The Latest

نامور شیعہ آئمہ مساجد، علمائے کرام اور اکابرین نے سانحہ کوئٹہ کے ردعمل میں شیعہ علمائے کرام کے بھرپور کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کوئٹہ اور ملک بھر میں احتجاجی دھرنے ختم کرنے کے فیصلہ کو درست قرار دیا اور اس کی تائید کی۔ ممتاز شیعہ علمائے کرام مولانا شہنشاہ حسین نقوی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا شبیر الحسن طاہری، مولانا نعیم الحسن الحسینی، مولانا شیخ غلام محمد سلیم، مولانا رضی حیدر، مولانا شیخ غلام علی وزیری، مولانا باقر عباس زیدی، مولانا احمد علی امینی، مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا صادق رضا تقوی، مولانا علی افضال، مولانا محمد حسین کریمی، مولانا علی انور، مولانا عقیل موسیٰ اور دیگر نے کراچی پریس کلب میں میڈیا کانفرنس سے خطاب اور مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے 114 شہداء کے جنازوں کی تدفین کو مطالبات کی منظوری تک احتجاجاً دھرنے کی صورت میں رکھا گیا۔ سانحہ کوئٹہ کے شہداء کے لواحقین، شیعہ اکابرین اور علماء نے حکومتی وفد سے 20 مطالبات منظور کروانے کے بعد باہمی اتفاق سے جنازوں کی تدفین کی اور پورے ملک میں پرامن اور باوقار دھرنوں کے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کی اکابرین و علماء نے بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ یکجہتی کونسل کی جانب سے 3 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں سردار سعادت علی ہزارہ، سردار قیوم چنگیزی اور محترمہ رقیہ ہاشمی 10 سے 15 روز میں ان مطالبات پر عمل درآمد کروائیں گے۔

علمائے کرام کے مطابق اہم مطالبات میں کوئٹہ اور بیرون کوئٹہ ٹارگٹڈ آپریشن، کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم سپاہ صحابہ (موجودہ نام اہل سنت و الجماعت) کے لیڈروں کے خلاف ملک بھر میں کارروائی، بے گناہ شیعہ و ہزارہ شیعہ افراد کی باعزت رہائی، گذشتہ سانحات کے شہداء کے ورثاء کو مالی امداد کی فوری ادائیگی، سانحہ ہزارہ ٹاؤن کے شہداء کے ورثاء اور جن کا مالی نقصان ہوا، ان کو معاوضے کی ادائیگی، یوم القدس اور دیگر ایام میں شیعہ کے معززین کے خلاف جھوٹے مقدمات کی واپسی، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں شیعہ افراد، طلبا و طالبات، تاجر برادری، سرکاری ملازمین اور زائرین کے لئے فول پروف سیکیورٹی اور ان کے ساتھ متعصبانہ رویے کا خاتمہ، کالعدم دہشت گرد گروہوں پرجو نام بدل کر سانحات و واقعات کی ذمے داری قبول کرتے ہیں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں پر پابندی اور ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا، میڈیا کے افراد کا تحفظ، سابق حکومت کے وزرا جو دہشت گردی میں ملوث رہے یا دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہے اور جن کا ذکر بلوچستان اسمبلی اور دیگر فورم پر بارہا کیا گیا ان کی گرفتاری اور تفتیش، اہل تشیع کو آسان طریقہ کار کے تحت ذاتی دفاع کے لئے اسلحہ لائسنس کا اجراء، دیواروں پر تکفیری نعرے ختم کرکے لکھنے والوں کے خلاف کارروائی، بے نظیر اسپتال کی اپ گریڈیشن، کم از کم 5000 شیعہ جوانوں کی فورسز میں بھرتی اور کوئٹہ میں تعیناتی، ہر شہید کے ورثاء میں سے کسی ایک کو سرکاری نوکری، ہر شہید کے قتل کی دیت کے اعتبار سے معاوضہ اور ہر زخمی کو کم از کم 20 لاکھ معاوضہ کی ادائیگی، ہر خانوادے کو ایک پلاٹ جس کا رقبہ 200 گز ہو، ہر شہید کے بچوں کو کم از کم گریجویشن تک مفت تعلیم، اخراجات حکومت کے ذمے، ہزارہ ٹاؤن میں کم از کم ایک بوائز اور ایک گرلز کالج کا قیام شامل ہے۔

شیعہ علمائے کرام کے مطابق یہ سارے مطالبات تسلیم کرلئے گئے۔ ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہوچکا، دیگر مطالبات من و عن تسلیم کرلئے گئے جبکہ 3 مطالبات پر حکومت نے کہا ہے کہ پلاٹ جھل مگسی میں دیئے جائیں گے، معاوضہ 10 لاکھ فی کس اور 1000 جوان کی فورسز میں بھرتی ہوگی۔ شیعہ علماء، اکابرین و ذاکرین نے کہا کہ ان حقائق کی روشنی میں آسانی سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ سارے مطالبات حکومت نے منظور کئے اور شہداء کے ورثاء، لواحقین اور شیعہ قیادت نے مشترکہ طور پر دھرنوں کے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اس موضوع پر میڈیا وار کو مدعی سست گواہ چست کے مترادف قرار دیا۔

اسلام ٹائمز نے اپنے زرائع سے لکھا ہے کہ
رحمان ملک کی علامہ امین شہیدی سے ملاقات، بلوچستان میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تبادلہ خیال

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیموں کیخلاف سنجیدگی سے آپریشن کر رہی ہے اور انشاءاللہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی لشکر جھنگوی سمیت فرقہ پرست عناصر کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائیگی۔
۔ باخبر ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے، جس میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کیخلاف جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات میں کیرانی روڈ پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ اور حکومت اور ملت تشیع کے درمیان طے پانے والے مذاکرات اور ان پر جاری پیش رفت پر غور کیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیموں کیخلاف سنجیدگی سے آپریشن کر رہی ہے اور انشاءاللہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی لشکر جھنگوی سمیت فرقہ پرست عناصر کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائیگی۔
علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملت تشیع میں سانحہ کیرانی روڈ اور سانحہ علمدار روڈ کے باعث بے چینی پائی جاتی ہے، اگر حکومت علمدار روڈ سانحہ سے کوئی سبق حاصل کرتی تو آج ہمیں یہ سانحہ دیکھنے کو نہ ملتا۔ لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے اور سنجیدگی کیساتھ اس ٹارگٹڈ آپریشن کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے۔ علامہ امین شہیدی نے وزیر داخلہ سے مشتاق سکھیرا کو آئی جی بلوچستان تعینات کرنے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اسے حکومت کا غلط فیصلہ قرار دیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن شوریٰ عالی علامہ محمد اقبال بہشتی بھی موجود تھے۔

ڈان نیوز ویب سائیڈ سے لی گئی خبر

پاکستان فوج نے دو ٹوک الفاظ میں ملک بھر میں بالخصوص بلوچستان میں شیعہ برادری کے قتل عام میں ملوث کالعدم دہشت گرد جماعت لشکر جھنگوی سے رابطوں یا تعلقات کی تردید کر دی ہے۔
فوج کے ترجمان اور آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے خصوصی طور پر بلائی گئی ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ‘ مسلح افواج لشکر جھنگوی سمیت کسی بھی دوسری عسکریت پسند جماعت سے رابطے میں نہیں’۔
خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں فوج اور خفیہ اداروں پر لشکر جھنگوی سے تعلقات رکھنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔
یہ الزامات فوج کی جانب سے لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کو اکتوبر 2009 میں ملٹری ہیڈ کواٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے استعمال کیے جانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔
بعد میں ملک اسحاق کی جیل سے رہائی کو بھی ایک ڈیل کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
اسی طرح، کوئٹہ میں فوجی کنٹونمنٹ کے حراستی مرکز سے گروپ کے بلوچستان میں آپریشنل کمانڈر عثمان سیف اللہ کرد کے فرار پر بھی ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھائے گئے۔
میڈیا سے گفتگو کے اختتام پر جنرل باجوہ نے ڈان کو بتایا کہ ‘ فوج کے لشکر جھنگوی کے ساتھ تعلق کی کوئی وجہ نہیں بنتی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ فوج ان سے رابطے کی متحمل نہیں ہو سکتی’۔
اس موقع پر انہوں نے شدت پسند گروپ حذب التحریر سے تعلق رکھنے پر بعض فوجیوں کے خلاف کارروائی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسی طرح اگر کسی کے لشکر جھنگوی کے ساتھ تعلقات سامنے آئے فوراًً کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیال رہے کہ لشکر جھنگوی نے سولہ فروری کو کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس حملے میں نوے سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
اس گروپ پر شیعہ اقلیت پر دوسرے حملوں کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔
ہزاؤ ٹاؤن میں بدترین حملے کے خلاف دھرنا دینے والے شیعہ مظاہرین کا اہم مطالبہ فوج کی سربراہی میں کوئٹہ میں کالعدم تنظیم کے خفیہ ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق تھا۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے فوج کی جانب سے شہر میں تعیناتی پر رضا مندی کے باوجود اس مطالبہ کو مسترد کر دیا تھا۔
جنرل باجوہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘بلوچستان میں مسلح افواج کو نہ بلانے کا فیصلہ سیاسی اقدام تھا، حالانکہ فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت شہری انتظامیہ کی معاونت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں تھی’۔
ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت نے دھرنا دینے والے مظاہرین سے مذاکرات کے دوران ظاہر کیا تھا کہ فوج شہر میں ذمہ داری سنبھالے کو تیار نہیں۔

abdul khaliq mwm panjab0مجلس وحدت مسلمین صوبہ پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر کے عوام انتخابات کے دھانے پر کھڑے ہیں جمہوری عمل میں تسلسل کا دعوی کرنے والی ایم کیو ایم کیوں بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ملت جعفریہ کے عمائدین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے کیوں اپنائے گئے ہیں۔ ملت جعفریہ کے عمائدین کے خلاف الطاف حسین کا بیان ملت تشیع کے ملی، دینی، عقیدتی اور روحانی جذبات کو مجروح کرنے کا سبب بنا ہے۔ پوری ملت تشیع سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پیغام دیتی ہے کہ شیعہ ہزارہ قوم کے مسائل کو قومیت اور لسانیت کے رنگ میں رنگنے کی کوئی غلیظ کوشش نہ کریں، شیعہ مکتب فکر میں قوم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں، تاریخ گواہ ہے کے 1400 سالوں سے کبھی ہمارے آئمہ کرام (ع) اور پیشواں نے قوم پرستی کی نہ کبھی ترویج کی اور نہ ہی اس کا سہارا لیا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ عبدلاخالق اسدی نے لاہور میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا تھا کہ اگر شیعہ مکتب قوم پرستی پر عقیدہ رکھتا تو نعوذ بالاللہ امام حسین (ع) کی قربانی کو ایک عرب شخص کی قربانی قرار دے کر فراموش کر دیتا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے، مکتب تشیع میں رنگ و نسل، زبان و لباس، دولت و شہرت، قابل اہمیت نہیں اگر کوئی چیز قابل اہمیت ہے تو وہ ہے ظالم کے خلاف قیام اور مظلوم کی حمایت۔ اگر کسی کو شیعہ قوم کے مسائل و مصائب کے حل میں زیادہ دلچسپی ہے تو خالصتا شیعہ مکتب کے میدان میں حاضر علما کے ساتھ شیعہ افکار اور نظریات کی روشنی میں خلوصِ نیت اور حقائق کا سامنا کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ کی جانب سے شیعہ علما اور شیعہ تنظیموں کی کردار کشی کی مذمت میں ملک بھر کے شیعہ علما کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں اور سیاسی جماعتوں کی ایما پر ہزارہ قوم پرست رہنماں کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ ملت جعفریہ کی نمائندہ جماعتوں اور شیعہ ہزارہ قوم کے اکابرین کے باہمی اتحاد سے طے پانے والے کامیاب مذاکرات کے خلاف اپنے بیانات جاری کریں۔ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی جانب سے علما کی توہین کوئی نئی بات نہیں، وہ تو نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کی شان میں توہین کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ جس کا ثبوت تمام دنیا کے پاس موجود ہے۔ علامہ عبدالخالق اسدی کا کہنا ہے کہ الطاف حسین اکثر رات کو بہکے ہوئے بیانات جاری کرتے ہیں۔ اس بات کی گواہی میڈیا اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما با آسانی دے سکتے ہیں۔ گذشتہ دو سالوں میں شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شہید ہونے والے شیعہ افراد متحدہ کے زیر اثر علاقوں میں ہی قتل کئے گئے، اس کا کوئی جواب ان کے پاس ہے اور انہی کے دور حکومت میں سانحہ مسجد حیدری، مسجد علی رضا، سانحہ عاشورہ، سانحہ اربعین اور دیگر عظیم سانحات ملت جعفریہ کو تحفے میں ملے، جن میں سینکڑوں بے گناہ نمازی اور عزادار دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملت جعفریہ کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کریں، ورنہ پوری دنیا میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد ان کی اس توہین آمیز حرکتوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے

شیعہ علماء اور رہنماؤں نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ الطاف حسین کے بیان کی شدید مذمت کی ہے کہ جو انہوں نے شیعہ علماء اور رہنماؤں کی جانب سے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد دیا تھا۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ الطاف حسین نے دھرنوں کے ختم ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ شیعہ رہنماؤں نے شہداء کی گھر والوں سے پوچھے بغیر یا ان کو اعتماد میں لئے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے الطاف حسین کے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسین پورے ملک میں ایک مسخرے باز اور مضحکہ خیز بیانات دینے کے بانی سمجھے جاتے ہیں جبکہ اسی طرح کا ایک بیان انہوں نے کوئٹہ میں شہداء کے جنازوں کی تدفین کے فیصلے کے حوالے سے بھی دیا ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
علامہ امین شہیدی نے الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں موجود شہداء کے جنازوں کے ساتھ تمام شیعہ علماء اور رہنماؤں نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ گفتگو اور اعتماد میں لے کر فیصلہ جات کئے ہیں جبکہ شہداء کے لواحقین نے بھی شیعہ علماء اور رہنماؤں پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کے بعد احتجاجی دھرنوں کو حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور مطالبات کی منظوری کے بعد اختتام پذیر کیا گیا۔
انکاکہنا تھا کہ شیعہ رہنماؤں نے اس وقت تک احتجاجی دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا اور جاری رکھے جب تک شہداء کے لواحقین شہداء کے جنازوں کے ہمراہ احتجاجی دھرنے میں موجود رہے اور بعد ازں شہداء کے لواحقین کی مرضی سے احتجاجی دھرنے کو اختتام پذیر کیا گیا۔
علامہ امین شہیدی نے الطاف حسین سے کہاہے کہ وہ کراچی میں ایم کیوایم کے علاقوں میں دن دیہاڑے قتل ہونے والے سیکڑوں شیعہ مسلمان نوجوانوں کیے ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کریں اور واضح کریں کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں ؟ان کاکہنا تھا کہ شیعہ علماء اور شیعہ رہنما ملت جعفریہ پاکستان کی بہتر رہنمائی کر رہے ہیں اور ملت جعفریہ پاکستان کو اپنے علماء اور رہنماؤں پر مکمل اعتماد ہے البتہ ملت جعفریہ کسی دورسے کو اس حق سے فائدہ نہیں اٹھانے دے گی۔
دوسری جانب کوئٹہ یکجہتی کونسل،شیعہ علماء کونسل سمیت تمام شیعہ قومی جماعتوں نے علامہ امین شہیدی کے موقف کی حمایت کی ہے۔ان کاکہنا ہے کہ حکومت نے بتایاہے کہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جا رہاہے جس میں ایک سو پچاس سے زائد گرفتار اور چار خطر ناک دہشت گرد قتل کر دئیے جا چکے ہیں۔حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں فوج حصہ لے رہی ہے جبکہ شہداء کے لواحقین کو رقم ادا کی جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ شہداء کے گھر والوں کو سرکاری نوکریوں میں بھی جگہ دئیے جانے کے ساتھ ساتھ ہزارو ٹاؤن میں ایک آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔
شیعہ رہنماؤں نے الطاف حسین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملت جعفریہ کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کریں۔رہنماؤں نے کہا ہے کہ الطاف حسین ہمیشہ ایک بات کا واویلا کرتے ہیں کہ ان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے پندرہ ہزار کارکنوں کو قتل یا اغوا کر لیا گیا ہے اور اس بات کی ذمہ داری وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت پر عائد کرتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ الطاف حسین کے سب سے اچھے دوست یہی دو جماعتیں ہیں۔چوہدری شجاعت حسین جو کہ نواز شریف کے دور حکومت میں وزیر داخلہ تھے وہ بھی الطاف حسین کے بہت اچھے دوست ہیں۔

mwmislamabadملت تشیع کے اکابرین کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد (  پ ر)) شہدائے سانحہ کیرانی روڈ سمیت ہم تمام شہدائے ملت تشیع کے خوں کے وارث ہیں اور کسی کو بھی شہداء کے مقدس خون سے سیاسی دکانداریاں چمکانے کی اجازت نہیں دیں گے،  ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ، پاکستان ، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ، تحریک بیدای مصطفےٰ اور راولپنڈی و اسلام آباد کی ماتمی انجمنوں کے اکابرین نے مشتر کہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ، پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری ، گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل  علامہ نیئر عباس صطفوی، اسلام آباد کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ فخر علوی، آئی ایس اوو کے ڈویژنل صدر مصور عباس تحریک بیداری امت مصطفےٰ کے ڈاکٹر عابد حسین ، اور ماتمی انجمنوں کے نمائندگان میجر ریاض حسین، راجہ بشارت شریک تھے ۔ 

n00241530-tمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پنجاب سیکرٹریٹ میں تمام شیعہ جماعتوں کے عمائدین اور رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کی پرزور انداز میں مذمت کی اور اسے ملت جعفریہ کے خلاف گھناؤنی سازش قرار دیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ کوئٹہ کے حوالے سے متحدہ کے قائد کا بیان ملت جعفریہ کا شیرازہ بکھیرنے کی مذموم سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ایسی بیان بازی سے قبل کراچی میں ہونے والی روزانہ کی بنیاد پر قتل وغارت کا حساب دیں، جہاں روز انہ ملت تشیع کے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

رہنماؤں نے کہا کہ لگتا ہے الطاف حسین کو ورغلا کر یہ بیان دلوایا گیا ہے، متحدہ کے قائد کا یہ بیان سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کیلئے الطاف حسین ایسے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہونے والا فیصلہ شیعہ علما کونسل، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، تحریک اسلامی پاکستان، مجلس وحدت مسلمین، کوئٹہ یکجہتی کونسل، ہزارہ اتحاد، جعفریہ الائنس اور شیعہ ایکشن کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا، جسے شہداء کے وارثان کی مکمل تائید حاصل تھی اور ملت جعفریہ نے ملک بھر میں بھی اس فیصلے کی تائید کی۔ ایم کیو ایم کے قائد خواہ مخواہ میں ملت جعفریہ ٹھیکیدار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ ہم شیعہ وحدت کے قائل ہیں اور پاکستان میں امن وامان کیساتھ رہنا چاہتے ہیں، ہم نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف جہاد کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ سے ہزارہ برادری الگ نہیں بلکہ وہ ہماری ملت کا اہم حصہ ہیں، جس کی واضح دلیل پورے پاکستان میں ہزارہ برادری سے یک جہتی کے لئے دھرنے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کی لہر اب کوئٹہ اور کراچی سے نکل کر لاہور اور پشاور تک بھی پہنچ گئی ہے اور لاہور میں ڈاکٹر سید علی حیدر کو شہید کیا جانا پنجاب حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ کو شہید کیا گیا تو حکومت نے کہا کہ ہم قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں جلد ہی انہیں گرفتارکر لیں گے، لیکن نہ ہی قاتل گرفتارہوئے اور نہ ہی حکومت اس کیس میں کوئی پیش رفت کر سکی بلکہ ان کے بعد ڈاکٹر علی حیدرکو بیٹے سمیت شہید کر دیا گیا، جو انسانیت کا خادم تھا اور بلاتفریق مذہب و مکتب قوم کی خدمت کرتا تھا اور ان کے جنازے میں اہل تشیع سے زیادہ اہلسنت حضرات نے شرکت کی، لیکن پاکستان کے دشمنوں نے قیمتی ترین ڈاکٹر کو ملک سے چھین لیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو کراچی میں مرنے والا ایک عام آدمی تو دکھائی دیتا ہے لیکن ملت تشیع کے قیمتی ترین افراد کی شہادتیں نظر نہیں آتیں؟

انہوں نے کہا کہ ملت تشیع پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہی ہے، ہماری جنگ انہیں سے ہے جنہوں نے قائد اعظم کوکافر اعظم کہا تھا اور اس وقت پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی اور آج بھی پاکستان میں وہی خانہ جنگی کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے لئے ہمارا کوئی نرم گوشہ نہیں، ایم کیو ایم والے ہمارے جذبات کا احترام کریں، ہماری صفوں میں انتشار پید ا کرنے کی کوشش نہ کی جائے، ہم تمام مکاتب فکر اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو احترام دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارا بھی احترام کیا جائے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ الطاف حسین اپنا بیان واپس لے کرملت تشیع سے معافی مانگیں۔ اس موقع مجلس وحدت مسلمین کے علامہ عبدالخالق اسدی، سید اسد عباس نقوی، پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سید نوبہار شاہ، عزاداری کونسل پاکستان کے حیدر علی مرزا، شیعہ شہریاں پاکستان کے علامہ وقارحسنین نقوی، تحریک حسینیہ پاکستان کے سید اجمل شاہ نقوی، سابق وفاقی وزیر تعلیم سید منیر حسین گیلانی، سید امیر علی شاہ، شہزادہ علی ذوالقرنین، چودھری فضل حسین، رائے ماجد علی، رائے ناصر عباس، مظاہر شگری و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

Quetta mutalibaatمورخہ 19 فروری 2013ء کی شام طویل مذاکرات کے بعد کوئٹہ یکجہتی کونسل مذاکراتی ٹیم اور حکومتی ٹیم، گورنر بلوچستان کے مابین منظور شدہ
مطالبات
۱)۔ سانحہ ہزارہ ٹاؤن قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی اداروں کی ناکامی ہے، ٹھیک اسی طرح منظور شدہ مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونا متعلقہ افسران کے کردار پر سوالیہ نشان ہے لہٰذا سیکورٹی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
۲)۔ کوئٹہ شہر کے اندر اور بیرون از شہر ٹارگٹیڈ ایریاز میں آپریشن کیا جائے اور تمام دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ کیا جائے۔
۳)۔ اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے بے گناہ گرفتار شدہ افراد کو خاص کر جناح ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام بے بنیاد مقدمات واپس لیے جائیں۔
۴)۔ گزشتہ سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے لیے جس مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا، ان کی ادائیگی کی رفتار کو تیز کیا جائے اور رکاوٹیں دور کی جائیں۔
۵)۔ موجودہ سانحہ 16 فروری 2013ء میں شہید ہونے والے افراد کا بلاتفریق ملکی اور غیر ملکی افراد کو معاوضہ ادا کیا جائے اور جائیدادوں اور کاروباری نقصان کا ازالہ کیا جائے اور فوری طور پر نقصانات کا تعین کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے اور کام کی رفتار تیز کی جائے۔
۶)۔ یوم القدس اور دیگر اوقات میں اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے معززین کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائیں، جس کا پہلے ہی وزیراعظم، وفاقی وزیرداخلہ اور صوبائی حکومت وعدہ کر چکی ہے۔
۷)۔ کوئٹہ کے اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے زائرین، طلباء و طالبات، تاجر برادری اور سرکاری ملازمین کو دفاتر، تجارتی مراکز اور تعلیمی اداروں میں فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اداروں میں متعصبانہ طریقہ کار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
۸)۔ بلوچستان کے دیگر شہروں خضدار، مچھ، بولان، سبی، گنداخہ سمیت جن علاقوں میں اہل تشیع افراد زندگی گزار رہے ہیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
۹)۔ کالعدم دہشت گرد گروپوں کی جو نام بدل بدل کر سانحات اور واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، سرپرستی کرنے والے اشخاص جن کے بیانات روزانہ اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں، ان پر اور ان کے اخبارات میں شرانگیز بیانات دینے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
۱۰)۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے کارکنان کو مکمل تحفظ دیا جائے۔
۱۱)۔ سابق حکومت میں شامل وزراء جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں یا دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں جن کا صوبائی اسمبلی کے فورم پر بارہا ذکر آ چکا ہے، انہیں گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے۔

۱۲)۔ اہل تشیع افراد کے ذاتی دفاع کے لیے آسان طریقہ کار کے تحت اسلحہ لائسنس جاری کیا جائے اور کمیونٹی پولیسنگ کی اجازت دی جائے۔
۱۳)۔ دیواروں پر تکفیری نعرے لکھنے پر مرتکب افراد کو گرفتار کر کے سزا دی جائے اور بلوچستان بھر کی دیواروں سے تمام تکفیری نعروں کا صفایا کیا جائے۔
۱۴)۔ بروری روڈ ہزارہ ٹاؤن میں موجود بے نظیر ہاسپٹل کو اپ گریڈ کیا جائے۔
۱۵)۔ کم از کم 5 ہزار شیعہ جوانوں کو فورسز میں بھرتی کیا جائے اور انہیں بلوچستان میں تعینات کیا جائے۔
۱۶)۔ ہر شہید کے گھر سے کم از کم ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے۔
۱۷)۔ ہر شہید کو کم از کم 20 لاکھ روپے اور ہر زخمی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔
۱۸)۔ سندھ حکومت کے اقدامات کی مانند بلوچستان میں ہی ہر شہید کے اہلخانہ کو ایک پلاٹ دیا جائے۔
۱۹)۔ تمام شہداء کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے۔
۲۰)۔ ہزارہ ٹاؤن میں ایک گرلز اور ایک بوائز کالج قائم کیا جائے۔
۲۱)۔ حالیہ دھماکے میں ہزارہ ٹاؤن کے جو سکول تباہ ہو گئے ہیں، انہیں سرکاری خرچ پر تعمیر کیا جائے۔
۲۲)۔ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور نام بدل بدل کر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم کے لیڈروں کے خلاف پورے ملک میں بھرپور کارروائی کی جائے اور نہیں مسلک اہل سنت والجماعت کا نام استعمال کرنے سے روکا جائے۔

کوئٹہ کے بارے ڈان نیوز کا اداریہ

بارہ جنوری 2013 کو کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین میتوں کے ساتھ احتجاجی دھرنے میں موجود ہیں ۔ یہ دھرنا گزشتہ 43 گھنٹوں سے جاری ہے۔ واضح رہے کہ کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی جن میں سو افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اے ایف پی تصویر

اگرچہ سفاکانہ حملوں کے طویل سلسلے کا ارتکاب کرنے والے از خود اپنے آپ کو نام زد کرچکے تاہم آج قوم کو جس صورتِ حال کا سامنا ہے، اس میں سیاستدانوں کا، ذمہ داروں کا نام لے کر ان کی مذمت کرنا قابلِ تعریف ہے۔

عمران خان طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کا نام لے کر اُن کی مذمت کرتے رہے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیے گئے ردِ عمل، گذشتہ روز سیاستدانوں کے اُس بیان سے باہر ہیں، جس میں ایک بنیادی وجہ کا اظہار تھا کہ جہاں آج ہم کھڑے ہیں، وہاں کیوں ہیں: اپنے سویلین سیاستدانوں کی کم ہمتی کی وجہ سے۔

ہماسرے سیاستدانوں میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وہ نام لے کر فرقہ وارانہ حملوں کی مذمت کرسکیں، یا کھل کر یہ کہہ سکیں کہ دہشت گردی بُری شے ہے۔

یہ کم از کم سیاستدان ہی ہیں جو صورتِ حال کے اس بھنور سے پاکستان کو نکال سکتے ہیں، جس میں اس وقت یہ گھرا ہوا ہے۔

چاہے وہ لشکرِ جھنگوی ہو، تحریکِ طالبان پاکستان یا کوئی اور شدت پسند تنظیم، اکثر ہمارے پارلیمنٹیرین اور دیگر اہم سیاسی شخصیات، بالخصوص مذہبی جماعتوں کے سربراہ، اُن کے نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں؟

اس کے بجائے وہ کثیر الجماعتی کانفرنسوں میں شریک ہو کر عسکریت پسندی پر بات کرتے ہیں لیکن اس کے تدارک کے لیے فوجی آپریشن کا کوئی ذکر نہیں کرتے، جس سے دو چیزوں کی تعریف میں ناکامی جنم لیتی ہے:

مذاکرات کا یہ مرحلہ شاید مسئلے کو حل نہیں کرے گا اور جمہوری نظام کے دعویداروں کی حمایت حاصل کیے بغیر ملٹری آپریشن کیا نہیں جائے گا۔

شاید انہیں کمیونٹی رہنماؤں سے ایک یا دو باتیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ شیعہ ہوں یا سُنّی ان میں اتنی ہمت ہے کہ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے، تششدد کے ذمہ داروں کا نام لے کر اُن کی مذمت کرسکیں۔

بالخصوص اس موقع پر ہزارہ برادری کا تحمل متاثر کُن ہے۔ وہ دلیل سے کہتے ہیں کہ یہ شیعہ اور سُنی کی جنگ نہیں، یہ مسئلہ حملوں کی پشت پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے نظریات کا ہے۔

اُن کے جذبہ برداشت کے اس معیار نے ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد کرنے میں مدد کی ہے تاہم اگر قومی سطح کی قیادت سیاسی اور دیگر خطرات سے ماورا ہو کر، اس موقع پر کچھ نہیں کرتی، تو پھر مسئلہ کراچی یا کوئٹہ سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

گذشتہ کئی برسوں سے جاری خوں ریزی نے لوگوں کو اس کا عادی، شاید بے حس، بنادیا ہے مگر شکر ہے کہ انہوں نے اب تک اس کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔

پیر کو ہونے والے بہیمانے حملے پر ملک بھر میں، بنا تخصیص عقیدہ و مذہب، جو عوامی ردِ عمل سامنے آیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ اب جان چکے کہ معاملات کس نہج پر جارہے ہیں۔

اگرچہ گزشتہ ماہ عوام کے دباؤ پر ہی گورنر راج کے قیام سمیت بعض تبدیلیاں کی گئی تھیں تاہم وہ ناکافی ثابت ہوئیں۔ وزیرِ اعظم نے بعض سینئر پولیس افسران کے تقرری اور تبادلوں کے علاوہ اب کوئٹہ میں ٹارگیٹڈ آپریشن کی ہدایت بھی کی ہے۔

بالخصوص بہادر ہزارہ اور دیگر کا خطرناک علاقوں میں جاری احتجاج، ہمارے سیاستدانوں کے لیے شرم کی بات ہے۔

آسٹریلوی ایمبسی کے ذرائع نے بتایا کہ ان کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) پر زور دیا ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد کا سامنے کرنے والی ہزارہ برادری کی پاکستان سے منتقلی کے لیے ضروری اقدامات اور سہولیات فراہم کی جائیں۔
آسٹریلین ہائی کمیشن کے ایک اعلی افسر نے ڈان کو بتایا کہ ان کے امیگریشن اور سیٹیزن شپ کے محکمے کے نائب سیکریٹری نے یو این ایچ سی آر کے عہدے داروں سے گزشتہ ہفتہ ایک ملاقات میں سیاسی پناہ کی پیشکش پر تبادلہ خیال کیا۔
اس ملاقات میں یو این ایچ سی آر کو بتایا گیا کہ آسٹریلیا ہزارہ برادری کے 2500 خاندانوں یا پھر سات ہزار افراد کو ان پر ہونے والے حملوں کے پیش نظر سیاسی پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان میں یو ان ایچ سی آر کی نائب نمائندہ مایا امیرا تنگا نے ڈان کو اس پیشکش کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ ہم نے فرقہ ورانہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر شیعہ اقلیت کو آسٹریلیا میں پناہ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں’۔
یاد رہے کہ ہفتہ کو کوئٹہ میں ہزارہ برادری پرخود کش حملے میں خواتین اور بچوں سمیت سو کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں تینتیس رجسٹرڈ افغان پناہ گزین بھی شامل تھے۔
واقعہ کے بعد یو این ایچ سی آر نے پاکستانی حکام پر زور دیا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
سرکاری حکام نے ڈان کو بتایا کہ پاکستان کی وزارت ‘سیفرون’ کو آسٹریلوی پیشکش کے حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اب اس معاملے کو یو این ایچ سی آر کے پاکستان میں نمائندہ نیل رائیٹ کے جینیوا سے ملک واپس آنے پر اٹھایا جائے گا۔
مایا نے منتقلی کے عمل کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ‘ہمیں پہلے بلوچستان میں ہزارہ شیعہ برادری کے سب سے متاثرہ اور خطرے میں گھرے خاندانوں کا تعین کرنا ہو گا’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ جلد ہی 2500 خاندانوں کی فہرست آسٹریلوی حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree