The Latest

lhr.kami
مجلسِ وحدت ِ مسلمین پاکستان لاہور کے سیکریٹری جنرل مولانا اقبال کامرانی نے مسجد القائم کینال ویو لاہور میں نمازِ عید کی امامت کی ، نماز سے قبل مجلسِ وحدت ِ مسلمین پاکستان لاہور کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل برادر شیخ عمران نے مختصر خطاب کیا
انہوں نے ملـت تشیع پاکستان پر ہونے والے حالیہ مظالم کا تذکرہ کیا اور لوگوں ست اپیل کی کہ نمازِ عید سیاہ پٹیاں بازو پر باندھ کر ادا کریں اور اس موقع پر ان شہداء کو نہ بھولیں ، انہوں نے اتحاد اور وحدت پر زور دیا ۔ نمازیوں نے بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں ۔ خطبہ میں مجلسِ وحدت ِ مسلمین پاکستان لاہور کے سیکریٹری جنرل مولانا اقبال کامرانی نے بھی لوگوں میں اجتماعی شعور اجاگر کرنے پر زور دیا ، انہوں نے فرمایا کہ وحدت ہی ہمارے مسائل کا حل ہے ، جن ملکوں میں تشیع طاقت میں ہیں وہاں امن ، سکون اور معاشی خوشحالی ہے

karachimirza

بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ اورحکومت و انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین ،برادر علی اوسط مولانا شیخ حسن صلاح الدین مولانا صادق رضا تقوی علامہ آفتاب حیدر جعفری مولانا محمد حسین کریمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بابو سر اور سانحہ یوم القدس کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم عید کو یوم سوگ کے طور پر منایا جائے گا اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جاری شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ کے ساتھ ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرپرست حکومت ،نا اہل پولیس اور رینجرز انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا اور تمام تر حالات ذمہ داری حکومت پر ہو گی ۔
انہوں نے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ پاکستان کی نسل کشی کا سلسلہ گذشتہ طویل عرصہ سے اور بالخصوص چند سالوں سے مزید شدت سے جاری ہے اور کبھی مساجد و امام بارگاہوں میں فائرنگ کے ذریعے تو کبھی عزاداری کے جلوسوں میں بم دھماکوں کے ذریعے ،اور کبھی بازاروں میں اور کبھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شیعہ عمائدین کو قتل کیا جاتا رہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب مسافر بسو ںسے بھی مسافروں کو اتار اتار کر ان کے شناختی کارڈ دیکھے جاتے ہیں اور شیعہ ثابت ہو جانے پر سفاکانہ طریقے سے شہید کر دیا جاتا ہے جس کے تازہ ترین مثالیں آپ کے سامنے سانحہ چلاس میں درجنوں شیعہ مسافر وں کا قتل اور دو روز قبل سانحہ بابو سر میں پچیس شیعہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
آپ بخوبی واقف ہیں کہ دشمن اسلام و پاکستان امریکہ ،اسرائیل اور بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے کمزور کرنے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف عمل ہیں جس کی واضح مثالیں آپ کے سامنے سانحہ کامرہ اور اس کے یکے بعد دیگر سانحہ بابوسر اور پھر اسی طرح اگلے ہی روز یوم القدس کی ریلی میں شریک ہونے والے افراد پر بم حملہ کیا جانا ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں اور ملک دشمن عناصر امریکہ،اسرائیل اور بھارت کے مقامی ایجنٹوں کی کاروائی ہے جو مملکت خداداد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں ۔ملت جعفریہ پاکستان نے ہمیشہ مملکت پاکستان کی بقاء و سلامتی کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سانحہ یوم القدس کے فوراً بعد ملت جعفریہ کے علمائے کرام ،زعماء اور اداروں نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ یوم القدس ریلی میں شہید ہونے والے معصوم افراد کے قتل کا مقدمہ دہشت گردہ کی جڑ کراچی میں موجود امریکی قونصل جنرل کے خلاف درج کی جائے گی۔
ایک طرف تو ملک دشمن قوتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی ناپاک سازشیں کر رہی ہیں دوسری جانب پولیس اور رینجرز انتظامیہ جو عوام الناس کو سیکورٹی فراہم کرنے میں برہ طرح ناکام ہو نے کے بعد اب دہشت گردی کا شکار ملت جعفریہ کے عمائدین کے گھروں میں چھاپے مار کر بے گناہ افراد کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان سے بھاری رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انتہائی شرمناک فعل ہے ۔جہاں یہ ناکام اور نا اہل پولیس و رینجرز انتظامیہ کراچی میں امن وامان قائم کرنے میں ناکام ہیں وہاں شیعہ بے گناہوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور کراچی کے مختلف علاقوں میں شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین سے بد تمیزی اور بد سلوکی کرنے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔ملت جعفریہ نے ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن گذشتہ دو دنوں سے ملت جعفریہ کے خلاف ہونے والے بلا جواز آپریشن اور پولیس و رینجرز انتظامیہ کی جانب سے خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ کوئی سنگین اقدام کیا جائے ۔ایک طرف ملت جعفریہ کو دہشت گردہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کے سرپرست پولیس و رینجرز انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ملت جعفریہ کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیتے ہیں جس سے واضح ہو تاہے کہ ملک دشمن قوتوں کے مقامی ایجنٹ دہشت گرد وں کو پولیس اور رینجرز کی بھرپور حمایت حاصل ہے ،گذشتہ دو دنوں میں ملت جعفریہ کے دو درجن سے زائد بے گناہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں جعفر طیار،انچولی ،حسن کالونی ،ناظم آباد،نیو کراچی اور متعدد مقامات سے بلا کسی جرم و خطا کے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شہر کراچی کے امن کو خراب کرنے والے وہی عناصر اور قوتیں ہیں جنہوںنے ماضی میں لسانی فسادات کو ہوا دی اور اب ملت جعفریہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر اپنے غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے میں مصروف عمل ہیں اور یہی وہ عناصر ہیں جو ہمیشہ لسانی فسادات کروا کر سیاست کرتے رہے ہیں اور آج ایک سوچے سمجھے ناپاک منصوبے کے تحت پہلے شہر کراچی میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی جانے والی القدس ریلی کے شرکاء کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں دو نوجوان شہید ہوئے او ر اس کے بعد شہر بھر میں خون کی ہولی کھیلنے کا منصوبہ بنایا ۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متعصب پولیس اور رینجرز انتظامیہ کی جانب سے گرفتار کئے گئے شیعہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے اور سانحہ القدس میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیاجائے ،ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر شیعہ آبادیوں پر آپریشن اور چھاپوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کو نہ روکا گیا تو سنگین نتایج برآمد ہوں گے جبکہ ملت جعفریہ عید کے روز کو یوم احتجاج میں تبدیل کر دے گی اور تمام تر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ہم حکومت کو باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر جن کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے اگر ان کو لگام نہ دی گئی اور گرفتار کر کے سزا نہ دی گئی تو ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ہم حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں پولیس اور رینجرز کی وردی میں ملبوس دہشت گرد عناصر کا صفایا کیا جائے جو متعصبانہ اور دہشت گردانہ سوچ کے حامل ہیں اور شیعہ آبادیوں پر آپریشن کے دوران خواتین سے بد تمیز ی کے مرتکب ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے ۔ہم نے یوم القدس ریلی کے شرکاء پر ہونے والے بم حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کے لئے درخواست جمع کروا دی ہے اور جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے ان کے خلاف اور کراچی میں موجود امریکی قونصل جنرل کے خلاف جلد از جلد ایف آئی آر درج کر کے گرفتار کیا جائے اور مقدمہ قائم کیا جائے ۔اور اگر امریکی قونصل جنرل کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔
سانحہ بابو سر اور سانحہ یوم القدس کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم عید کو یوم سوگ کے طور پر منایا جائے گا اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جاری شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوںکا سلسلہ بند نہ ہوا اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو یوم عید کے روز یوم سوگ کے ساتھ ملک بھر میں دہشت گردوں کی سرپرست حکومت ،نا اہل پولیس اور رینجرز انتظامیہ کے خلاف یوم احتجاج منایا جائے گا اور تمام تر حالات ذمہ داری حکومت پر ہو گی

eid3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پیغام میں پاکستان بھر کے اہل تشیع سے اپیل کی ہے کہ وہ سانحہ بابو سر کے شہداء سے اظہار یکجہتی کے لیے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز عید میں شریک ہوں اور اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف پرزور احتجاج کریں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ گلگت بلتستان کے معصوم لوگوں کے قتل کے واقعات میں ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ کوئٹہ سے گلگت تک اہل تشیع کے منظم قتل عام میں دہشت گردوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے، پاکستان کے بانی اور وارث ہم ہیں اور ہم میں یہ صلاحیت ہے کہ ان مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو سبق سکھا سکیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں تو ہم دفاع وطن میں خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دینا پاکستان کے مفاد کے برعکس ہے، حکمران امن عامہ کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، ملک مزید خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا، بروقت تدارک نہ کیا گیا تو سامراجی قوتیں دہشت گردوں کے ذریعے شام جیسے حالات پیدا کر سکتی ہیں، جس کا خمیازہ ہماری اگلی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سانحہ بابوسر کے ذمہ داروں کی گرفتاری عمل میں نہ آئی تو عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں احتجاجی کال دیں گے اور تمام حالات کی ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں پر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے حکومت اور عوام کو امریکی سفارت کاروں کی گلگت میں آزادانہ نقل و حمل کے بارے میں آگاہ کرتے آئے ہیں، لیکن اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ عوام کے غم و غصہ کو قابو میں رکھنا اب ہمارے بس کی بات نہیں رہی، لہٰذا حکومت ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لے۔

Ghizar-Protest

گلگت میں نماز عید کے بعد دسیوں ہزار افراد نے مجلس وحدت مسلمین گلگت اور امامیہ اسٹوڈینس کی کال پر مظاہرہ کیا اور ریلی برآمد ہوئی ریلی نے اقوام متحدہ کے مشن آفس کے سامنے دھرنا دیا اور اہل تشیع کے قتل عام روکنے میں ریاست کی عدم دلچسپی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی 
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت اور سیکوریٹی اداروں کے لئے اہل تشیع کا قتل عام کی کوئی خاص اہمیت نہیں اور وہ صرف اس کو ایک ایڈونچر سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھتی اور اہل تشیع کا قتل عام وہ لوگ کر رہے ہیں جن کو ریاستی آشرباد حاصل ہے

siyahpatti

ملک بھر میں آج نماز عید کے شرکاء نے بازو پر سیاہ پٹیاں باندھی اور نماز عید میں شرکت کی جبکہ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئے عیدکی مبارکبادی کے ساتھ شیعہ نسل کشی کی تعزیت بھی پیش کرتے رہے جبکہ عوام نے عید کے دن سانحہ بابوسرٹاپ ،کراچی،کوئٹہ اور ملک بھر میں ملت جعفریہ کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی ملک کے بعض مقامات پر شہداء کی قبروں پر حاضری دی گئی 
سکردو میں ملت جعفریہ نے عید کی نماز کے دوران ریاستی سرپرستی میں اہل تشیع کے قتل عام کے خلاف شدید نعرہ بازی کی جبکہ عید کی نماز کے بعد دسیوں ہزار افراد کی ریلی یادگار شہداء سے برآمد ہوئی 
ادھر پاراچنار،ڈی آئی خان اور کوئٹہ میں شہداء اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شہداء قبرستان میں حاضری دی اور شہیدوں کے مزار پر فاتحہ خوانی کی گلگت اور ستور کے مختلف مقامات میں بھی لوگوں نے نماز عید کے بعد شہیدوں کے مزار پر حاضری دی 
گلگت بلتستان کی فضاء اس وقت مکمل سوگوار ہے اور عوام میں شدید غم وغصہ پایاجاتاہے عوام کا کہنا ہے کہ اب انہیں یہ احساس ہورہا ہے کہ اس یہ قتل عام ایک منظم سازش کا حصہ ہے جس میں ریاستی ادارے ملوث ہیں اور دہشت گردوں کو آشرباد حاصل ہے

break

سکردو میں سانحہ بابوسر ٹاپ کے سوگ میں آج چوتھے روزبھی بازار مکمل طور پر بند رہا جبکہ شہرکی فضاء سوگوار رہی 
آج صبح نماز عید کے بعد مجلس وحدت مسلمین بلتستان،امامیہ مرکز،آئی ایس او کی جانب سے سے امامیہ مرکز بلتستان کی زیر قیادت نماز عید کے بعد یادگار چوگ سے ایک ریلی نکالی جو اس وقت حمید گڑھ چوک پر دھرنالگائے بیٹھی ہے 
ریلی کے شرکاء حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسلسل ہونے والے تین سانحے ’’سانحہ کوہستان،سانحہ چلاس اور سانحہ ،بابوسرٹاپ کے قاتلوں کو کی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور ان علاقوں میں آپریشن کیا جائےعوام کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے قتل عام میں ریاست شریک ہے اور ریاستی اداروں کی سرپرستی میں یہ قتل عام ہورہا ہے  

eid2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پیغام میں پاکستان بھر کے اہل تشیع سے اپیل کی ہے کہ وہ سانحہ بابو سر کے شہداء سے اظہار یکجہتی کے لیے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز عید میں شریک ہوں اور اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف پرزور احتجاج کریں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ گلگت بلتستان کے معصوم لوگوں کے قتل کے واقعات میں ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ کوئٹہ سے گلگت تک اہل تشیع کے منظم قتل عام میں دہشت گردوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے، پاکستان کے بانی اور وارث ہم ہیں اور ہم میں یہ صلاحیت ہے کہ ان مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کو سبق سکھا سکیں، ریاستی ادارے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں تو ہم دفاع وطن میں خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دینا پاکستان کے مفاد کے برعکس ہے، حکمران امن عامہ کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، ملک مزید خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہو سکتا، بروقت تدارک نہ کیا گیا تو سامراجی قوتیں دہشت گردوں کے ذریعے شام جیسے حالات پیدا کر سکتی ہیں، جس کا خمیازہ ہماری اگلی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سانحہ بابوسر کے ذمہ داروں کی گرفتاری عمل میں نہ آئی تو عیدالفطر کے بعد ملک بھر میں احتجاجی کال دیں گے اور تمام حالات کی ذمہ داری حکومت اور ریاستی اداروں پر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے حکومت اور عوام کو امریکی سفارت کاروں کی گلگت میں آزادانہ نقل و حمل کے بارے میں آگاہ کرتے آئے ہیں، لیکن اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ عوام کے غم و غصہ کو قابو میں رکھنا اب ہمارے بس کی بات نہیں رہی، لہٰذا حکومت ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لے۔

shiaklling

قلم اب مجبورہے کہ ایسے الفاظ لکھے جو اسے کبھی بھی پسند نہیں،صفحہ قرطاس لاچار ہے کہ ایسے تلخ الفاظ کا بوجھ برداشت کرے جسے اٹھانے کا تصور بھی کبھی اس نے نہیں کیا تھا
آخر کار کبھی نہ کبھی اس تلخ حقیقت کا قلم اور قرطاس نے سامنا کرنا ہی تھا کیونکہ اگر یہ سامنا نہ کریں تو پھر وہ مقصد مر جائے گا جو اس تلخ حقیقت کی چھری تلے مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے 
یہ تلخ اور انتہائی کریہہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کے قتل عام کوروکنے کے بارے میں ریاست سمیت تمام سیکوریٹی کی کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی اور نہ ریاستی ڈنڈے سے گھبرایا ہوا میڈیا اس قتل عام اور مظلومیت کے حوالے سے کوئی خاص کام کرسکتا ہے کیونکہ میڈیا نے جہاں بھی آواز اٹھائی وہیں پر اس کا گلہ گھونٹ دیا گیا یا پھر اس صحافی کی لاش کسی ویرانے میں پڑی ملی یا شیعہ کلنگ نامی ایک ویب سائیڈ نے جب اہل تشیع کی مظلومیت کو اجاگر کرنا شروع کردیا تو ریاست نے اسے بند کردیا
اگر خود اہل تشیع آواز اٹھائیں تو فورا مخصوص ڈسک بنادئے جاتے ہیں اور پھر ٹاسک دیا جاتا ہے کہ انہیں ٹکڑے کرو ہراساں کرو ختم کرو ،گلی گلی میں عام آدمی اس صورت حال پر کہتا ہے کہ ہم ہی قتل ہوں ہم ہی کو ریاست جیل میں ڈالے ہم پر ظلم و ستم ڈھائے جس کی تازہ ترین مثال کراچی میں گذشتہ دو تین دن سے ہونے والے واقعات ہیں کہ بے گناہ جوانوں کو فورسز پکڑپکڑ کر لے جارہی ہے 
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ چیکوراکیسے بنا؟بلوچ کیوں ناراض ہیں؟کیوں (خاکم بدہن )ملک ٹوٹنے کی بات کی جارہی ہے کیا یہ سب میڈیا کی باتیں ؟لیکن اب بچہ بچہ سمجھ رہا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے 
یہ حقیقت اب واضح ہے کہ انتہائی پلان کے ساتھ ایک مخصوص سوچ جو ملک کے تقریبا ہر شعبہ زندگی میں اثر رسوخ رکھتی ہے آفشل یا ان آفشل طور پر اس سوچ کو سپورٹ حاصل ہے جوملک میں اہل تشیع کی نسل کشی کا ایجنڈا رکھتی ہے جس کی جانب ڈان نیوز اخبار نے بھی اشارتا کچھ کہا ہے ،اور اردو زبان کے ایکسپریس اخبار نے بھی اسی جانب لکھا ہے 
صورت حال ایسی بنتی جارہی ہے کہ سنجیدہ افراد کو عام شیعہ کو سمجھانا مشکل ہورہا ہے کہ وہ ایسے حالات کا سامنا اب بھی پرامن انداز سے کرے و اب بھی صبر سے کام لے ۔
اب شدت سے اس بات کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں کہ جبر اور تشددکا جواب کہیں تشدد سے نہ دیا جائے 
جو قطعی طور پر نہ صرف ملک و قوم کے لئے درست نہیں بلکہ خود اہل تشیع مکتب کے عقیدے اور اس کی تعلیمات کی بھی خلاف ہے لیکن تنگ آمد بجنگ آمد وہ انسانی ردعمل ہے جو کسی خاص مذہب فرقہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ بحثیت انسان ہر انسان پر لاگو ہوتا ہے خاص کر کہ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ یہ احساس پیدا ہوجائے کہ ریاست اور ذمہ دار ادارے بھی ان کے ساتھ ناانصافی برتتے جارہے ہیں اور انہیں انصاف نہیں مل رہا خواہ کسی تھانے کا ایس ایچ او ہو یا پھر عالیٰ عدلیہ ،ملکی سربراہ کو یا پھر سیکوریٹی کے ادارے ایک عام شیعہ اپنے لئے نہ صرف اجنبیت کا احساس کرچکا ہے کہ بلکہ اس خود پرہونے والے ظلم میں شریک نظر آنے لگا ہے شاید اسی اجنبیت کے بڑھتے ہوااحساس ہے کہ جسے عالمی سامرج سے اہم آہنگ اداروں نے محسوس کرلیا ہے جس مثال حالیہ دنوں میں ہیومن رائٹس کمیشن اور اقوام متحدہ کی جانب سے سانحہ بابوسرٹاپ پرجاری ہونے والا مذمتی بیان اور شیعہ نسل کشی کی جانب دنیا کو متوجہ کرنا ہے۔ 
جس طرح کی صورت حال جارہی ہے اس دیکھ کر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ شاید یہ انسانی معاشروں کا آخری وقت ہے
یہاں انصاف اسے ملے گا جس کے پاس لاٹھی ہوگی جو شرافت دیکھائے گا اور انسانی قدروں اور اپنے مذہب کی قدروں کی پابندی کریگا اسے کمزورسمجھ کر مرگ مفاجات سے دوچار کیا جائے گا 
ہمارا خیال ہے کہ اب بھی کچھ وقت ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جوبڑھتی ہوئی اجنبیت کے خلاء کو پر کیا جاسکے اور آنے والا خطرناک حالات کو روکا جائے 

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

Red-hand-fingerprints-blood
ریاستی پروردہ قاتلوں کے ہاتھوںملک بھرمیں 181دنوں میں شہید ہونے والے 242بے گناہ مظلوم شہدوں کی پکار

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتاہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغِ بیداد پہ یا لاشہء بسمل پہ جمے

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسواسے کہو
جبر کی حکمتِ پرکارکے ایما سے کہو
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہء تند ہے خرمن پہ لپک سکتا ہے

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے

(حکمرانوں جان لو کہ تم کیا کر رہے ہو )
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

mwmlogo

گوجرانوالہ میں  ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے القدس ریلی کا انعقادشیعان حیدر کرار ؑ ۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع گوجرانوالہ کی کال پر القدس موٹر سائکل ریلی مرکزی امام بارگاہ گلستان معرفت کالج روڈ سے شروع ہو ئی اور مسجد و امام بارگاہ حسینہ ؑ قلعہ دیدار سنگھ میں ختم ہوئی بعد ازاں احتجاجی جلوس نکالا گیا جو مسجد حسینیہ ؑ سے شروع ہوا اور تھانہ قلعہ دیدار سنگھ کے سامنے اختتام پذیر ہوا مقررین نے جلوس کے شرکاء سے اسرائیل کے مسجد اقصیٰ پر قبضے اور پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف خطاب کیا اور حکومت و چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کے ساتھ ملت جعفریہ کے جوانوں کو شہید کیا جارہا ہے ، ان دہشت گردوں کو گرفتار کر کے سر عام سزا دی جائے گوجرانوالہ سے مختار فورس ، اور آئی ایس او کے کارکنان نے قلعہ دیدار سنگھ کے جلوس میں مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ شرکت کی ۔ بعد ازاں شیعان حیدر کرار کا ایک ہنگامی اجلاس امام بارگاہ علی زین العابدین میں زیر صدارت چیف آرگنائزر میاں فرحت عباس جعفری 
منعقد ہوا جس میں سابق نشرو اشاعت سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم گوجرانوالہ سید اصغر علی زیدی سید وقار حیدر زیدی ، سید میثم شیرازی کمانڈر مختار فورس ، سید ظفر عباس ٹھولے شاہ ، حفیظ جعفری آرگنائزر شیعان حیدر کرار ؑ قلعہ دیدار سنگھ ، سید انیس رضا نقوی صدر ماتمی سنگت ملکہ وفا ؑ سید اختر حسین نقوی ۔ سید علمدار حسین شیرازی ، سید عظیم بخاری و دیگر ذیلی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں سانحہ بابو سر کے خلاف قرار داد منظور کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے اور پاکستان میں ملت جعفریہ 
کے تحفظ کو یقینی بنائے 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree