The Latest

وحدت نیوز(لاہور) جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی حمایت میں دسویں روز بھی ملک بھر میں علامتی دھرنوں کا سلسلہ جاری رہا۔ شرکا دھرنا آئین کے آرٹیکل دس کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے جس کے مطابق کسی بھی شہری کو گرفتاری کے بعدچوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش نہ کرنا آئین شکنی ہے۔ملت تشیع کے متعدد افراد گزشتہ کئی سالوں سے لاپتا ہیں۔ان کی بازیابی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز بھی اسلام آباد، لاہور، ملتان،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں علامتی دھرنے دیے گئے جن میں شیعہ اکابرین، مختلف شیعہ جماعتوں کے ضلعی و صوبائی رہنما،نوحہ خواں تنظیمیں اور نامور مذہبی و سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔

لاہور لبرٹی چوک پر بڑی تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سول سوسائٹی خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے علامتی احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملک بھر میں جاری جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے کراچی میں جاری جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے دھرنے کی بھرپور حمایت کی علامتی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جب تک ہمارے نوجوانوں کو سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔یہ ہمارا آئینی و قانونی مطالبہ ہے۔ہم اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

 اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےکہا کہ ہمارے نوجوانوں کا ریاستی اداروں کی تحویل میں ہونا عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔اگر عدالتی نظام پر حکومتی اداروں کو اعتماد ہے تو وہ خفیہ عقوبت خانوں میں رکھے گئے نوجوانوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کریں۔ حکومتی اداروں کا ایک دوسرے پر عدم اعتماد سے ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے ۔ اختیارات کی کھینچا تانی ریاست کے وجود کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایک آئینی و جمہوری ریاست میں قانون و انصاف کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا وطن عزیز کے قیام کے لیے ہمارے اجداد نے غیر معمولی قربانیاں دیں ہیں۔اس سرزمین کو کوئی بھی ادارہ اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھے۔کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر ان کی زندگی کا قیمتی ترین حصہ خفیہ عقوبت خانوں کی بھینٹ چڑھا دے۔

انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ہمارے رگ و جاں میں بسی ہوئی ہے۔ہمارے اجتماعات میں آج بھی پاکستان سے محبت کا اظہار حب الوطنی سے بھرپور نعروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ریاستی اداروں کا غیرمنصفانہ کردار ہمیں  ریاست سے جدا نہیں کر سکتا۔ دھرنے کے شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے مطالبات کی حمایت کا اظہار ہے۔

مقررین نے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو علامتی دھرنوں کو مستقل احتجاج کی صورت میں بدلنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

وحدت نیوز (ملتان) جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے زیراہتمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ملک بھر احتجاجی دھرنے۔ مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ملتان میں چونگی نمبر 6 خواتین اور بچوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے علامتی دھرنا دیا۔ دھرنے میں شریک چھوٹے بچوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ علامتی دھرنا لاپتہ شیعہ عزاداروں کے حوالے سے جنہیں کئی سالوں سے ریاستی اداروں نے لاپتہ کیا ہوا ہے ہماری یہ تحریک آئین کے آرٹیکل دس کی بحالی کیلئے ہے اس کے مطابق اگر ریاست میں موجودکسی شخص کو گرفتار کیا جائے تو 24 گھنٹوں میں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔مگر افسوس کے ساتھ کئی سالوں سے ہماری یہ آئینی تحریک چل رہی ہے۔ہماری مائیں بہنیں روڈوں پر آکر بیٹھتی ہیں۔مگر افسوس کے ساتھ ملکی وزیر اعظم،آرمی چیف،چیف جسٹس آف پاکستان ہماری باتوں پر کان نہیں دہرتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ملک میں مسنگ پرسن کے مسئلہ پر بین الاقوامی سطح پر ملکی بدنامی باعث بن رہا ہے حکومت کو اس کی کوئی پروا نہیں۔مسنگ پرسن کی بہت سی مائیں اپنے بچوں کے انتظار میں نابینا ہو گئی ہیں اور لاپتہ افراد میں سے بہت سے ایسے والدین ہیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کی راہ دیکھتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔لیکن ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں کوکوئی پرواہ نہیں۔ ہماری احتجاجی تحریک جاری ہے جب تک آخری مسنگ پرسن کو بازیاب نہیں کرایا جاتا یہ احتجاج جاری رہے گا۔

اس موقع پر مولانا وسیم عباس معصومی۔ مولانا ہادی حسین ہادی۔ ڈویژنل صدر آئی ایس او ملتان ثقلین ظفر۔ ضلعی آرگنائزر ایم ڈبلیو ایم ملتان فخر نسیم اور دیگر موجود تھے۔

وحدت نیوز(پاراچنار) ملک بھر کی طرح پاراچنار میں بھی جبری طور پر لاپتہ جوانوں کی بازیابی کے لئے گذشتہ 3 دن سے نظر بندی چوک میں احتجاجی کیمپ جاری ہے.احتجاج میں شریک جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے ساتھ ساتھ مزہبی و سیاسی تنظیموں نے پچھلے تین دن سے مسلسل احتجاجی کیمپ لگایا ہے۔

احتجاجی کیمپ میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے ہمارے بھائی کئی کئی ماہ اور سالوں لاپتہ ہے جنکوں جبری طور پر اٹھایا گیا ہے.ایران سے آنے والوں کو کوئٹہ سے کسی کو ڈی آئی خان سے کسی کو پشاور سے اٹھایا گیا۔ہمارا احتجاج آئین کے آرٹیکل 10 کی بحالی ہے، ہمارے جوان اگر مجرم ہیں تو انکو عدالتوں میں پیش کیا جائے.اگر وہ مجرم ہیں تو قانون کے مطابق سزا دی جائے وگرنا رہا کیا جائے.ان کا مذید کہنا تھا جب تک ہمارے پیاروں کو رہا نہیں کیا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔

وحدت نیوز(جیکب آباد)مدرسہ خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کے زیر اہتمام استقبال ماہ رمضان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ماہ مبارک رمضان اللہ کا مہینہ ہے جو ہمیں خدا کی اطاعت اور بندگی کا درس دیتا ہے روزہ ضبط نفس کا نام ہے جو انسان کو اپنی خواہشات نفسانی کے مقابلے میں خداوند تبارک و تعالی کے احکام کی اطاعت اور بندگی کا درس دیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اس لیے ہمیں اس مبارک اور مقدس مہینے کو تلاوت قرآن کریم اور قرآن فہمی کے لیے مخصوص کر لینا چاہیے قرآن کریم کا پڑھنا عبادت اس کا سمجھنا باعث ہدایت ہے جبکہ قرآن حکیم پر عمل کرنا باعث نجات ہے قرآن کریم مکمل نظام حیات ہے قرآن کریم کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور نظام حیات کی ضرورت نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مملکت اسلامیہ پاکستان کی حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ احترام رمضان آرڈیننس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ایک اسلامی ریاست کے اندر رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی انتہائی افسوسناک ہے ماہ رمضان کے دوران ہوٹل بند ہونے چاہیں گانے بجانے کی آوازیں اور ہر وہ چیز جو احترام رمضان کے منافی ہو اس کے سدباب کے لئے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

 انہوں نے کہا کہ اس مبارک مہینے میں ہم سب کو چاہیے کہ اپنی سحری اور افطاری میں معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقات کو مدنظر رکھیں اور ان کی مدد اور خبر گیری کرتے رہیں جو خدا کی خوشنودی کا سبب بھی ہے اور ہماری نجات کا باعث بھی ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی حمایت میں دسویں روز بھی ملک بھر میں علامتی دھرنوں کا سلسلہ جاری رہا۔شرکا دھرنا آئین کے آرٹیکل دس کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے جس کے مطابق کسی بھی شہری کو گرفتاری کے بعدچوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش نہ کرنا آئین شکنی ہے۔ملت تشیع کے متعدد افراد گزشتہ کئی سالوں سے لاپتا ہیں،ان کی بازیابی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اتوار کے روز بھی اسلام آباد، لاہور، ملتان،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں علامتی دھرنے دیے گئے جن میں شیعہ اکابرین، مختلف شیعہ جماعتوں کے ضلعی و صوبائی رہنما،نوحہ خواں تنظیمیں اور نامور مذہبی و سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جب تک ہمارے نوجوانوں کو سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔یہ ہمارا آئینی و قانونی مطالبہ ہے۔ہم اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

 اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نےکہا کہ ہمارے نوجوانوں کا ریاستی اداروں کی تحویل میں ہونا عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔اگر عدالتی نظام پر مقتدر اداروں کو اعتماد ہے تو وہ خفیہ عقوبت خانوں میں رکھے گئے نوجوانوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کریں۔ ریاستی اداروں کا ایک دوسرے پر عدم اعتماد سے ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے ۔ اختیارات کی کھینچا تانی ریاست کے وجود کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایک آئینی و جمہوری ریاست میں قانون و انصاف کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا وطن عزیز کے قیام کے لیے ہمارے اجداد نے غیر معمولی قربانیاں دیں ہیں۔اس سرزمین کو کوئی بھی ادارہ اپنی ذاتی جاگیر نہ سمجھے۔کسی کو بھی  یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر ان کی زندگی کا قیمتی ترین حصہ خفیہ عقوبت خانوں کی بھینٹ چڑھا دے۔انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ہمارے رگ و جاں میں بسی ہوئی ہے۔ہمارے اجتماعات میں آج بھی پاکستان  سے محبت کا اظہار حب الوطنی سے بھرپور نعروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ریاستی اداروں کا غیرمنصفانہ کردار ہمیں  ریاست سے جدا نہیں کر سکتا۔ دھرنے کے شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد ہمارے مطالبات کی حمایت کا اظہار ہے۔

مقررین نے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو علامتی دھرنوں کو مستقل احتجاج کی صورت میں بدلنے کا آپشن بھی موجود ہے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین ضلع میرپور اور  امامیہ تنظیمات کے زیر اہتمام امام بارگاہ بیت ا لحزن سے چوک شہیداں تک ایس ایس پی ضلع میرپور،ضلع مفتی محکمہ امور دینیہ کی طرف سے فرقہ پرست عناصر کی سر پرستی کے خلاف اور شیعہ مسنگ پرسن ایکشن کمیٹی کے دھرنے کی حمایت میں  احتجاجی ریلی نکالی گئی  ریلی چوک شہیداں پہنچ کے احتجاجی جلسہ کی صورت اختیار کر گئی جس سے مولانا سید حسن کاظمی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع میرپور ، سید محمود بخاری نا ئب صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان ،بزرگ سماجی شخصیت ڈاکٹر سید عابد کاظمی اور سید عباس بخاری کے علاوہ دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا حسن کاظمی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم میرپور نے کہا کہ ایس ایس پی ضلع میرپور اور ضلعی مفتی میرپور ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں انہیں فرقہ پرستوں کی سر پرستی کے بجائے ہمیں بھی فریق مخالف کے ساتھ بٹھا کے مذ اکرات اور افہام و تفہیم سے مسلہ حل کر نا چاہیے تھا لیکن بد قسمتی سے ضلعی مفتی نے ہمارے خلاف فتویٰ دیا اور ایس ایس پی میرپور نے فرقہ پرستوں کی سر پرستی شروع کر دی ۔مولانا حسن کاظمی نے مزید کہا کہ ہم اس ریاست کے پر امن شہری ہیں ہم نے کبھی قانون ھاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کی لیکن ہماری امن کی آرزو کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم حسین ابن علی ع کے پیرو ہیں جنہوں نے ہمیں درس حریت دیا ہے اور امام علی ع نے" ہمیں حکم دیا ہے کہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے خامی بنو" واجد علی شاہ بھی مظلوم اور اسیر ہے اسی طرح پاکستان کے اور وہ لا پتہ ،بے گناہ عزادار بھی مظلوم ہیں جنہیں بلا وجہ نا معلوم عقوبت خانوں میں رکھا گیا ہے۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین پاکستان کا محافظ ہے۔ پاکستان کے آئیں کے مطابق ہر شہری آزاد سفر کر سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں سب کو ایک جیسی سہولیات میسر نہیں۔ جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔جبری گمشدگی میں ملوث لوگ ملک کی خدمت نہیں کر رہے. ملک میں آئین کی سربلندی کا مسئلہ ہے۔مسنگ پرسن بنانے کا سلسلہ اب ختم ہو جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ شہید مطہری ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی۔ علامہ سلطان احمد نقوی۔ مولانا وسیم عباس معصومی۔ مولانا ہادی حسین۔ مولانا سبطین نجفی۔ مولانا غلام جعفر انصاری۔ مولانا فرمان علی صفدری اور آئی ایس او ملتان کے ڈویژنل صدر ثقلین ظفر موجود تھے۔

سید ناصر عباس شیرازی کا مزید کہنا تھا کہ ہم آئین اور قانون کی سربلندی چاہتے ہیں۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں, کچھ لوگ ملک کے آئین کو پامال کررہے ہیں, کوئی مجرم احسان اللہ احسان سے بڑا نہیں, مجرموں کو رہا جبکہ ملک کے بیٹوں کو لاپتہ کردیا گیا, کل ملک بھر میں مظاہرے ہونگے, پانچ کروڑ افراد لاپتہ افراد کے ساتھ کھڑے ہیں, پنجاب, کراچی, بلوچستان سے لاپتہ افراد کو فوری رہا کیا جائے, ہم لاپتہ افراد کی حرمت کو پامال نہیں ہونے دیں گے,حکومت لاپتہ افراد کو فورا رہا کرے۔

سید ناصر عباس شیرازی نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئینی ادارے پولیس اور عدلیہ کے ہوتے ہوئے مسنگ پرسن کا ایشو ریاستی اداروں کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے ہے اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے علی الاعلان پولیس گرفتار کرے اس کے خلاف اس کے جرم کے مطابق مقدمہ درج کریں اور اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے ہم کسی مجرم کی حمایت کے لیے نہیں نکلے بلکہ ان بے قصور لوگوں کی آواز بن کر نکلے ہیں کہ جن کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے۔ ملتان میں خواتین اور معصوم بچے چونگی نمبر 6 احتجاجی دھرنا دیں گے۔

وحدت نیوز(سکردو)مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری یوتھ علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کچورا سکردو میں خطبہ جمعہ میں کراچی میں جاری دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قوم و ملت کے مخلص جوانوں کو لاپتہ کرنا سنگین جرم ہے ملت جعفریہ کے جوانوں کے ساتھ یہ سلوک برداشت نہیں کرسکتے۔

علامہ اعجاز بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ شہر قائد میں آٹھ روز سے جوائن ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے ساتھ محب الوطن شہری، خواتین بچے ، بزرگ  اور علماء پُر امن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جن کا مطالبہ اپنے پیاروں کی بازیابی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں عام شہریوں کو اس طرح بے جرم و خطا جبری گمشدہ کرنا قانون اور انسانیت کے خلاف ہے۔ کئی کئی سال تک شہریوں کو غائب کرنا کونسا قانون ہے؟ اور کہاں کی انصاف، یہ سراسر انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

 لہذا ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مکتب تشیع کے صبر کا امتحان نہ لیں اور ہمارے جوانوں کو جلد بازیاب کرائیں کسی نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اُسے عدالتوں میں پیش کیا جائے آئین اور قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے اور فوری طور پر انسانی حقوق کی پامالی روک لی جائے۔

وحدت نیوز (ٹوبہ ٹیک سنگھ/کمالیہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی ایڈوکیٹ نے کمالیہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مختلف مرحومین کے گھروں پر جاکر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔

ناصر شیرازی نے کمالیہ میں معروف صحافی ،ایڈیٹر ماہانہ العارف، سینئر تنظیمی رکن ارشاد حسین ناصر سے ان کی والدہ محترمہ کی ناگہانی وفات پر دلی افسوس اور رنج وغم کا اظہار کیا اور مرحومہ کی مغفرت کی دعا کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی بھی کی ۔

علاوہ ازیں ناصرشیرازی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سینئرتنظیمی دوست زاہد حسین مہدوی کے گھر جا کر ان کے والد بزرگوار کی رحلت پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا ،دعائے مغفرت اور فاتحہ خوانی بھی کی ، اس موقع پرجامعہ بعثت کے پرنسپل مولانا مہدی کاظمی ، ملک لعل حسین، پروفیسر محسن اور آئی ایس او کے اراکین بھی موجود تھے ۔

وحدت نیوز(گلگت) صوبائی سیکریٹریٹ مجلس وحدت مسلمین گلگت میں ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں برادران کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔پروگرام کا مقصد حلقہ دو کی تنظیم سازی کے حوالے سے تھا ۔ جس میں برادر شعیب کمال حلقہ  2 کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوگئے ہیں ۔

 پروگرام سے مرکزی تنظیم سازی محمد جان علی شاہ نے خطاب کیا اور کہا کے برادر شعیب کمال سے پرامید ہیں کہ وہ حلقہ دو کی نمائندگی بہترین انداز میں کریں گے ۔پروگرام سےشیخ  علی حیدر سینئررہنما ایم ڈبلیو ایم  نے خطاب کیا اور برادر شعیب کمال کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ برادر شعیب کمال سے ہماری بہت سے امیدیں وابستہ ہیں اور پارٹی فعالیت کے لئے بہترین انداز میں کام کریں گے ۔

پروگرام سے رکن شوری عالی برادر عارف قمبری نے خطاب کیا اور مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پارٹی کو حلقہ دو میں پہلے سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہم پر امید ہیں کہ ان شاء اللہ برادر شعیب کمال اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے اور پارٹی کو مزید فعال کرنے کی کوشش کریں گے ۔

Page 1 of 1110

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree