The Latest

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری آغا علی رضوی نے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید سے گزشتہ روز ٹیلی فون پر رابطہ کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی صحت عاجلہ و کاملہ کے لئے دعا کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 اس موقع پر آغا علی رضوی نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کی علاقے کی تعمیر و ترقی  کے لیے جاری کاوشوں کو سراہا اور خطے کو درپیش مسائل پر بھی باہمی گفت و شنید ہوئی۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت، تعلیم و صحت کے مسائل کے حل کے لیے جاری کاوشوں، گندم بحران کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور خطے کی تعمیر و ترقی کے لئے جاری جامع منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔

 اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حقوق سے محروم عوام کی توقعات موجودہ حکومت سے وابستہ ہیں۔ امید ہے آئینی حقوق سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے کوششیں تیز کریں گے۔ انہوں وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید سے گفتگو کرتے ہوئے مزید وہ اپنی صحت کا خیال رکھے اور گلگت بلتستان کے عوام ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔ خیریت دریافت کرنے کے لئے کال کرنے پر وزیر اعلی گلگت بلتستان نے آغا علی رضوی کا شکریہ ادا کیا۔

 

 

 

وحدت نیوز(لاہور)20 جمادی الثانی یوم ولادت دختر رسول خداؐ ، خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو یوم خواتین کے طور پر منایا جانے کے مطالبہ کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی گئی۔ قرارداد رکن پنجاب اسمبلی ومرکزی سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین محترمہ سیدہ زہرا نقوی نے جمع کروائی ۔

انہوں نے قرارداد میں مطالبہ کیا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں 20 جمادی الثانی کو یوم خواتین کے طور پر منایا جائے۔خاتون جنت سیدہ النساءالعالمین بی بی فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا کی سیرت عالمین کی تمام خواتین کے لئے مشعل راہ ہے ۔

بی بی سلام اللہ علیہاکی زندگی ایک مثالی ماں، مثالی بیٹی اور مثالی زوجہ کی حیثیت سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ ہے ۔حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کو یوم خواتین کے طور پر منانے کا رواج عام کیا جائے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین ضلع اسلام آباد کی طرف سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن راولپنڈی ڈویژن کے برادران کےاعزاز میں عشائیے کا اہتمام گیا جس میں دونوں تنظیموں کے اراکین کابینہ شریک ہوئے۔عشائیہ کے موقع پر ضلع اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل انجنئیر ظہیر عباس نقوی نے دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہم سب کو ماضی کی طرح  ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اہداف کے حصول کے لیے آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ ہم سب کا ہدف ایک ہی ہے جس کی راہ ہمیں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی نے دکھائی ہے۔

ضلعی سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ آئی ایس او ہماری قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور ملت کے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں بھی اہم اور بنیادی کردار اسی الہی تنظیم کا ہے اسی لیئے مجلس وحدت کی طرف سے امامیہ برادران کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کیا جائے گا۔

بعدازاں آئی ایس او راولپنڈی ڈویژن کے نو منتخب صدر برادرِ عزیز مظاہر عباس اور انکی کابینہ نے عشائیہ کا شکریہ ادا کیا آخر میں حالیہ ملکی صورتحال پر بھی مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں ڈیرہ اسماعیل خان  اور ملتان میں چار شیعہ مومنین کی شہادت اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور لاہور میں معصوم لوگوں پر ہونے والی بہیمانہ دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کے ساتھ ساتھ حکومت پر زور دیا گیا ملک میں ایک مرتبہ پھر سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بروقت اور موئثر اقدامات کیئے جائیں تاکہ معصوم لوگوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عشائیہ میں ایم ڈبلیو ایم ضلع اسلام آباد کی کابینہ اراکین میں سے برادر اعتزاز ،برادر اسداللہ اور برادر سید تقی بھی موجود تھے۔ اجلاس کا اختتام دعائے امام زمانہ ع ف ش سے کیا گیا۔

وحدت نیوز(کراچی) پاکستان پیپلزپارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلدیاتی بل کو جواز بنا کر سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے اس شہر، صوبے اور ملک کی خدمت کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ پیپلز پارٹی بلدیاتی بل کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو سننے اور اس پر غور کرنے پر تیار ہے البتہ کوئی یہ چاہے کہ 2001 کے آمر مشرف کا بلدیاتی نظام اس صوبے میں دوبارہ رائج کیا جائے تو یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ سندھ حکومت صوبے میں جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کی خواہ ہے، لیکن جب تک الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا کام مکمل نہیں کرلیتی یہ ممکن نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے جمعہ کے روز مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

 قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی اور صوبائی وزیر اطلاعات ومحنت سندھ سعید غنی کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی دفتر میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پر وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی سلمان مراد، اقبال ساندھ، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے جنرل سیکرٹری لالہ رحیم اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی ترجمان علامہ مبشر حسین، صوبائی سیاسی سیکرٹری علی حسین نقوی، کراچی ڈویژن کے سیکرٹری علامہ صادق جعفری، سیاسی سیکرٹری میر تقی ظفر، ملک غلام عباس، علی احمر، آصف صفوی اور دیگر بھی موجود تھے۔

ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے سندھ سمیت ملک بھر میں سیاسی صورتحال، ملک میں مہنگائی، بیروگاری، گیس و بجلی کے بحران کے علاوہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا کہ میں مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں کا شکر گذار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے رکھی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں ہمیں شرکت کرنا تھی لیکن کچھ مصروفیات کے باعث ہم شریک نہ ہوسکے تھے اور اسی لئے آج ہم نے ان سے ملاقات بھی کی ہے اور بلدیاتی نظام کے حوالے سے ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور ان کی جانب سے ہمیں اس اے پی سی میں جو فیصلے ان کے ہوئے ان کی منٹس بھی ہمیں فراہم کی ہے۔

سعید غنی نے کہاکہ ان کی جانب سے بلدیاتی نظام کے حوالے سے جو نکات اٹھائے ہیں ان میں زیادہ تر نکات سے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر میں مسائل کے حل کے لئے سندھ حکومت کام کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مزید صوبے اور اس شہر میں کام کی ضرورت ہے لیکن اس وقت کراچی شہر میں بلدیاتی قانون کو جواز بنا کر کچھ سیاسی جماعتیں اپنا قد اونچا کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کے لئے جو کچھ کررہی ہیں وہ دراصل حقیقی عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے کررہی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم نے 2013 کے قانون میں ترامیم کرکے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2001 کا آمر کا قانون کسی صورت بھی نافذ نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون پر اعتراضات کرتے ہوئے اپنے اعتراضات سڑکوں کی بجائے اسمبلی میں لائیں اور فلور پر تجاویز دیں۔

 اس موقع پرمجلس وحدت مسلمین کے علی حسین نقوی نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم نے کچھ روز قبل اے پی سی بعنوان تعمیر کراچی و تعمیر پاکستان کے عنوان سے رکھی تھی، انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تعمیر کراچی ہی تعمیر سندھ و پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی مضبوط ہو گا تو سندھ مضبوط اور سندھ مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا۔

علی حسین نے کہا کہ ہماری اس اے پی ایس کا مقصد وفاق کی جانب سے پیش کئے جانے والے گورکھ دھندوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک میں غریب بدحال ہے، ادویات کی قیمتوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے، بے روزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہمارے حکمران دعویٰ کررہے ہیں کہ ہمارے یہاں فی کس آمدنی 1600 ڈالر کو پہنچ چکی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام پر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی نیک نیتی سامنے نظر آرہی ہے اور مزید آنے والے وفد نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جو بھی مثبت اور عوامی مفاد میں تجاویز آئیں گی انہیں وہ ضرور غور کرکے بل کا حصہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وفد سے جماعت اسلامی کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ ہماری ماں بہنیں اور بھائی کئی روز سے احتجاج پرہیں اس حوالے سے بھی ان سے بات چیت کی جائے، جس پر انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ان سے مزاکرات کریں گے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی کے اس موقف کی حمایت کرتے ہیں کہ جو کچھ یہاں بلدیاتی قانون کی آڑ میں ہورہا ہے، وہ دراصل منی بجٹ اور مہنگائی سمیت دیگر عوامی اشیوز سے توجہ ہٹانے کے لئے ہورہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ بلا شبہ شہید ذوالفقار علی سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضرور تھے، کیونکہ ایک فوجی آمر یحییٰ خان جو اس وقت چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹرتھے ان سے سول حکومت کو حکومت ٹرانسفر کرنا تھی اور ملک میں اس وقت تک کوئی آئین موجود نہیں تھا۔

 انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت چند ماہ کے اندر اندر ایک عبوری آئین دیا اور بعد ازاں ایک ایسا آئین دیا جو آج تک اس ملک میں رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پر تنقید کرنے والوں کو ماضی کے حالات کو دیکھ کر تنقید کرنا چاہیئے کیونکہ اس وقت سولین مارشل لا حالات کا تقاضہ تھا،۔

 ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ضیا الحق کے جس بلدیاتی قانون کے تحت جماعت اسلامی کے افغانی مئیر بنے اور جس طرح بھی وہ اقلیت کے باوجود مئیر بنائے گئے یہ وہی قانون تھا، جو ذولفقار علی بھٹو نے 1972 میں بنایا تھا اور اس وقت الیکشن نہیں ہوسکے تھے اور بعد ازاں اس قانون میں کچھ ترامیم کرکے 1979 کا قانون بنا تھا۔

 ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ حکومتوں کی کارکردگی عوام کے ووٹوں سے جانچی جاتی ہے اور سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ووٹ دئیے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین سے ملاقات سیاسی پارٹی گنتی ہونے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا یہاں اور دیگر سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کا مطلب ہرگز سیاسی جماعتوں کی گنتی نہیں بلکہ انہیں بلدیاتی قانون کی حقیقت اور اس پر کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عوام کو گمراہ کئے جانے کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایم ڈبلیو ایم کے علی حسین نقوی نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ 2001 کا مشرف والا قانون اس صوبے میں دوبارہ رائج کیا جائے تو یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، وہ کسی بھی جماعت کی جانب سے آئیں اس پر غور ہونا چاہیئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ملک میں حالیہ دہشتگردی کے جو واقعات ہوئے ہیں اس پر صرف تھریڈ لیٹر کی بجائے عملی طور پر اداروں کو کارروائی کرنا ہوگی۔

 لیاری کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے خاتون رکن اسمبلی کو حراساں کئے جانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو حراساں کرنا یا اسے نازیباں ایس ایم ایس کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس واقعہ کانوٹس لیا ہے اور اس کی تحقیقات کی جارہی ہے اور اگر اس میں وائس چانسلر بھی ملوث ہوئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ بلدیاتی ادارے مادر پدر آزاد نہیں ہوسکتے، انہوں نے کہا کہ منصوبوں کی لاگت کی بنیاد پر طے ہوتاہے کہ منصوبہ کہاں سے چلناہے، انہوں نے کہا کہ کوئی یونین کمیٹی یہ نہیں کہہ سکتی کہ صوبے کا بجٹ وہ بنائیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی)دعا کمیٹی اور صوبائی سیکریٹریٹ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ھفتہ وار اجتماعی دعائے توسل و ماتمداری اور مجلس عزا بسلسلہ وفات مادر ابوالفضل العباس علیہ السلام حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا کا محفل شاہ خراسان روڈ علم عباس علمدار علیہ السلام کے سائے میں منعقد ہوئی جس میں مومنین و مومنات نے شرکت کی جبکہ مولانا منظر عباس زیدی، کمیل کرجت والا نے دعا کی تلاوت کا شرف حاصل کیا سلام رضی زیدی، ماسٹر اشعر رضا نے پیش کی نوحہ خوانی وسنیہ زنی برادر وسیم عباس، عدنان کربلائی نے کی۔

 دعا کمیٹی کے رکن ذاکر اہلبیت سید سجاد شبیر رضوی نے مجلس حضرت فاطمہ ام البنین سلام اللہ علیہا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شہید ہونے والے آل محمدؐ کی محبت میں مارے گئے۔بے گناہ افراد کی شہادت کے بعد حکمران حکومت کرنے کا حق کھوچکے ہیں۔آل محمدؐ سے محبت کرنا جرم ہے تو یہ جرم قائداعظم محمد علی جناح نے بھی کیا ہے۔ایک شیعہ نوجوان کی شہادت سے پورا خاندان مسائل کا شکار ہوجاتا ہے. ہماری قوم کے بچوں میں مثالی جذبہ موجود ہے ۔ہمارے بچے شہید قاسم سلیمانی اور سید حسن نصراللہ بنتے ہیں۔ہمیں قاسم سلیمانی پر فخر ہے ۔قاسم سلیمانی نے دنیا کے ایوانوں کو ہلادیا ہے ۔علیؑ کے غلام موت سے ڈرتے نہیں ہیں۔

مولانا سجاد شبیر نے عامر لیاقت کی گفتگو کو بھی تنقید کانشانہ بنایا اوراس کی شدید مذمت کی۔اس موقع پر گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں سپاہ یزید کے ہاتھوں دوکان پر فائرنگ کرکے شہید ہونے والے محب اہلبیت کے درجات بلندی اور مولانا احمر حسین کی والدہ محترمہ کے ایصال الثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور شرکاء میں تبرک تقسیم کیا گیا۔

وحدت نیوز(لاہور)مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے لاہور انارکلی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملک دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا. انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائے بغیر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عسکریت پسندوں کے اچھے اور برے کے مغالطے سے نکلنا ہوگا. انہوں نے  دھماکے میں جاں بحق ہونے والے شہری محمد رمضان اور کمسن ابصار کے خانوادے سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگواران کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے زخمیوں کی دیکھ بھال پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ زخمیوں  کیلئے طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے . دھماکے سے متاثرہ افراد کی اکثریت ٹھیلوں اور ریڑھی لگانے والے دیہاڑی دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے . پنجاب حکومت جاں بحق اور زخمی شہریوں کیلئے معقول امدادی رقوم کا اعلان کرے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور کے علاقے انارکلی میں بم دھماکے کی شدید مذمت اور بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر  معمولی دیہاڑی دار افراد کو شہید کرنے کے بزدلانہ جرم کے ارتکاب پر عبرتناک انجام کے مستحق ہیں۔ملک دشمن عناصر کی کارروائیوں کو لگام ڈالنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جیتی ہوئی جنگ کو شکست میں بدلنے نہیں دیا جائے گا۔وطن عزیز کی سالمیت و بقا دہشت گردی کے مکمل خاتمے سے مشروط ہے۔تکفیری گروہ استکباری طاقتوں کی ایما پر ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ ملک دشمنوں کے عبرتناک انجام کے لیے ریاستی ادارے اپنا آئینی کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو حکومت کی طرف سے مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور شہداء کے لواحقین کی دادرسی کی جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) پنجاب حکومت کی جانب سے متحدہ قرآن بورڈ پنجاب کی تشکیل نوکردی گئی،چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا چیئر مین مقرر، ایم ڈبلیوایم کے 3مرکزی قائدین بھی بورڈ کے اراکین میں شامل ، باقائدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
 
 تفصیلات کے مطابق متحدہ قرآن بورڈ پنجاب کی تشکیل نو کر دی گئی۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزاہ حامد رضا کو متحدہ قرآن بورڈ پنجاب کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ قرآن بورڈ میں 16 علما، ماہرین تعلیم، 7 افسران، چار رضاکار بھی شامل ہیں۔ بورڈ میں چاروں مکاتب فکر بریلوی، اہلحدیث، دیوبندی اور اہل تشیع کے علما کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

متحدہ قرآن بورڈ پنجاب میں شامل شیعہ مکتب فکر کے علماء میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سابق مرکزی رہنما و سیکریٹری جنرل پنجاب مولانا مبارک علی موسوی، رکن شوریٰ عالی مولانا حسنین عباس گردیزی، مرکزی رہنما شعبہ خواتین محترمہ معصومہ نقوی ،جامعہ بعثت پاکستان کے مولانا حافظ حیدر نقوی جبکہ دیگر مسالک کے علماء میں خواجہ قمرالدین جمالی، مفتی کریم خان، پروفیسر اختر کلثوم، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا فضل رحیم، حافظ عبدالوہاب روپڑی شامل ہیں۔

صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ متحدہ قرآن بورڈ کے ممبران کی تعیناتی میں میرٹ کو یقینی بنایا گیا ہے، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ایک سال فعل کی بحث و تمحیص کے بعد ان کا تعین کیا گیا ہے۔ چیئرمین قرآن بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ میں قرآن مجید کے ماہرین شامل ہیں، جنہوں نے کلام الہی پر کام کیا ہے، قواعد کے مطابق پہلی بار چاروں اسلامی مکاتب فکر کی ماہر خواتین ممبران بھی شامل کی گئی ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی خواتین کی نشست سے خطاب کرتے ہوئے خانم سیدہ نرگس سجاد جعفری نے کہا گلگت بلتستان سی پیک میں نہایت اہم کردار رکھتا ہے خطے کے مسائل کا حل مجلس وحدت مسلمین کی ترجیح ہے۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان گلگت بلتستان کی حکومت میں شامل ہوکر خطے کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی خطے کی قسمت بدلنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی تاریخ گواہ ہے ہر مشکل وقت میں ایم ڈبلیو ایم کی قیادت جی بی کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ چاہے آئینی حقوق کی جنگ ہو یا گندم کی سبسڈی کا مسئلہ ہو مجلس کی قیادت ہمیشہ صف اول میں نظر آئی۔

خانم سیدہ نرگس سجاد جعفری کا کہنا تھا کہ خواتین معاشرے کا اہم جزو ہے مجلس وحدت مسلمین ان کے سیاسی کردار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہم اسمبلی سے بلدیات تک نمائندگی کیلئے خواتین کو آگے لے کر آرہے ہیں۔ نشست میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی پروفیشنل خواتین کا وفد شریک ہوا اس۔ موقع پرایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی مرکزی دفتر کی مسئول خواہر بینا شاہ اور ضلع اسلام آباد کی جنرل سیکرٹری خواہر صدیقہ کائنات بھی موجود تھیں۔

وحدت نیوز(اٹک)امام ِ وقت عج کو بھی ویسے ہی ناصرین کی ضرورت جیسے امام حسین علیہ السلام کے تھے بلکہ جیسے پاک بی بی سیدہ ع نے قیام کیا اور وہ پہلی شخصیت تھیں جو دفاع امامت کے لیے کھڑی ہوئی ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امام وقت کے دفاع کے لیے آمادہ ہونا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار محترمہ فائزہ نے مجالس خمسہ جو کہ ایام فاطمیہ کے سلسلے میں امام بارگاہ حسینیہ کامپور سیداں میں ہوئی  جن کا انعقاد مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی جانب سے کیا گیا تھا اس میں بیان کیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہاگر ہم راہ راست پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں سچوں کے ساتھ ہوجانا چاہیے بے شک اس میں ہی ہماری نجات ہےآخری مجلسِ سے خواہر خشنودہ نے خطاب کیا جس میں انہوں نے جنا ب سیدہ کے فضائل بیان کیے اورآخر میں بی بی کا تابوت بھی برآمد کیا گیا۔

Page 1 of 1186

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree