The Latest

mwmmuzakira12کنونشن کا آخری سیشن ’’مذاکرہ،،
ایم ڈبلیو ایم کے دو روزہ جماعتی کنونشن کہ جسے تنظیمی و تربیتی کنونشن کا نام دیا گیا تھا کا آخری سیشن نماز ظہرین کے وقفے کے بعد تقریبا دو بجے شروع ہوا اور اس سیشن میں پہلے ایک مذاکرہ رکھا گیا تھا اس مذاکرے میں شرکاء کنونشن مختلف امور کے مسؤلین سے عالمی علاقائی اور ملکی مختلف مسائل پر سولات کرنے تھے ۔
مذاکرے میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری،سربراہ شوریٰ عالی شیخ حسن صلاح الدین ، سیکرٹری تبلیغات و سربراہ دستور کیمیٹی سید حسنین گردیزی،سیکرٹری تنظیم سازی سید شبیر بخاری، سیکرٹری امور خارجہ سید شفقت شیرازی، سیکرٹری امور سیاسیات علی اوسط رضوی نے موضوعات پر گفتگو کی اور حاضرین کے سوالوں کے جواب دیے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید شبیر بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے انہی مشکلات سے علامہ مفتی جعفر حسین گزرے، مفتی صاحب کو تمام اختلافات کے باوجود بھکر کی سرزمین پر قائد منتخب کیا گیا، جس کے بعد مفتی صاحب نے اپنی انتھک محنتوں کے بعد قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور اتحاد کے ذریعہ ضیاءالحق دور میں اسلام آباد میں ایک زبردست کنونشن منعقد کیا اور یوں ایک آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔

علامہ شبیر بخاری نے مجلس وحدت مسلمین کے دو روزہ تنظیمی و تربیتی کنونشن کے دوران محفل مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی کامیابی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے محبوب قائد کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔ مفتی جعفر صاحب کی وفات کے بعد علامہ عارف حسین الحسینی کے دور میں قوم کو منظم طریقے سے منتشر کرنے کی کوشش کی گئی، اُنہوں نے کہا کہ یہ شہید قائد کی شخصیت تھی کہ جس کی بناء پر اُنہوں نے قوم میں دراڑیں ڈالنے والے اُن گماشتوں کو ناکام و نامُراد کر دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی ایک شخصیت تھی کہ جنہوں نے ہر ادنٰی فرد کو وہی عزت اور مقام دیا جو کہ اُمراء کو دیا کرتے تھے، شہید حسینی بزرگوں، جوانوں اور بچوں میں یکساں مقبول تھے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تنظیمی و تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید حسنین گردیزی نے کہا ہے کہ دستور منفی باتوں اور انحرافات کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کسی بھی تنظیم میں دستور وہ اہم دستاویز ہوتا ہے جو اختیارات کے بےجا استعمال کی روک تھام کرتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے دستور میں ترامیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دستوری ترامیم کا اختیار شوریٰ مرکزی کا کام ہے۔ یہ ترامیم دو تہائی اکثریت سے ممکن ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو قسم کی ترامیم کے لئے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ حالیہ دستور میں کسی بھی اجلاس کے لئے درکار کورم کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں شوریٰ عالی، مرکزی شوریٰ اور صوبائی شوریٰ کے لئے کم از کم 51 فیصد کورم رکھا گیا۔

سید شفقت شیرازی سیکرٹری امور خارجہ نے کہا کہ
دنیا میں امریکہ ایک تنہا قوت کے طور پر موجود تھا ،دنیا میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں لائی جاتیں تھیں
سلامتی کونسل کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا اسلامی سربراہی کانفرنس بھی امت اسلامیہ کی عوام کا ترجمان نہیں تھی ،خلیج تعاون کونسل کا حال بھی یہی تھی ،ایران کے انقلاب نے ایک نئی سوچ پیدا کی اورکمزور کی گئی قومیں بھی سوچنے لگیں لیکن پاکستان میں اب تک وہی پرانی صورت حال حاکم ہے یعنی پوری دنیا مانتی ہے پاکستانی عوام امریکہ مخالف ہے لیکن حکمران امریکہ نواز ہیں
صومالیہ تک شدت پسند پاکستان سے جاتے ہیں خواہ وہ پاکستانی ہوں یا پھر بیرونی عناصر جن کی شہرت پاکستان میں آکر ہوئی

raja.convention mwmسیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے دو روزہ کنونشن کے آخری سیشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن کی یہ مسلسل کوشش تھی کہ ہم تقسیم رہیں لیکن یکم جولائی کی تاریخی قرآن و سنت کانفرنس میں علماء ذاکرین اور ملت کے ہر طبقے کی موجودگی سے دشمن مایوس ہوا اور آپ نے اپنی ہمت و کوشش سے یہ ثابت کردیا کہ ہم سب ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک رہیں گے آپ نے کہا کہ ہم زندہ رہنے کے لئے میدان میں کھڑے نہیں ہیں بلکہ کربلا والوں کی طرح عزت سے مرنے کے لئے میدان میں اترئے ہیں

مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے ایم ڈبلیو ایم کے تنظیمی و تربیتی کنونشن سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین شہیدوں کی امین جماعت ہے جو شہداء کے مشن کو لیکر آگے بڑھ رہی ہے۔ آج گلگت و بلتسان، وادی مہران کوئٹہ سے لیکر کراچی تک تنظیمی سیٹ اپ موجود ہے۔ ان دو سال پانچ ماہ میں ایم ڈبلیو ایم مظلوم تشیع کی امید بن چکی ہے۔ اس نے ایسے ایسے کام کئے ہیں جو بظاہر ممکن نہیں تھے لیکن کارکنان کی انتھک محنت کے نتیجے میں آج تنظیمی سیٹ اپ پورے ملک میں موجود ہے۔ ہمارے دشمن نے شیعہ قوم کو تقسیم کرنے کے لئے گزشتہ چالیس برسوں سے الجھایا ہوا تھا، داخلی، خارجی اور ہر محاذ پر قوم کی تقسیم کی جاری تھی۔ لیکن کراچی کے نشتر پارک نے قوم کے تمام دھڑوں کو متحد کر دیا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ منظم دشمن کا مقابلہ اس سے بہتر طریقے سے منظم ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہتر منصوبہ بندی اور تیاری سے دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے جلسہ عام میں اعلان کیا تھا کہ یہ سال میدان میں حاضر رہنے کا سال ہے۔ 25 مارچ کو کراچی کی سرزمین پر ہونے والے ایم ڈبلیو ایم کے پروگرام بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نشتر پارک پروگرام نے قوم کو امید دلائی ہے، آج ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ قوم جھکنے اور ڈرنے والی نہیں، اس قوم کے ووٹ کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدا نہیں جاسکتا۔ اس اجتماع نے ثابت کیا کہ شیعہ قوم زندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے شیعوں کو غلام سمجھا ہوا تھا، جبکہ بعض نےاس قوم کو لاوارث سمجھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس باوثوق معلومات ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کے قتل میں کراچی کی ایک جماعت ملوث ہے۔ ہم شہید ہونے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ ہم ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ لٰہذا ہمیں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی کے پروگرام کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور پوری دنیا میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ شیعہ نسل کشی کی ذمہ داری وقت کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سیاسی پارٹیاں ہمارے حقوق کے دفاع میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دفاتر سیاست بازی کی بجائے عبادات کے لئے مختص ہونے چاہیں۔ نوجوانوں کو رغبت دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران عراق جنگ کے دوران کم عمر کمانڈروں نے فتح حاصل کی، اس کی بڑی وجہ ان کا خلوص اور عبادت گزاری تھی۔

 علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ہمیں مسلسل اپنے آپ کو بہتر کرنے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے۔ ہمیں اہل عبادت اور اہل دعا ہونا چاہیے، تاکہ دشمن کا مقابلہ بہتر انداز میں کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ قوم میں بہترین افراد موجود ہیں، ان کو موقع دینا ہوگا، تاکہ وہ قوم کے لئے کام کریں۔ بہترین افراد کو تلاش کیا جائے اور ان کے لئے تنظیم کے راستے کھولے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خداوند کریم سے دعا ہے کہ خدا ہمارے بزرگوں کے دلوں کو ہمارے لئے نرم کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مسجد و امام بارگاہ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کی ضرورت ہے۔

 

myc.karachiملی یکجہتی کونسل صوبائی سطح کا اجلاس کراچی کے مقامی ہوٹل میں 12 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ میزبانی کے فرائض انجام دے گا۔ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے پروگرام کے انتظامات کے لئے مرکزی شوریٰ نظارت کے رکن مولانا مرزا یوسف حسین کو کو آرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ان کے ہمراہ کراچی ڈویژن کے رہنما مولانا مختار امامی، مولانا صادق رضا تقوی، مولانا علی انور جعفری اور اصغر عباس زیدی خدمات انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں دعوت ناموں کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مختلف وفود نے جماعت الدعوۃ کراچی کے امیر انجینئر محمد نوید، جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم، جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو، محمد حسین محنتی، جمعیت علمائے پاکستان سندھ کے جنرل سیکریٹری عقیل انجم اور تحریک منہاج القرآن کراچی کے امیر ظفر قادری سمیت مختلف مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں کا دعوت نامہ پہنچا دیا ہے۔

9e2da3b69f12c2eed78f14bf191f9223 XLکل جماعتی کنونشن کے دوسرے روز پہلی نشست میں صوبائی رپوٹس پیش کرتے ہوئے علامہ مقصودی علی ڈومکی سیکرٹری بلوچستان نے کہا بلوچستان اور خاص کر کوئٹہ شہرگذشتہ پندرہ سالوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے اور ان پندرہ سالوں میں کسی ایک مجرم کو بھی نہیں پکڑا گیا بلوچستان میںیوں محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے
انہوں نے اس بات پر تشویس کا اظہا کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں اور کالعدم جماعتوں کی جانب سے تشہیراتی مہم اور مقامی بعض اخبارات میں بیانات ان شدت پسندوں کے دوبارہ فعال ہونے پر دلالت کرتی ہے
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں یہ کالعدم گروہ دوبارہ فعال ہو رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے عظیم اجتماع میں ناصرملت نے یہ اعلان کیا تھا کہ شیعہ کشی نہ رکی تو پھر لانگ مارچ کیا جائے گا لہذا اس دفعہ ہمارا لانگ ریاستی ان اداروں کی جانب ہونا چاہیے جو اصل میں اس ملک کے حاکم ہیں
انہوں نے کہا کہ عام اہل تشیع میں یہ احساس مضبوط ہوتا جارہا ہے شیعہ کشی کے پیچھے ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے اگر ایسا ہے تو پھر قوم کو کھل کر آگاہ کیا جائے
انہوں نے کہا کہ مستونگ میں دو عالم دین کا سرکاٹ کر قتل کیا گیا جبکہ اسی مستونگ میں ہی چند اہل تشیع کو کو قتل کے بعد بے غسل و کفن دفن کیا گیا عجیب بات ہے کہ دہشت گرد قتل عام کی ووڈیوز جاری کرتے ہیں لیکن خفیہ ایجنسیوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا دہشت گرد کوئٹہ میں ہر اس پولیس آفسیر تک پہنچ جاتے ہیں جو ان کے خلاف تحقیقات کرتا ہے پھر اسے قتل کرتے ہیں لیکن خفیہ ایجنسیوں کو پتہ نہیں چلتا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دال میں کچھ کالاہے

modal.conventionمجلس وحدت کے جماعتی کنونشن میں اضلاع کے درمیان کارکردگی کی کی جانچ پڑتال کے بعد ملک بھر کے کچھ اضلاع کو ماڈل اضلاع کے طور پر پہچنوایا گیا ماڈل اضلاع کی پہچان کا معیار ان اضلاع کی مختلف حوالوں سے بہتر کارکردگی کو قرار دیا گیا تھا ماڈل اضلاع کا اعلان کرتے ہوئے 

ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم پنجاب علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ پنجاب کے 37 اضلاع میں سے کارکردگی اور فعالیت کی بنیاد پر پنجاب کے پانچ اضلاع ملتان، بھکر، جھنگ، چنیوٹ اور اوکاڑہ کو ماڈل اضلاع قرار دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح سندھ سے بدین، خیرپور اور ضلع ملیر کو ماڈل ضلع قرار دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، صوبہ خیبرپختونخوا، صوبہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کے نمائندگان نے اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس میں مرکزی سیکرٹری اُمور خارجہ سید شفقت شیرازی، ایم ڈبلیو ایم قم کے سیکرٹری جنرل سید تقی شیرازی، صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی، صوبائی سیکرٹری جنرل سندھ علامہ مختار امامی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل خیبر پختونخوا علامہ سید عبدالحسین، صوبائی سیکرٹری جنرل بلوچستان علامہ مقصود علی ڈومکی، رُکن شوریٰ عالی علامہ حیدر علی جوادی، علامہ ہاشم علی موسوی، علامہ سید شبیر بخاری، علامہ سید مظہر کاظمی، ناصر عباس شیرازی، یافث نوید ہاشمی، نثار علی فیضی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنمائوں نے شرکت ہیں

shora ehtijajٹارگٹ کلنگ کے خلاف کل ملک بھر سے آئے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے عہدہ دار احتجاج کرینگے
ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کل شام چار بج کر تیس منٹ پر ملک بھر سے آئے ہوئے مجلس وحدت کے عہدہ داراحتجاجی ریلی نکالیں گے یہ احتجاجی ریلی پریس کلب اسلام آباد کے سامنے پچھلے ایک ہفتہ سے لگے ہوئے احتجاجی کیمپ پر پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کرے گی جہاں اہم شخصیات خطاب کرینگی
واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے اس کیمپ کا مقصد شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنا اور اپنی مظلومیت کو ریاستی ذمہ داروں اور عوام کے سامنے اجاگر کرنا ہے

 مجلس وحدت کے سالانہ جماعتی دوسرے کنونشن کی دوسری نشست jawadi.haider

دوسری نشست سے ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ نظارت کے رکن علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ اگر تم مظلوم کی مدد نہیں کرتے تو تمہیں حسینی کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ، حسین ع اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لیے میدان عمل میں آئے تھے اس لئے ہماری مجالس اور ماتم اصلاح امت کے لیے ہونی چاہیں ، انہوں نے کہا کہ علی ع نمازی بھی تھے ، غریبوں کے ہمدرد بھی تھے ، تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے سوکھی روٹی کھا لی لیکن کسی ظالم کے در سے تر نوالہ نہیں لیا ، علی ع ہر فیلڈ میں مرد میدان تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ نے وحدت کا علم بلند کر رکھا ہے جب تم قد بڑھاتے ہو ہو تم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اور ذمہ داری عائد ہونے کے بعد تم انسان کی انسانیت سازی میں مدد کرو ، انہوں نے مزید کہا کہ مومن کی علامت عہدو پیمان پر کھڑا ہونا ہے ، جب یہ جماعت نہیں بنائی گئی تھی تو تم پر کسی کا کوئی حق نہیں تھا ، لیکن اب پوری بشریت کا تم پر حق ہے کہ انسانوں کو اخلاق حسنہ سے مزین کرو ، انہیں فکری بیدار ی دو اور انہیں دشمن اور دوست کی پہچان کراؤ،۔
کنونشن کی دوسری نشست میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ، ڈپٹی سیکرٹڑی جنرل علامہ محمد امین شہیدی ، سیکرٹری امور خارجہ علامہ شفقت شیرازی، سیکرٹری نظیم سازی علامہ شبیر بخاری ، سیکرٹری امور جوانان علامہ اعجاز بہشتی، سیکرٹری سیاسیات سید علی اوسط رضوی بھی موجود تھے، نظامت کے فرائض مولانا صادق تقوی آف کراچی نے سرانجام دیئے ، اس موقع پر ماڈل قرار دیئے جانیوالے اضلاع جھل مگسی، گنداخہ۔ ملیر کراچی،بدین ،جھنگ،بھکر ، چنیوٹ اور اکوڑاہ کے ضلع مسؤلین نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں، کنونشن میں بلوچستان کے نو اضلاع کے 72،آزاد کشمیر کے تین اضلاع کے دس،خیبر پختون خواہ کے پانچ اضلاع کے34، سندھ کے بائیس اضلاع کے 217، اور پنجاب کے پچیس اضلاع کے 134افراد شریک ہی

convention02پریس ریلیز

اسلام آباد  ( پ ر ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سالانہ دو روزہ تنظیمی و تربیتی کنونشن جامع الصادق اسلام آباد میں شروع ہو گیا ، کنونشن کی صدارت مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کی کنونشن کے پہلے روز مرکزی و صوبائی کابینہ اراکین ضلعی مسئولین سمیت پاکستان کے54اضلاع کے سات سو سے زائد نمائندگان شریک تھے ،  افتتاحی نسشت سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ہمارے ازلی دشمن امریکہ کی سازش ہے کہ ہمیں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہمارے مخالفین کے ساتھ  الجھا دے تاکہ اسے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے میدان خالی ملے ، ان حالات میں ہماری ذمہ داریں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں ہم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کو تسلیم کرائیں ، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین اپنی موثر حکمت عملی کے ذریعے اپنی طاقت تسلیم کرا رہی ہے  لیکن جو ں جوں ایم ڈبلیو ایم کی تحریک کو تقویت مل رہی ہے  دشمن اور زیادہ بیدار اور متحرک ہو رہا ہے ، ہمیں ایسی حمؤکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے کہ دشمن ہنم سے پیچھے رہے ، آج کراچی کوئٹہ ، بلوچستان، پارا چنار ، گلگت ،  بلتستان سمیت ہر علاقہ میں ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ہم نے کسی  فرد کا نہیں قوم مکے سرپرست کا کردار ادا کرنا ہے اس ضمن میں ہمیں ایم ڈبلیو ایم کو مرکز سے لے کر یونٹ کی سطح تک تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہو گا ، اس لیے ہمیں شعبہ تنظیم سازی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، یونٹس کی تشکیل کے بعد کارکنوں اور ذمہ داران کی تربیت پر توجہ دینی ہو گی ، انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے شعبوں بالخصوص شعبہ جوان اور شعبہ میڈیا کو انتہائی موثر اور فعال بنانے پر توجہ دینا ہو گی،  سالانہ تنظیمی کنونشن کی دوسری نسشت میں خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ نظارت کے رکن علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ اگر تم مظلوم کی مدد نہیں کرتے  تو تمہیں حسینی کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ، حسین اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لیے میدان عمل میں آئے تھے اس لیے ہماری مجالس اور ماتم اصلاح امت کے لیے ہونی چاہیں ،  انہوں نے کہا کہ علی نمازی بھی تھے ، غریبوں کے ہمدرد بھی تھے ، تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے سوکھی روٹی کھا لی لیکن کسی ظالم کے در سے تر نوالہ نہیں لیا ، علی ہر فیلڈ میں مرد میدان تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ نے وحدت کا علم بلند کر رکھا ہے جب تم قد بڑھاتے ہو ہو تم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اور ذمہ داری عائد ہونے کے بعد تم انسان کی انسانیت سازی میں مدد کرو ، انہوں نے مزید کہا کہ مومن کی علامت عہدو پیمان پر کھڑا ہونا ہے ، جب یہ تنظیم نہیں بنائی گئی تھی تو تم پر کسی کا کوئی حق نہیں تھا ، لیکن اب پوری بشریت کا تم پر حق ہے کہ انسانوں کو اخلاق حسنہ سے مزین کرو ، انہیں فکری بیدار ی دو  اور انہیں دشمن اور دوست کی پہچان کرائو، کنونشن کی پہلی دو نسشتوں میں نظامت کے فرائض ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اسگر عسکری اور  اوکاڑہ  کے ضلعی مسئولین نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں،

conventionایم ڈبلیو ایم کا کل جماعتی دو روزہ کنونشن دارالحکومت میں اس وقت جاری ہے جو کل شام گئے تک جاری رہے گا کنونشن میں ملک بھر سے نمایندے موجود ہیں
کنونشن کی پہلی نشست صبح دس بجے تلاوت کلام پاک اور نعت و قصیدے کے ساتھ شروع ہوئی جس کے بعد شرکاء کو اجلاس کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا گیا
ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ امین شہیدی شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا اور ملکی وبین الاقوامی مسائل نیز امت مسلمہ کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمارا ازلی دشمن ہمیں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں الجھاکر اپنے لئے میدان خالی کرانا چاہتا ہے
اس وقت ہمارا پہلا کام اپنی جماعت کے سٹریکچر کو مضبوط کرنا ہے
شعبہ تنظیم سازی کو فعال تر بنانا اس وقت اہم ضرورت ہے ،شعبہ جاتی مسؤلین کی بہتر کارکردگی کے لئے تربیتی پروگرامز تشکیل دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور شعبہ جوان ہمارے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لہذا ن دو شعبوں پر بھی خاص توجہ کی ضرور ت ہے
انہوں نے کہا دستور کا مکمل مطالعہ رکھنا تمام افراد کے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہماری تمام تر کارکردگی اور درست سمت میں سفر دستور پر پابندی اور اس کے نفاذ سے ہی ممکن ہے
ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے خطاب کے بعد اس وقت ماڈل اضلاع اپنی کارکردہ گی رپورٹ پیش کر رہے ہیں

کنونشن ہال کی کچھ جھلکیاں (۱)

mwmlogo0012ایم ڈبلیوایم کی جانب سے دو روزہ کل جماعتی کنونشن ہال شرکاء سے کچھاکچھ بھرا ہوا ہے ہلال کی شکل میں کرسیاں لگائی گئیں ہیں جس کے باکل فرنٹ پر سٹیج بنایا ہوا ہے
کنونشن ہال کی جانب جب آپ روانہ ہونا چاہیں تو آپ کو سیکوریٹی بیریر سے گذرنے کے فورا بعد استقبالیہ کیمپ کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں ایم ڈبلیوایم کے جوان آپ کے استقبال کے لئے تیار نظر آینگے استقبالیہ کیمپ کے ساتھ ہیں آپ کو مختلف صوبوں اور اضلاع کے ایسے بینرز بھی ملے گے جس میں مختلف اہم پیغامات کے ساتھ ساتھ اہم فعالیات بھی تحریر ہیں مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہیں آپ کو پھر شعبہ جوان کے بااخلاق جوان ہاتھوں ہاتھ لینگے جو کنونشن ہال میں آپ کی نشست تک آپ کی رہنمائی کرینگے
کنونشن ہال کے بیگ سائیڈ پر ایم ڈبلیوایم میڈیا سیل کی ٹیم کنونشن کی کوریج ڈسک لگی ہوئی ہے جبکہ شعبہ جوان کے افراد بھی کوریج کرتے نظر آینگے
کنونشن کے انتظامی امور کے لئے مرکزی آفس کی ایک ٹیم آپ کو ہر جگہ پیش پیش نظر آئے گی کنونشن ہال میں اس وقت نعروں کی گونج سنائی دی جب مرکزی سیکرٹری جنرل تشریف لائے شرکاء اجلاس نے مرکزی سیکرٹری جنرل کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ مختلف اضلاع کی میڈیا ٹیم کے رضاکار اورشرکا اجلاس کی ایک بڑی تعداد تصویر اور فوٹیج کے لئے سٹیج کی جانب بڑھے ۔
کنونشن کا پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا ،پہلے سیشن میں شرکاء کی دلچسپی اس قدر زیادہ تھی کہ یوں لگ رہا تھا کہ گویا وہ دنیا و مافیھا سے کٹ چکے ہیں اور ان کی توجہ صرف کنونشن ہال میں مرکوز ہے
اجلاس کا دوسرا سیشن نماز ظہرین کے بعد ٹھیک دو بجے شروع ہوگا اس سیشن میں بھی ماڈل اضلاع اور صوبائی رپورٹس پیش کی جاینگی جبکہ نشست کے آخر میں اخلاقی لیکچر ہوگا
اجلاس دو دن جاری رہے گا جس میں ملک بھر مجلس وحدت مسلمین کی جماعتی کارکردگی سمیت متعدد اہم موضوعات پر گفتگو شنید اور تنقید ی جائزہ لیا جائے گا نیز اس اجلاس میں مختلف قسم کے دیگر پروگرام بھی ہونگے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree