھنا پڑتاہے۔
۱۔ پارلیمینٹ کا نظام ۔ ۲۔ وفاق کا نظام۔ ۳۔ نظریہ 


اب سوال پاکستان کے آئین کا ہے تو یہ وہ ڈاکیومینٹ ہے جس کو ۱۹۷۳ میں بنایا گیا جس کی تھوڑی سی تاریخ یہاں بیان کرنا ضروری ہے ۔

پہلی دستور ساز اسمبلی ۲۶ جولائی ۱۹۴۷ میں وجود میں آئی جس کا پہلا اجلاس ۱۰ اگست ۱۹۴۷ میں ہوا فقط دو رپوٹس ہی پیش کیں تھیں کہ اس کو ۱۹۵۴میں توڑ ا گیا۔اس کے بعد ۱۹۵۶ میں دستور پیش کیا گیا ۔ پھر ۱۹۶۲ میں عبوری دستور پیش کیا گیا ۔پھر ۱۹۷۲ میں عبوری دستور اسمبلی سے پاس کرایا گیا ۔ جو ۹ یا دس مہینے چلا ۔ اس کے بعد دستوری کمیٹی نے ۱۰ ۱پریل ۱۹۷۳ کو اسمبلی میں آئین پیش کیا جو منظور ہوا جس میں ۷۰ کی دہائی میں ۳۴ ترمیم کی گئیں ۱۰ اسمبلی کے ذریعے اور ۲۴ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ۔بعدازاں ہونے والی ترامیم کے نتیجے میں آئیں میں صدر کو اختیار تھا کہ وہ اسمبلی کو توڑ سکتا ہے ۔ اس اختیار کو ۱۹۸۸ سے ۱۹۹۶ تک چار مرتبہ استعمال کیا گیا ۸ مئی ۱۹۷۴ سے ۱۶ مئی ۱۹۷۷ تک ۔ یہ سب ترامیم اسی اسمبلی نے کیں جس نے یہ آئین بنایا تھا۔اس کے بعد ضیاء الحق کو سپریم کورٹ نے محدود پیمانے پر صدارتی آرڈر کے ذریعے ترامیم کرنے کا اختیار دیا۔ جس سے فیبر وری ۱۹۷۹ سے ۱۹۸۵ تک آئین میں ایسی ترامیم کی گئیں کہ آئین کی اصل شکل ہی تبدیل کردی۔ دوسرے لفظوں میں آئین کی روح تک کو زخمی کیا گیا۔


اور اس کے بعد کی کی گئیں ترامیم بھی آئین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہیں جس میں ۱۹۷۴ سے ۲۰۱۲ تک کی ۲۰ کی ۲۰ ترامیم ثبوت کے طور پر ہیش کی جاسکتی ہیں سوائے چند ایک کے۔اور ان ترامیم کی وجہ سے سینکڑوں آئین کے آرٹیکلس متاثرہوئے ہیں جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہےاور آئین مین غیر آئینی تبدیلیاں کی گئیں اور وہ بھی اسمبلیوں کے ذریعے اور چونکہ ماضی کی مسلسل مارشلاء کی وجہ سے آئین نے ہمیشہ مرکز کو یعنی وزیراعظم کو مظبوط کرنے والی شقوں کو سامنے رکھا ہے اور کبھی بھی نظریاتی ،عدالتی اور عوامی بہتری کا نہیں سوچا گیا ۔اس کے علاوہ مرکزی سیاسی قائدین میں خوداعتمادی ، فکری اورتعلیمی کمی رہی ۔اس کی مثالیں عام طور سے دیکھی جاسکتی ہیں کہ بدقسمتی سے اسمبلیوں میں انگوٹھا چھاپ وزیر تعلیم ، جن کو دس پڑوسی اسلامی ممالک کا نام تک نہ آتاہو وہ وزیر خارجہ،جو بیوروکریٹ سے بجٹ بنوائے وہ وزیر خزانہ، جس کو سورہ اخلاص نہ آئے وہ ماہر قانون جیسے نظارے اسمبلیوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔اور یہی لوگ جمھوریت کا راگ الاپتے ہیں اور ہمارے لئے مقدس اور غیر مقدس کا فیصلہ کرتے ہیں۔جبکہ ان کی تمام وزارتیں بیوروکریٹس ہی چلاتے ہیں۔اور اسمبلیوں میں انہی بیوروکریٹس کا لکھا پڑھ کر وزیر سناتے ہیں۔


جب دستور بنا تو کہا گیا تھا کہ سات سال کے اندر دستور کے سارے قوانین کو اسلای تعلیمات کی روشنی میں اسلامی احکام سے ہم آہنگ اور روشناس کرایا جائے گا جو اس دستور کا نظریاتی منبع ہے۔لیکن آج تک دستور میں کی گئی تمام ترامیم حکمرانوں نے اپنے اختیار اور مفاد کی خاطر کیں عوامی سہولیات کی ایک بھی ترمیم نہیں دکھائی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے آئین کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے ۔



آج عوام پہلی مرتبہ اپنے حقوق کی خاطر ان مفاد پرست ایوانوں کے مدمقابل آیاہے تو تمام با اختیار اشرافیہ طبقہ ایک ساتھ ہوکر اپنے مفاد کی خاطر آئین اور پارلیمینٹ کا سہارا لے کر عوام کو پھر سے حقوق سے محروم کرنے پر یکجا ہو گیا ہے چاہے اس کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے ہے۔
اور آئین نے عدالتوں کو تنازعہ وحدتوں یاوحدت کے درمیان ثالث کا کردار دیا ہے لیکن جب عدالتوں پر بھی سوالیہ نشان بننے لگے ۔تو محروم طبقے کی ذمیداریاں بڑھ جاتی ہیں لیکن محروم طبقہ اب بھی منتشر نظر آرہا ہے جبکہ ان کو اپنے حقوق کے لئے بااختیار طبقہ سے زیادہ متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ آئینی حقوق حاصل کرسکیں۔فیصلہ آپ کریں کہ آئین اور پارلیمینٹ کا تقدس عوام نے پامال کیا یا اسمبلیوں میں بیٹھ کر آئین اور پارلیمینٹ کی گردان کرنے والوں نے۔



تحریر:عبداللہ مطہری

وحدت نیوز (اسلام آباد) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے راہنماؤں صاحبزادہ حامد رضا، طارق محبوب، سیّد جواد الحسن کاظمی، ارشد مصطفائی، مفتی محمد سعید رضوی اور صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی نے اسلام آباد میں مجلس وحدت المسلمین کے راہنماؤں کی بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار راہنماؤں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ حکمران گرفتاریوں اور چھاپوں سے انقلاب کا راستہ نہیں روک سکتے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ حکومت مخالف سیاسی راہنماؤں کی گرفتاریاں غیرجمہوری اور آمرانہ عمل ہے۔ حکومت دھرنوں سے گھبرا کر اوچھے اور وحشیانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ مجلس وحدت المسلمین کے پرامن راہنماؤں کی بلاجواز گرفتاریاں غیرقانونی ہیں۔ حکمران اتنا ہی ظلم کریں جتنا کل برداشت کر سکتے ہیں۔

وحدت نیوز (ڈی آئی خان) مجلس وحدت مسلمین ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے سیکرٹری جنرل علامہ زاہد جعفری نے تحصیل پروا کا دورہ کیا۔ جہاں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے  کہا کہ آج پورے پاکستان میں شیعہ نسل کشی جاری ہے ، ہر طرف ہمارے حقوق غصب ہورہے ہیں۔ کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے چن چن کر اہل تشع کو قتل کیا جا رہا ہے علامہ علی اکبر کمیلی کو شیعہ ہونے کی وجہ سے شہید کیا گیا مگر اس دوران ضروری ہے کہ ہم اپنے صفوں میں اتحاد ووحدت کی فضاء قائم کریں  ۔ اس موقع پرتحصیل پروا کی سطح پر ایم ڈبلیوایم کی تنظیم سازی کا عمل بھی مکمل کیا گیا جس میں کارکنان نے کثرت رائے سے محمد صادق کو ایم ڈبلیوایم تحصیل پروا کا نیا سیکریٹری جنرل منتخب کر لیا گیا، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین آج پاکستان میں وہ کام کر رہی ہےجس سے پاکستان کی ملت جعفریہ  کو ضرورت تھی۔ملت کی خدمت کے لئے ہمیں اس کاروان کا حصہ بننا چاہئے۔

وحدت نیوز(کراچی) کراچی میں جاری شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سندھ بھر میں بشمول حیدر آباد، دادو، بدین، ٹنڈو محمد خان، نواب شاہ، خیر پور، سکھر، شکار پور، لاڑکانہ ، جیکب آباد سمیت گھوٹکی اور متعدد مقامات پر مجلس وحدت مسلمین کے تحت ’’یوم سوگ‘‘ منایا گیا اورجمعہ نماز کے اجتماعات کے بعد احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ کھارادر کراچی میں کیا گیا۔احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی کراچی میں بڑھتی ہوئی شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لئے کراچی میں بھی وزیرستان طرز کا بے رحمانہ فوجی آپریشن کیا جائے اور شہر کراچی میں موجود ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گرد گروہوں اورا ن کی سرپرست نام نہاد مذہبی جماعتوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن عمل میں لایا جائے ، مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینزر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی مردہ باد، فرقہ واریت مردہ باد سمیت شیعہ سنی اتحاد اور شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری سمیت کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبات درج تھے۔

 

احتجاجی مظاہرے سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے رہنماؤں مولانا باقر زیدی،علامہ فرقان حیدر عابدی ، علی حسین نقوی، مولانا علی انور جعفری اور علامہ مبشر حسن ، آصف صفوی سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ شہر کراچی میں امن و امان قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے لہذٰا شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث کالعدم دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بے رحمانہ فوجی آپریشن نا گزیر ہو چکا ہے، ان کاکہنا تھا کہ نہ جانے کیا بات ہے کہ اچانک سے شہر کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا آغاز کر دیا جاتا ہے یا پھر لسانی بنیادوں پر معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت سمیت حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بشمول جمعیت علمائے پاکستان، سنی تحریک، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور دیگر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو زبانی بیان بازی کے بجائے عملی اقداما ت کے لئے آگے آنا ہو گا اور ہم اپیل کرتے ہیں کہ شہر کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبے کی حمایت کی جائے۔

 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پہلے شہر میں علامہ عباس کمیلی صاحب کے فرزند علامہ علی اکبر کمیلی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ٹھیک تین دن کے اندر مفتی نعیم صاحب کے داماد کو دہشت گردی میں قتل کر دیا گیا ، رہنماؤں نے علامہ علیا کبر کمیلی سمیت مولانا مسعود اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے تمام شہداء کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کر کے منظر عام پر نہ لایا گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، انہوں نے مفتی نعیم کو ان کے داماد کی ٹارگٹ کلنگ پر بھی تعزیت پیش کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی دفتر پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے کی جانے والی بے جا چڑھائی او ر کارکنوں کی گرفتاری پر بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے زیر اہتمام کراچی میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملیر برف خانہ، عباس ٹاؤن، نارتھ کراچی سمیت انچولی اور متعدد مقامات پر جمعہ نماز کے اجتماعات کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔

وحدت نیوز(کراچی) سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ ناصرعباس جعفری کی اپیل پر کراچی میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ضلع ملیر کے زیر اہتمام بعد نماز جمعہ حسینی جامع مسجد برف خانہ ملیر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں نمازیوں اور ایم ڈبلیوایم کاکارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور نااہل حکومت اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف نعرے بازی کی،شرکاء نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کی سرپرست صوبائی اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے،اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ علی انور جعفری ، ثمر عباس زیدی اورعارف رضا نے شرکاء سے خطاب کیا۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے فلاحی شعبہ خیرالعمل فاوُنڈیشن کے تعاوُن سے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ جھنگ، چینوٹ، پنڈی بھٹیاں، وزیر آباد، خوشاب، سرگودہا اور دیگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرین میں امدادی اشیاء پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ خیرالعمل فاوُنڈیشن پنجاب کے مسئول سید مسرت کاظمی کیمطابق متاثرین کی بحالی کیلئے خیرالعمل فاوُنڈیشن نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے، جو متاثرین کے مکمل بحالی تک جاری رہیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اشیاء خورونوش کی فراہمی کے بعد سیلاب کا پانی اتر جانے کے بعد مکانات اور مساجد کی تعمیر نو کا کام شروع کردینگے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لئے پاکستان بھر کے تمام اضلاع میں امدادی کیمپ بھی لگا دیے ہیں۔ سید مسرت کاظمی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سالوں کی نسبت اس سال سیلاب سے زیادہ جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں اور حکومتی اعداد و شمار حقائق پر مبنی نہیں، ہم بہت جلد اپنے سروے رپورٹ کو شائع کریں گے، جو ہمارے رضاکاروں نے متاثرہ علاقوں میں خود جا کر مرتب کئے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کا کوئی نمائندہ حکومتی مذکراتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں شریک نہیں ہو گا، حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت اپنی نااہلیوں کے نتیجے میں ایم ڈبلیوایم کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کررہی ہے، مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد عباس نقوی سمیت تمام گرفتار کارکنان کی بازیابی تک ایم ڈبلیوایم ، پاکستان عوامی تحریک اور سنی اتحاد کونسل  حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کا مکمل بائیکاٹ کرتی ہے،   وحدت نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے سیکرٹری سیاسیات ناصر عباس شیرازی نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے جس کا واضح ثبوت ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں ہیں، پہلے فقط مجلس وحدت نے حکومت سے مذاکرات کا بائیکاٹ کیا تھالیکن اب پاکستان عوامی تحریک اورسنی اتحاد کونسل نے بھی واضح طور پر حکومتی کمیٹی سے کسی بھی قسم کے مذکرات جاری نہ رکھنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے،انہوں نے مذید کہا کہ ریاستی طاقت کےبے دریغ استعمال  اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوجائیگا اور ملک گیر احتجاج شروع کر دیا جائیگا، جس کی ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ سید ناصرعباس شیرازی نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر رحیق عباسی اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا سے رابطے کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے ممبر اور کارکنان کی رہائی تک مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا اور فیصلے سے اپوزیشن سیاسی جرگہ کے رہنما ااور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کو آگاہ کر دیا گیاہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree