The Latest

hasan.zafar.indiaمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی صاحب نے ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ وارثین شہدا کے ساتھ طے شدہ تمام مطالبات پر عمل درآمد میں مزید تیزی دیکھائے اور اپنی پہلی ترجیحات میں رکھے ۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی جو ان دنوں تبلیغات دینی کے سلسلے میں انڈیا میں ہیں نے ہمارے نمایندے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا ہر چیز کی ایک حد ہواکرتی ہے اور جب وہ چیز اپنی حد سے گذرجاتی تو پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتی اس لئے اس سے قبل کہ کوئٹہ کے مظلوم اہل تشیع ہزارہ کی برداشت اپنی حد سے آگے بڑھے ،وارثین شہدا کے ساتھ طے شدہ تمام مطالبات پر من  وعن عمل درآمد کیا جائے اور حکومت عمل درآمد میں تیز رفتاری دیکھائے ۔

mwmlhr shuhdaconf01قرار دادیں 
آج کربلا کوئٹہ و لاہو ر کی شہداء کانفرنس کی قرار دادیں درج ذیل ہیں
۱۔ملت جعفریہ کے جان ومال و حقوق کی ذمہ داری حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں پر ہے۔لہذا ان عظیم سانحات کے باوجود اگر کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری براہ راست مرکز ی اور صوبائی حکموتوں پر ہو گی ۔
۲۔کوئٹہ کے سانحہ کے بعد خانوادہ شہداء ،علماء اور حکومت کے درمیان جو ۲۳ نکاتی معاہدہ طے پایاء ہے اس کے تمام نکات پر فوری عمل کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر ان عظیم قربانیوں کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومت بلوچستان نے کوتاہی کی تو ملت جعفریہ اپنی پوری قوت کے ساتھ عمل کروانا جانتی 
۳۔الطاف حسین اور دیگر بھولے لوگوں نے جو علماء کی کردار کشی کی ہے تفرقہ پھیلانے کی کوشش کی ہے اس کی مذمت کرتے ہیں ۔اور اگر ان قاتلوں اور ان لٹیروں نے ہوش نہ سنبھالا تو ملت جعفریہ اس کا جواب حیدری تھپڑ سے دے گی ۔
۴۔پنجاب اور لاہور کے اندر متعدد واقعات ہوئے ہیں اور ملت جعفریہ کی آخری قربانی شہید ڈاکٹر علی حیدر نقوی اور ان کے بیٹے مرتضی حیدر کی قربانی ہے ۔ملت جعفریہ کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کے اندر دہشت گردی کو نہ روکا گیا ۔دہشت گردوں کو لگام نہ دی گئی ،ان کے نیٹ ورک کو نہ توڑا گیا اور ان کی حکومتی پشت پناہی نہ روکی گئی تو ملت جعفریہ کے گزشتہ دھرنوں کے بعد تیسرا دھرنا تاریخی ہوگا اور اس کا مرکز لاہور ہو گا۔اور پورا ملک اس کی حمایت میں دھرنا دے گا ۔
۵۔ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئٹہ کے اندر ٹارگیٹڈ آپریشن کے عمل میں تیزی لائی جائے ۔اور دہشت گردوں کی مکمل صفائی کی جائے۔
۶۔مشتاق سکھیرا کی بلوچستان میں تعیناتی اور وارثان شہداء اور ملت جعفریہ کو قبول نہیں ہے ۔کیونکہ پنجاب کے اندر فرقہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے ۔اور دہشت گردی کی حمایت کرتا رہا ہے۔

mwmlhr shuhdaconf01مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی جانب سے شہداء کربلا کوئٹہ و لاہور کانفرنس منعقد کی گئی جس میں علامہ ابوذر مہدوی ،علامہ سید حیدر علی موسوی ،علامہ محمد اقبال کامرانی ،علامہ حسنین عارف کوارڈنیٹر مذہبی امور وزیر اعلیٰ پنجاب الحاج حید ر علی ،لاہور سے شہید ڈاکٹر حیدر علی کی والدہ ،اہلیہ بیٹی، کوئٹہ سے شہدا کے وارثان اور پا کستان بھر سے خواتین، بچے اور مردو ں کی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے کہا کے خون کوہٹہ میں اتنی گرمی ہے کہ مگر مچھوں کے درمیان ہم نے دوستوں اور علماء اکرم کی مدد سے محنت کی اور سازشوں کو ناکام بنایا خود بلو چستان کے حکومت نے کہا ہے کہ آرمی خود نہیں آنا چاہیے ۔کب تک مظلموں کا خون کوٹہ میں بہایا جاے کا ، اب ہمیں جواب چاہے کہ کون جھوٹا ہے ،حکومت یا کوئی اور ہمیں اس کی وضا حت کر دیں پھر ہم جانے اور ہمارا دشمن۔ ایم کیو ایم اور ایچ ڈی پی کی ڈوریاں کہں اور سے ہلائی جاتی تھی ۔ہم اپنے شہداکے حون پر سیاست کبھی نہیں چمکانے دیں گے ۔شہدا کا پاکزہ خون ہماری حیات کا با عث ہں ۔ایسے شہدا موجود ہوں ہماری قوم کو کوہی نیں جھکا سکتا ۔

mwmpakistanالیکشن کمیشن آف پاکستان نے مجلس وحدت مسلمین کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کر لیا ہے۔ اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان سے انتخابی نشان مانگ لیا ہے واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان بھر پورسیاسی عمل میں حصہ لے گی اور جہاں ممکن ہو امیدوار بھی کھڑے کریگی۔
ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ سیاسیاست کے ترجمان باقر حسین ایڈووکیٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوچکی ہے، البتہ آئندہ انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے الیکشن لڑنے یا کسی دوسرے انداز سے سیاسی عمل میں بھرپور کردار ادا کرنے کا حتمی فیصلہ شوریٰ عالی کے اجلاس میں کیا جائیگا، جو آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں 24 مارچ کو عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد بھی کر رہی ہے، جس میں سندھ کی سطح پر لاکھوں افراد کی موجودگی میں اہم اعلانات کئے جاسکتے ہیں

شہدائے کربلائے کوئٹہ کانفرنس لاہور

mwm.womanlhr11مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان لاہور شعبہ خواتین و شعبہ تربیت کے زیرِ اہتمام شہدائے کوئٹہ و لاہور کانفرنس اس وقت محمدی مسجد حالی روڈ میں جاری ہے ، جس میں کثیر تعداد میں مومنین و مومنات شریک ہیں ، شہداء کے ورثاء خاص طور پر مائیں اس پروگرام میں شرکت کے لئے کوئٹہ سے تشریف لائی ہیں تاکہ ملت کو شہادت کے عظیم درس سے آگاہ کیا جا سکے
یہ قوم کربلائی ہے ، یہ قوم عاشورائی ہے ، یہ قوم علی والی ہے ، یہ قوم ڈرتی نہیں ، یہ قوم شہادتیں دینے سے گھبراتی نہیں ، ہمارے جوان اپنی ماؤں کو بتا کر جاتے ہیں کہ میں شہید ہونے جا رہا ہوں ، اور مائیں جوانوں کو گھر سے حُسین پر قربان کر کے نکالتی ہیں ،

Quetta.MWMکوئٹہ کی ایک نام نہاد قوم پرست جماعت نے اپنی کھوئی ہوئی حثیت کو بچانے کے لئے علمائے کرام اورمجلس وحدت مسلمین پاکستان جیسی ملک گیر جماعت کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کردی اور تہمتوں اور الزام تراشیوں کی بارش کرنے کی کوشش کی گذشتہ دنوں کوئٹہ کی ایک انتہائی محدود قوم پرست اور مذہب مخالف جماعت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی سیاسی قد کو انچاکرنے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ ملک گیر جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کی تاکہ بدنام ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا پر عمل پیرا ہوسکے یہ وہی جماعت ہے جو ہمیشہ سے خود کو قومیت کے بت کے سامنے جھکانے اور اہل کوئٹہ کو ایک محدود دائرے میں ڈال کر ملک بھر کے پانچ کروڑ اہل تشیع اور پچانوے فیصد مسلمانوں سے الگ کرنا چاہتی ہے اس نام نہاد قوم پرست جماعت نے شہدا ئے کوئٹہ کی تدفین کے وقت بھی علمائے کرام اور کوئٹہ کے مومن مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور ڈرامہ راچایا ۔
ہم مجلس وحدت مسلمین پاکستان خاص کر اہل کوئٹہ سے گذارش کرتے ہیں کہ اس جماعت کی ہرزہ سرائی پر دھیان نہ دیں اور مظلوم شہدا کے وارثین کی دادرسی کرتے رہیں 
یاد رکھیں کہ اہل کوئٹہ امت مسلمہ اور کروڑوں پیروان مکتب اہل بیت ؑ کے حصہ ہیں صرف ایک چھوتا قبیلہ نہیں بلکہ انکا تعلق اس عظیم مکتب سے جسے مکتب عاشورہ و مکتب کربلا کہا جاتا ہے جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا ہوا ہے

ameenshahidi thanksکراچی( )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے ملک بھر میں تمام شیعہ علماء اور اکابرین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ملت جعفریہ پاکستان ایک جان اور ایک قلب کی مانند ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں شیعہ علماء،عمائدین اور اکابرین نے ایک لسانی جماعت کی جانب سے پیدا کی جانی والی غلط فہمیوں کا منہ توڑ جواب دیا اور ملت جعفریہ میں تقسیم کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد کئے جانے والے تمام فیصلہ جات جن میں شہداء کے لواحقین کی مرضی شامل تھی ان پر عمل کیا گیا اور ملت جعفریہ پاکستان کے علماء اور اکابرین نے ان فیصلوں کی بھرپور حمایت کر کے اپنا دینی و اخلاقی فریضہ انجام دیا ہے۔

mwmmalir10کراچی (پ ر) سانحہ علمدار روڈ کے بعد آج ایک ماہ بعد دوبارہ ملّت تشیع نے جس جرئت و استقامت کا مظاہرہ کیا ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی ، پوری ملّت خصوصاً ماؤں بہنوں کا انقلابی کردار تمام امّت کے لیئے مشعل راہ ہے ۔ دشمن جس قدر ہم پر حملہ آور ہو ہمارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرے لیکن ہمیں اپنی ملّی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچانا ہے ،ان خیالات کا اظہار سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر سید سجاد اکبر زیدی نے سانحہ کو ئٹہ کے خلاف مین نیشنل ہائی وے پر دیئے جانے والے دو روزہ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔اس کے علاوہ کورنگی مل ایریا روڈ ، اسٹیل مل موڑ پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے ۔
ان کا کہنا تھا کہاانتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ ابھی شہداء علمدار روڈ کا کفن بھی میلہ نہیں ہو پایا تھا کہ درندہ صفت دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر کو ئٹہ شہر کو لہو لہان کر دیا ، اور ایک سو سے زائد خواتین ، بچے ، جوان اور بزرگ خاک و خون میں غلطاں ہوئے ، حکومتی مشنری دہشتگردوں نہیں بلکے ان کی ماں کے خلاف کاروائی کر تی تو اتنی بڑی دہشتگردی نہ ہوتی ۔
اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے ڈپٹی سیکریٹری احسن عباس ر ضوی کا کہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد ملّت جعفریہ نے فوراً میدان عمل میں حاضر ہو کر دنیا پریہ واضح کر دیا کہ ملّت تشیع شہداء کے راستے اورپیغام کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی ۔پوری ملّت مجاہد علماء کی قیادت میں متحد ہے ۔ ان کا مذید کہنا تھا کے بڑی بڑی دینی وسیاسی جماعتیں صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک تو احتجاج و دھرنوں کے دعوے کر تی ہیں لیکن عملی میدان میں ناکام نظر آتی ہیں ، انکی کامیابی ممکن بھی نہیں کیوں کے یہ سرفرازی صرف مکتب اہلبیت کے پیروکاروں کوحاصل ہے چوں کہ ہم کربلا و عاشورہ کے وارث ہیں ۔انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہو ئے کہ اہل تشیع کے دھرنوں کی حفاظت ہم کر رہے ہیں کہا کہ ملّت تشیع کوئی لاوارث ملّت نہیں ہمارا وارث امام زمانہ عج غیب سے اپنے پیروکاروں کی حفاظت فرمارہے ہیں اور ظاہری حفاظت کے لیے ہمارے پاس وہ مجاہد موجود ہیں جواسلام ، ملک وفوج کے دشمن طالبان سے ۵ سالہ محاصرے کے بعد اپنی سرزمین کربلائے پاراچنار کو آزاد کراچکے ہیں ۔
دو روز تک جاری اس دھرنے میں مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری ایم ڈبلیو ایم برادر ناصر عباس شیرازی ،علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ صادق رضا تقوی ، علامہ ناظر عباس تقوی ، مولانا محمد علی حسینی ،مولانا احمد حسین ، مولانا حامد مشہدی ، مولانا کوثر عباس ، مولانا غلام محمد فاضلی کے علاوہ دیگر علماء و زاکرین نے خطاب کیا ، اور معروف نوحہ خوان میر حسن میر ، عرفان حیدر ، صبیب عابدی ، زین عباس شاہ اور دیگر نے شہداء کو نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
ملیر مین نیشنل ہائی وے پر ہونے والے مجلس وحدت مسلمین کے ا س دھرنے میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملیر و جعفرطیارپیام ولایت فاؤنڈیشن اور انجمن اصغریہ کا تعاون بھی حاصل تھا ۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتین ، بچے ، بزرگ جوان دھرنے میں شریک تھے ،مومنین کے تعاون سے مسلسل نیاز امام حسین ع کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔

Quetta shuhdapressکل کی شھداء کانفرنس میں شرکت کریں گے اوراس میں علامہ محمدامین شہیدی تشریف لا رہے ہیں وہاں پر ہم اعلانیہ ان کی حمایت کریں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز کا اہم ترین ٹکڑا کوئٹہ خون کے طوفانی سمند ر میں تبدیل ہوچکا ہے اور چالیس دنوں کے فاصلے پر دو دھماکوں میں سینکڑوں پاکیزہ انسان جس میں ہزارہ برادری کے بوڑھے،جوان،عورتیں اور بچے شامل ہیں اس کے علاوہ پولیس اہلکار اور میڈیا کے خدمت گزار بھی شہید ہوئے جو ملک و ملت کا نقصان اور ملک کے اندر بلاوجہ فرقہ واریت کو پھیلانے کی کوشش ہے۔اس سلسلے میں ہماری گزارشات درج ذیل ہیں۔
1۔کوئٹہ اور پاکستان بھر کے دھرنوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تمام پاکستانی،پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے درمیان فرقہ واریت ،لسانیت ،امن عامہ،استحکام پاکستان اور بقاء پاکستان کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔

Quetta sazishزیل میں درج یہ انتہائی اہم بریفنگ در اصل میں علامہ محمد امین شہیدی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی اس وڈیو بریفنگ کا متن ہے جسے آپ مجلس وحدت مسلمین کی سائیڈ اور سوشل میڈیا میں مشاہدہ کرچکے ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کوئٹہ سانحہ علمدار روڈ کا چہلم اور سانحہ ہزارہ ٹاون
عزیزان گرامی! گزشتہ دنوں کوئٹہ کے اندر ایک مرتبہ پھر انتہائی ہولناک واقعہ پیش آیا جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے لیکن آخری اطلاعات تک 114 افراد شہادت جام نوش کر چکے ہیں۔ اس واقعہ کے ردعمل میں جہاں شہداء کے لواحقین نے جنازے لے کر دھرنا دیا، وہیں پر پورے پاکستان کے اندر اور پاکستان کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں شیعیان حیدرکرار ؑ اور وہ لوگ جن کے دل مظلوموں کی مظلومیت پر دھڑکتے تھے، جن کے اندر انسانیت تھی انہوں نے بھی دھرنے دے کر مظلوم کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ دھرنے کسی خاص جماعت یا کسی خاص گروپ کے نہیں تھے، تمام شیعہ اس میں انووال تھے اور فعال بھی تھے۔ اس دھرنے کے لیے جب بلایا گیا، جہاں پر مجلس وحدت مسلمین نے کال دی، وہیں پر شیعہ علماء کونسل نے بھی کال دی، وہیں پر طلبہ تنظیموں میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر تنظیموں نے بھی کال دی، وہیں پر آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی اور اس طرح کی دیگر جماعتوں نے بھی کال دی۔ گویا یہ سب کی ایک مشترکہ کاوش تھی، بھرپور کاوش تھی اور بیداری کا اظہار تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک کے اندر اور پاکستان کے مختلف مقامات پر اور تقریباً 750 سے زائد مقامات ایسے تھے جہاں پر دھرنے دیئے گئے اور بے پناہ تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئے۔ ایئرپورٹس بند ہو گئے، ریلوے لائنز بند ہو گئیں، شاہراہیں بند ہو گئیں، شہری زندگی معطل ہو گئی، تعلیمی ادارے خصوصاً سندھ میں بند ہو گئے اور یوں لگ رہا تھا کہ اس عظیم ظلم کے خلاف پورا پاکستان یک آواز ہو کر میدان میں اتر آیا ہے۔ اسی سلسلے میں ان مسائل کو ٹیکل کرنے اور عوام کی حمایت کے لیے ہم کوئٹہ پہنچے۔ 17 فروری 2013ء وہ دن ہے کہ جب 10 فروری 2013ء کے شہداء کا چہلم منایا جا رہا تھا۔ ہمارا کوئٹہ پہنچنے کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا اور اس طرح سے جو لوگ، علماء، بزرگان 10 جنوری کے شہداء کے چہلم کی نیت سے وہاں گئے تھے، انہیں ان نئے شہداء کا استقبال کرنا پڑا اور ان شہداء کے لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہونے کا موقع ملا۔
مطالبات میں غیر پختگی کا خاتمہ
جب ہم نے کوئٹہ یکجہتی کونسل سے بات کی کہ آگے کی منصوبہ بندی کیا ہے چونکہ وہ میزبان تھے اور کوئٹہ میں سٹیک ہولڈر وہی ہیں۔ ہم ان کی مدد کرنے کے لیے اٹھے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا تو محسوس ہوا کہ ان کے پاس کوئی ایسے مطالبات نہیں ہیں لہٰذا 10 جنوری کے شہداء کے چہلم کے موقع پر حاجی قیوم چنگیزی نے کوئٹہ یکجہتی کونسل کی طرف سے اپنی قرارداد سنائی تو اس میں ایک کے علاوہ باقی ساری چیزیں تشریفاتی تھیں، ان میں سے کوئی اور مطالبہ نہیں تھا اور وہ ایک نقطہ بھی جس کی طرف میں نے اشارہ کیا وہ یہ تھا کہ اخبارات اور میڈیا میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور اہل سنت والجماعت کے نام سے جو بیانات چھپتے ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔
مسائل کے درست حل کے لئے پلان اور ٹیم کی تشکیل
یہ افسوس کا مقام تھا کہ پوری ملت غمزدہ ہو اور سڑکوں پر ہو اور ہمارے پاس اس غمزدہ ملت کو اس مشکل سے نجات دلانے کے لیے کوئی پلان اور کوئی پروگرام نہ ہو لہٰذا ہم نے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم نے بیٹھ کر شہداء کے لواحقین سے گفتگو کی اور وہاں کے اکابر اور ایسے لوگ جو اہل دانش ہیں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایسی فہرست تیار کی جو بنیادی طور پر وہاں کی عوام کے مطالبات کی شکل رکھتے تھے۔ یہ مطالبات ابتدائی طور پر آٹھ مطالبات تھے۔ میں نے 17 فروری کو بروری میں دھرنے دینے والے ان ہزاروں سوگواروں سے خطاب کیا تو اس میں مطالبات کی ایک ہلکی سی فہرست بیان کی اور اگلے دن جب مطالبات کی پوری شکل بن چکی تو میں گیا اور جا کر تمام مطالبات لوگوں کے سامنے رکھے اور کہا کہ یہ وہ مطالبات ہیں جو آپ چاہتے ہیں، سب نے اس کی تائید کی اور بھرپور نعروں کے ساتھ اس کا جواب دیا۔
نادیدہ قوتوں کی جانب سے دھرنا ختم کرانے کی کوشش
اس کے درمیان ایک مشکل یہ بنی کہ حکومتی ادارہ جاتی ہاتھ جو نظر نہیں آتے وہ اس کیس میں داخل ہوئے، انہوں نے وہاں کے عمائدین اور سرکردہ افراد کو پیچھے سے یہ راستہ دیکھانا شروع کیا کہ 18 فروری کو دھرنا ختم کرنے کے لیے پوری کوشش کی گئی اور اس میں ہم سے جو بات کی گئی کہ ہم دھرنا ختم کر رہے ہیں، ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے، ہمارا مطالبہ کچھ لوگوں کی گرفتاریوں کا تھا اور وہ مطالبہ پورا ہو چکا ہے لہٰذا اب ہمیں مزید بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے جواب کے طور پر شہداء کی فیملیز کو سامنے لایا گیا، فیملیز کا نام سامنے لایا گیا اور کہا گیا کہ شہداء کی فیملیز اب اٹھنا چاہتی ہیں، مزید بیٹھنا نہیں چاہتیں۔ ہم نے اس کے برعکس کہا کہ چونکہ پورے پاکستان میں دھرنے جاری ہیں، اس لیے ہم تب تک جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، دھرنے سے نہیں اٹھیں گے۔ تین شخصیات حاجی عبدالقیوم چنگیزی، علامہ جمعہ اسدی اور سردار سعادت نے کہا کہ شہداء کی فیملیز راضی ہیں اس بات پر کہ ہم دھرنا ختم کریں۔ HDP جو وہاں کی قوم پرست اور دین ستیز (دین مخالف) جماعت ہے جو ہزارگی کو فروغ اور مذہب کو پامال کرتی ہے، اس نے بھی جب یہ دیکھا کہ پاکستان بھر کی تمام دینی تنظیموں کا اس موقع پر اتحاد سامنے آ رہا ہے اور کوئٹہ کے مسائل ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں تو انہوں نے بھی دھرنا ختم کرنے کی پوری کوشش کی اور اس میں انہوں نے یہی کہا کہ ہمارے شہداء کے لواحقین دھرنا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرف سے مولانا ولایت حسین جعفری صاحب شہداء کے لواحقین کے پاس گئے اور ان سے بات کی کہ کیا آپ دھرنا ختم کرنا چاہتے ہیں یا دھرنا جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ شہداء کے تمام لواحقین نے کہا کہ علمائے کرام جو فیصلہ کریں گے، ہم اسی فیصلے کے مطابق کھڑیں رہیں گے اور دھرنا تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک علمائے کرام کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا لہٰذا دھرنا جاری رہا اگرچہ CNBC اور بعض دیگر چینلز پر خبر چلی کہ دھرنا ختم کیا جا رہا ہے اور کل لاشوں اور جنازوں کی تدفین ہو گی لیکن جہاں جہاں ہم سے پوچھا گیا، ہم نے واضح کیا کہ یہ افواہ ہے اور ایسی کوئی بات نہیں ہے، یہ بعض لوگوں کی انفرادی سوچ ہے، قومی سوچ نہیں ہے۔
گرینڈ جرگہ
اگلے دن یعنی 19 فروری کو جب حکومت کی طرف سے ایک اعلیٰ سطحی چھ رکنی وفد کوئٹہ پہنچا اور گورنر کی معیت میں یہ کمیٹی مذاکرات کے لیے ہزارہ ٹاؤن پہنچی تو اس سے قبل میں نے خود پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، ہم لولی پاپ اور بہلاوے سے نہیں اٹھیں گے بلکہ جس مقصد کے لیے ہم بیٹھیں ہیں، وہ مقصد پورا کر کے اٹھیں گے۔ عوام سے بھی اس سلسلے میں بھرپور تائید لی اور شہداء کے لواحقین سے بھی اس سلسلے میں بھرپور تائید حاصل کی۔ تائید حاصل کرنے کے بعد ہم جرگہ میں جو کہ ہزارہ ٹاؤن میں واقع ایک گھر میں پہنچے جہاں پر وفاقی حکومت کے نمائندے تشریف لائے تھے۔ مطالبات کی فہرست جو کہ گفتگو کے بعد 8 نکات سے 23 نکات تک جا پہنچی، وہاں کے ایک ایک گھر کو درپیش مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مطالبات ترتیب دیئے گئے جن کی تعداد 8 سے بڑھ کر 23 ہو گئی۔ یہ مطالبات کی فہرست سردار سعادت اور حاجی عبدالقیوم چنگیزی کو دی گئی۔ حاجی عبدالقیوم چنگیزی نے گورنر بلوچستان کو مخاطب کر کے پڑھنا شروع کر دئیے۔ چنگیزی صاحب نے پہلے مطالبے کو نہیں پڑھا، اس پہلے مطالبے کے علاوہ باقی سارے مطالبے پڑھ کر سنائے گئے۔ جو مطالبے پڑھے گئے وہ میں آپ کی خدمت میں پڑھ دیتا ہوں۔
مطالبات اور اس کی وجوہات
پہلا مطالبہ یہ تھا کہ کوئٹہ کو ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے فوج کے حوالے کیا جائے تاکہ فوج ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے سے علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کرنے کے بعد واپس اپنی بیرکوں میں چلی جائے۔
دوسرا مطالبہ تھا کہ سانحہ ہزارہ ٹاؤن قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی اداروں کی ناکامی ہے، اس لیے سیکورٹی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کو (چاہے وہ ادارے سیکورٹی کے ہوں، چاہے وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہوں، چاہے وہ انٹیلی جنس کے ہوں) ان اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کو جو دہشت گردوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ان کو نکال باہر کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اگلا مطالبہ تھا کہ کوئٹہ شہر کے اندر اور بیرون شہر یعنی بلوچستان کے اندر ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے، اب اس آپریشن کو آپ کسی صورت میں بھی نہ کریں، ہمیں اس سے غرض نہیں ہے، دہشت گردوں کے وہ مراکز جہاں پر خودکش تیار کیے جاتے ہیں اور خودکش گاڑیاں بنائی جاتی ہیں کو فوری طور پر نیست و نابود کیا جائے۔
اگلا مطالبہ تھا کہ اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے بے گناہ گرفتار شدہ افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بنیادی مقدمات ختم کیے جائیں۔
اگلا مطالبہ یہ تھا کہ گزشتہ سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے لیے جس مالی امداد کا اعلان کیا گیا تھا، ان کی ادائیگی کی رفتار کو تیز کیا جائے اور تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
چھٹا مطالبہ تھا کہ موجودہ سانحہ 16 فروری 2013ء میں شہید ہونے والے افراد کا بلاتفریق ملکی اور غیر ملکی افراد کو معاوضہ ادا کیا جائے (یہ جو قید لگائی گئی ہے کہ ملکی و غیر ملکی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزارہ ٹاؤن میں افغانستان سے گزشتہ سالوں میں ہجرت کر کے یہاں آنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، ان شہداء میں 37 یا 38 شہداء ایسے ہیں کہ جن کے پاس لیگل ڈاکومنٹس نہیں ہیں، گزشتہ بھی ایسے ہی ہوا کہ جب ایسی شہادتیں ہوئیں تو جن مظلوموں کے پاس لیگل پاکستانی ڈاکومنٹس نہیں تھے، افغانی ڈاکومنٹس رکھتے تھے، ان کو نظرانداز کر دیا گیا اور ان کو پیسے نہیں ملے لہٰذا ملکی و غیر ملکی تمیز کے بغیر تمام افراد کو معاوضہ دیا جائے اور ان کے تمام تر مادی گھروں اور کاروباری نقصانات کے ازالہ کیا جائے) اور نقصانات کا تعین کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے۔
ساتواں مطالبہ تھا کہ یوم القدس اور دیگر اوقات میں اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے معززین کے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائیں، چونکہ وہ ایف آئی آر ریاست کی طرف سے تھیں اور ان متاثرین کو بھی معاوضہ دیا جائے۔ یہ سارے مطالبات عوام کے تھے۔
اس کے بعد آٹھواں مطالبہ تھا کہ کوئٹہ کے اہل تشیع اور ہزارہ قوم کے زائرین، طلباء و طالبات، تاجر برادری اور سرکاری ملازمین کو دفاتر، تجارتی مراکز اور تعلیمی اداروں میں فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اداروں میں متعصبانہ طریقہ کار کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
نواں مطالبہ تھا کہ بلوچستان کے دیگر شہروں خضدار، مچھ، بولان، سبی، گنداخہ سمیت جن علاقوں میں اہل تشیع افراد زندگی گزار رہے ہیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
دسواں مطالبہ تھا کہ کالعدم دہشت گرد گروپوں کی جو نام بدل بدل کر سانحات اور واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، سرپرستی کرنے والے اشخاص جن کے بیانات روزانہ اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں، ان پر، ان کی سرپرستی کرنے والوں اور ان کے اخبارات میں شرانگیز بیانات دینے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ان کو گرفتار کیا جائے۔ (یہاں پر میں وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ کوئٹہ میں ہمارے قومی اخبارات میں ہر روز کم از کم دو خبریں چھپتی ہیں، ان دو خبروں میں سے ایک خبر میں مکتب اہل بیت ؑ کی تکفیر ہوتی ہے اور دوسری خبر میں ان کو قتل، دھماکوں، خودکش حملوں کی دھمکیاں ملتی ہیں اور بھاگنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اس طرح سے ایک نفسیاتی جنگ چل رہی ہے۔ ہماری ان اخبارات کے ذمہ داروں سے بات چیت ہوئی کہ آپ لوگ کیوں ایسی چیزیں چھاپتے ہیں، عدلیہ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا تو جواب یہ ملا کہ ہم جیل جانے کو تو تیار ہیں لیکن مرنے کے لیے تیار نہیں، وہ لوگ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور یہاں پر چونکہ سیکورٹی حاصل نہیں ہے اور ہمیں مجبوراً ان کی خبریں چھاپنی پڑتی ہیں)۔
گیارواں مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے صحافی برادران جو ایسی خبریں چھاپنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، ان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور تحفظ کا احساس دلانے کے بعد اس طرح کی خبروں کے چھاپنے سے روک دیا جائے۔
بارہواں مطالبہ تھا سابق حکومت میں شامل وزراء جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں یا دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے رہے ہیں، جن پر الزامات لگتے رہے ہیں، جن کا صوبائی اسمبلی کے فورم پر بارہا ذکر آ چکا ہے، انہیں گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور پتہ چل جائے کہ یہ لوگ کس حد تک ان معاملات میں انووال تھے اور اگر وہ ایسے معاملات میں شامل تھے تو ان کے ذریعے سے دہشت گردوں تک پہنچنے میں مدد ملے۔
تیرہواں مطالبہ تھا کہ اہل تشیع افراد کے ذاتی دفاع کے لیے، کمیونٹی کے دفاع کے لیے آسان طریقہ کار کے تحت اسلحہ لائسنس جاری کیا جائے اور کمیونٹی پولیسنگ کی اجازت دی جائے تاکہ ہم خود گلی گلی، محلہ محلہ اپنی فورس قائم کریں، ان کے پاس اسلحہ ہو اور اپنے علاقوں کی خود حفاظت کریں کیونکہ حکومتی فورسز سے ہمیں تحفظ فراہم نہیں ہو سکا۔ یہ مطالبہ ہمارا پرزور مطالبہ تھا۔
پندرہواں مطالبہ تھا کہ ہزارہ ٹاؤن میں موجود بے نظیر ہسپتال جو اس طرح کے کیسیز میں بہت چھوٹا پڑ جاتا ہے اور شہداء و زخمیوں کو وہاں سے منتقل کرنے کے لیے جتنی زحمتیں اٹھانی پڑتی ہیں، اس کے نتیجے میں بہت سارے لوگ راستے میں ہی خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے شہید ہو جاتے ہیں، اس ہسپتال کو حکومت فوری طور پر اپ گریڈ کرے تاکہ خدانخواستہ ایسا سانحہ ہوتا ہے تو وہاں پر ان زخمیوں کو فوری طور پر علاج معالجہ کی سہولیات مل سکیں۔یہ بھی شہداء کے خانوادوں کے مطالبات تھے۔
اگلا مطالبہ یہ تھا کہ (یہ ہمارا سوچا سمجھا مطالبہ تھا) کم از کم 5 ہزار شیعہ جوانوں کو فورسز میں بھرتی کیا جائے اور سیکورٹی کی ذمہ داریاں دی جائیں اور پھر آپ دیکھیں کہ کس طرح سے شہر کے اندر اور باقی صوبے میں امن قائم ہوتا ہے۔
ہمارا سترہواں مطالبہ یہ تھا کہ ہر شہید کے گھر سے کم از کم ایک فرد کو سرکاری نوکری دی جائے۔
اٹھارہواں مطالبہ یہ تھا کہ ہر شہید کو کم از کم 20 لاکھ روپے اور ہر زخمی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔
انیسواں مطالبہ یہ تھا کہ سندھ حکومت کے اقدامات کی مانند بلوچستان میں بھی ہر شہید کے اہلخانہ کو ایک پلاٹ دیا جائے۔ بہرحال یہ ان غریب اور ضرورتمند لوگوں کے مطالبے ہیں کہ جن کو ہم نے کمپائل کیا۔
بیسواں مطالبہ یہ تھا کہ تمام شہداء کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے۔
اکیسواں مطالبہ یہ تھا کہ ہزارہ ٹاؤن میں ایک گرلز اور ایک بوائز کالج قائم کیا جائے۔تاکہ تعلیم کے حصول کے لیے یہ بچے جب دوسرے علاقوں میں جاتے ہیں تو راستے میں ان کو مار دیا جاتا ہے تو اس سے ہم روک سکیں۔
بائیسواں مطالبہ یہ تھا کہ حالیہ دھماکے میں ہزارہ ٹاؤن کے جو سکول تباہ ہو گئے ہیں، انہیں سرکاری خرچ پر تعمیر کیا جائے۔
تیسواں مطالبہ یہ کہ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور نام بدل بدل کر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم کے لیڈروں کے خلاف پورے ملک میں بھرپور کارروائی کی جائے اور نہیں مسلک اہل سنت والجماعت کا نام استعمال کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے کہ یہ تکفیری گروہ ہے اور یہ اہل سنت والجماعت نہیں ہیں۔ اہل سنت والجماعت مسلمان ہیں اور دوسرے مسلمان مسالک کے افراد کے بھائی ہیں، ساتھ رہتے ہیں، پیار و محبت کے ساتھ رہتے ہیں لہٰذا ان کا نام استعمال کر کے ملت اسلامیہ کے اندر پھوٹ، نفاق ڈالنے والے اور دہشت گردی کو پروموٹ کرنے والے لوگوں کو اہل سنت والجماعت کا نام استعمال کرنے سے روکا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔
ہمیں فوج نہیں چاہیے
یہ وہ مطالبات تھے جو حکومت کے سامنے پیش ہوئے اور ہر مطالبے پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ کچھ جگہوں پر اختلافات ہوئے۔ اس میں جو پہلا مطالبہ تھا کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے، اس کو آخر میں ہم نے اٹھایا کیونکہ یہ نقطہ کوئی بھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جب ہم نے یہ مطالبہ اٹھایا کہ کوئٹہ کو کیوں فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا تو سب سے پہلے HDP ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں نے اٹھ کر کہا کہ ہمیں فوج نہیں چاہیے، ہمارا کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہے، کوئٹہ ہمارا شہر ہے اور جب ہمیں فوج کی ضرورت نہیں ہے تو پھر کسی اور کو حق بھی نہیں ہے۔ اس کے بعد سردار سعادت علی ہزارہ نے اسی بات کی تائید کی اور کہا کہ یہ ہمارا مطالبہ ہر گز نہیں ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ ہم چونکہ مہمان تھے۔ اگرچہ یہ ہمارا مطالبہ تھا کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے اور یہ مطالبہ پورے پاکستان کے سامنے رکھا تھا اور ہر دھرنے میں اس مطالبے کو پیش کیا گیا لیکن چونکہ شہر ان کا تھا لہٰذا جب انہوں نے اس مطالبے کو رد کیا تو ہماری پوزیشن کمزور پڑ گئی۔ اس کے باوجود ہم نے یہ کہا بلکہ یہ بات میں نے خود کی کہ اور چونکہ محفل میں تمام اکابر اور عمائدین موجود تھے، میں نے وہاں پر یہ عرض کیا کہ کوئٹہ میں فوج کو بلانے کا بنیادی مقصد شہر کے اندر ٹارگٹڈ آپریشن ہے، اگر کوئٹہ کے لوگ اس مطالبے کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم پھر بھی اس سے دستبردار نہیں ہو رہے۔ ہم گورنمنٹ سے پوچھتے ہیں کہ حکومت فوج کو لانے سے گریزاں ہے، اس سوال پر قمر زمان کائرہ اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی بول پڑے۔ ذوالفقار مگسی صاحب کا فرمانا تھا کہ آپ علمائے کرام کا ایک ونگ تشکیل دیں، وہ ہمارے ساتھ چلے، ہم فوج کے ساتھ بات کرتے ہیں، اگر وہ مانتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن فوج کبھی بھی آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے فوجی کرنل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ بھی فوجی ہیں اور کورکمانڈر کے زیر نظر ہیں اور کورکمانڈر کی زیرنگرانی ہم ایف سی کے ذریعے سے اور رینجرز کے ذریعے سے آپریشن کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے تاکہ ہم ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبے کو پورا کر سکیں۔ آپریشن فوجی ہی ہو گا لیکن ہم فوج کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ آئین کے آرٹیکل نمبر 245 کے مطابق فوج کو اگر حکومت بلائے تو فوج پابند ہے لیکن آپ پاکستان کی سیاست کو بڑے اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ یہاں پر ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ فوج اور طرح کا بیان دیتی ہے اور سیاسی حکومت اور طرح کا بیان دیتی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ فوج کو مکتب اہل بیت ؑ اور مسلمانوں کے بہنے والے خون کی قیمت اور قدر کا احساس نہیں ہے۔ بہرحال اس گھر میں حکومتی وفد کے سامنے اس حوالے سے کوئی اور بولنے کے لیے تیار نہیں تھا تو ہم نے ٹارگٹڈ آپریشن کے موضوع پر ان کے ساتھ تواقف کیا اور انہوں نے جب اس بات کا وعدہ کیا کہ ہم نے 170 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے ساتھ چار بندوں کو مار دیا ہے اور باقی بندوں کا ہم پیچھا کر رہے ہیں اور اسی طرح آپریشن جاری ہے، تب تک یہ آپریشن جاری رہے گا جب تک ہم دہشت گردی کے ان مراکز کو ختم نہیں کر لیتے۔ جب یہ بات ختم ہوئی تو ہم اس کے بعد اگلے موضوع کی طرف آئے، اگلے موضوع میں جو بات تھی کہ شہداء کے لیے پلاٹ دیئے جائیں۔ اس کے علاوہ ہر شہید کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور ہر زخمی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے لیکن حکومت نے 10 لاکھ روپے شہید کے لواحقین اور 5 لاکھ روپے ہر زخمی کو دینے کے لیے آمادہ ہوئے۔ جہاں تک پلاٹ کی بات ہوئی تو ذوالفقار مگسی صاحب نے کہا کہ ہم مگسی میں تو پلاٹ ضرور دے سکتے ہیں لیکن کوئٹہ میں ایسی سہولت موجود نہیں ہے، اس لیے میں جھوٹے وعدے نہیں کرنا چاہتا۔ اب ان باتوں پر جب سب نے ان مطالبات کی منظوری پر اکتفاء کیا تو طے پا گیا کہ ہم ان مطالبات کی عملی شکل کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنائیں گے جو کمیٹی حکومت کے ساتھ روز بروز بیٹھ کر ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جائزہ لے گا اور اس سے قوم کو بھی آگاہ کرے گی اور اس کی گارنٹی تمام لوگوں نے لی جو حکومت کی طرف سے وہاں پر آئے ہوئے تھے۔ جب یہ باتیں مکمل ہو چکیں اور تمام لوگ اس پر مطمئن تھے تو اس کے بعد ذوالفقار مگسی صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ دعا کرائیں، میں نے کہا کہ نہیں دعا ہمارے بزرگ کرائیں گے، علامہ ساجد علی نقوی صاحب یہاں پر تشریف فرما ہیں، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے دعا کروائی اور دعا کے اختتام کے بعد طے پایا کہ پریس کانفرنس کی جائے اور پریس کانفرنس کے ذریعے سے یہ پیغام عوام تک پہنچا دیا جائے، پریس کانفرنس جو بھی ہوئی آپ سب نے میڈیا پر اسے ملاحظہ کر لیا۔
وارثین شہدا کا اطمنان لیکن کچھ لوگ ہوئے پریشان سازشیں شروع کردیں
اس کے بعد یہ سارا طبقہ دھرنے میں لوگوں کے سامنے آیا اور وہاں پر علامہ جمعہ اسدی صاحب نے اپنی اس کامیابی کے حوالے سے لوگوں کو خوشخبری دی اور لوگ بھی بہت مطمئن ہوئے اور لبیک یا حسین ؑ و ہیھات منہ الذلہ کے نعروں کے ساتھ انہوں نے بھرپور استقبال کیا، اس کے بعد میں نے تقریر کی، اپنی تقریر میں منظور شدہ مطالبات کی کلی طور پر تفصیل لوگوں کو بتائی۔ میری تقریر کے بعد مولانا افضل حیدری صاحب کی باری تھی البتہ مولانا افضل حیدری صاحب سے پہلے سردار سعادت صاحب نے چند جملے کہے، اس کے بعد مولانا افضل حیدری صاحب نے تقریر کی۔ اس کے دوران HDP جو کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور قومیت کی ترویج اور دین اسلام کی نابودی کے لیے سرگرم ہے، اس پارٹی کے کچھ لڑکے سٹیج پر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ملاؤں کو آگے نہیں آنے دیں گے لہٰذا جب فوری طور پر مولانا افضل حیدری صاحب کی تقریر ختم ہوئی تو نعرے لگائے گئے اور اس پورے ماحول کو خراب کیا گیا، جب ماحول خراب ہوا تو یک دم میڈیا نے بھی منفی رپورٹنگ شروع کر دی اور جیسا کہ آپ کو معلوم بھی ہے کہ ایسے مواقع پر میڈیا منفی پروپیگنڈا کتنی جلدی کرتا ہے اور الحمداللہ ہمارے میڈیا نے اپنی روایات برقرار رکھی اور ایسا ہی ہوا، فوری طور پر میڈیا نے یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ شہداء کے لواحقین نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا جبکہ شہداء کے کسی بھی وارث کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔ ہم فوراً ایک کمرے میں آئے اور وہاں پر 10 رکنی ایک وفد بنایا اور اس وفد کو شہداء کے خانوادوں کے پاس بھیجا۔ وہاں پر صورتحال کچھ اس طرح تھی کہ دھرنا ایک گراؤنڈ میں تھا اور شہداء کی لاشیں امام بارگاہ میں موجود تھیں اور شہداء کے تمام لواحقین اپنے اپنے جنازوں کے ساتھ وہاں پر تشریف فرما تھے لہٰذا شہداء کے لواحقین سے بات چیت ہوئی اور انہوں نے مجھے خود فون کر کے اور آ کر کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور پوری طرح سے آپ پر اعتماد کرتے ہیں، شہداء کے لواحقین نے مجھ سے کہا کہ ہم علمائے کرام کے ساتھ ہیں اور جو آپ نے فیصلہ کیا ہے وہ سر آنکھوں پر تسلیم خم ہے، ہم قبول کرتے ہیں، اس لیے ہم کسی کی شرانگیزی میں نہیں آئیں گے۔ جب انہوں نے یہ بات کی اور انہوں نے کہا کہ یہ بات آپ خود میڈیا سے کریں کہ وہ قوم کو یہ پیغام دیں، انہوں نے اس کو تسلیم کر لیا لہٰذا اس کے بعد ہم نے رات کو 12 بجے امام بارگاہ میں چلے گئے اور امام بارگاہ میں شہداء کے تمام لواحقین کو اکٹھا کیا اور سب کی باتیں سنی گئیں اور سارے مطالبے ایک ایک کر کے انہیں بتائے گئے اور تمام تر تفصیلات بتائی گئیں، اس کے بعد شہداء کے لواحقین نے اعلان کیا کہ ہم کل صبح ان جنازوں کو دفنائیں گے اور اس دھرنے کو ہم خود کل ختم کرائیں گے۔ اس کے بعد آپ سب نے دیکھا کہ رات کو تقریباً ساڑھے 12 یا 1 بجے کے قریب پریس کانفرنس کی گئی جو میڈیا پر لائیو چلی، اس میں شہیدوں کے لواحقین و عزیزوں نے خود آ کر یہ باتیں کیں اور ان مطالبات کو تسلیم کرنے اور دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ہم نے وہاں پر بھی کہا تھا، آج بھی کہتے ہیں اور آئندہ بھی کہیں گے کہ ہمارا دین ہمیں استقامت دیکھاتا ہے، ہمارا دین ہمیں پاکیزگی سکھاتا ہے، ہمارا دین ہمیں اجتماعی میدان میں بصیرت سکھاتا ہے۔ جن میں بصیرت کی کمی ہوتی ہے، وہ اپنی سادگی کی وجہ سے دشمن کی چالوں میں آ جاتے ہیں اور جب دشمن کی چالوں میں آتے ہیں تو علی ؑ کے مقابلے میں خدا کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، یہ تاریخ ہے اور تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ سادہ لوح لوگوں کو HDP نے جو ایک دین ستیز اور دین مخالف قوت ہے، جس نے شہدائے کوئٹہ کے خلاف اور دین کے خلاف سرگرمیاں دیکھائیں وہ سارے شہر اور لوگوں کو پتہ ہے، ان کی ان سرگرمیوں کو تاریخ نہیں بھولی اور نہ ہم بھولیں ہیں لیکن ان کی اس سازش میں ہمارے بعض سادہ لوح لوگ ان کے کام آ گئے۔
میجک والوں کی ساشیں شروع ہوگئیں خاتون کی نعرہ بازی
جب شہداء کے لواحقین نے یہاں پر پوری طرح سے حمایت کا اعلان کیا اور ہم اٹھے تو تب کوئٹہ کے اندر ایک لوکل ٹی وی چینل نے (جو ہزارہ کمیونٹی میں چلتا ہے اور اس کو چلانے والا بھی HDP کا ایک گروپ ہے، اس گروپ کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی MAGIC کے نام سے ٹی وی چینل چلاتے ہیں) فوراً سٹیج پر جا کر نعرہ لگا دیا کہ دھرنا ہو گا دھرنا ہو گا جینا ہو گا مرنا ہو گا۔ شہداء کے لواحقین نے ان نعروں کے باوجود آ کر اعلان کیا کہ ہم خود یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ تمام مطالبات ہمیں منظور ہیں اور کل ہم جنازے اٹھائیں گے۔ جب شہداء کے لواحقین نے یہ اعلان کیا تو HDP کی اس لڑکی اور اس لڑکی کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو پائی لیکن باقی دنیا تو وہاں پر موجود نہیں تھی اور ٹی وی کی آنکھ نے تو صرف وہ منظر دیکھایا جس میں اس لڑکی نے نعرہ بازی کی لہٰذا بہت سارے دوستوں کو غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شہداء کے لواحقین نے ماننے سے انکار کیا ہے۔ الحمداللہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے۔ الحمداللہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قبر میں جانا ہے اور قبر میں نبی کریمؐ اور علی مرتضیٰ ؑ ، بی بی دو عالم ؑ ، امام حسن ؑ و امام حسین ؑ کو جواب دینا ہے اور شہداء کا خون ایسا خون نہیں ہے کہ جو رائیگاں جائے۔ جو بھی شہداء کے خون کے ساتھ غداری کرے گا، وہ نہ دنیا میں سرخرو ہو گا اور نہ ہی آخرت میں۔ اس لیے ہم نے آخری وقت تک یہ کہا اور ٹی وی پر بھی یہ کہا کہ جب تک ایک شہید کی فیملی بھی راضی نہیں ہوتی، ہمارے دھرنے ختم نہیں ہوں گے اور الحمداللہ جب تمام شہداء کی فیملیز راضی ہوئیں تو اس کے بعد دھرنوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
امام بارگاہ پر میجک کے تالے
رات یوں گزری اور صبح 7 بجے HDP کی کچھ خواتین میدان میں اتر آئیں اور انہوں نے جا کر امام بارگاہ کہ جس میں شہداء کے جنازے موجود تھے کو باہر سے تالے لگا دیئے۔ تالے لگانے کے بعد نعرہ بازی شروع کر دی۔ آپ ویڈیو کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔ میڈیا نے دوبارہ یہ خبر پھیلانا شروع کر دی کہ شہداء کی فیملیز نے جنازوں کی تدفین سے انکار کر دیا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ شہداء کے خانوادے تو امام بارگاہ کے اندر موجود تھے۔ ہمارا سوال یہ تھا کہ رات کو تو امام بارگاہ میں موجود شہداء کی فیملیز نے مطالبات کو تسلیم کیا تھا اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اچانک باہر سے خواتین کہاں سے آ گئیں۔ جب دین نہ ہو، جب خدا کا خوف نہ ہو تو پھر شہداء کے مقدس ترین لہو کو بھی اپنے کم ترین اور بے قیمت ترین مقاصد کے لیے اس طرح سے استعمال کیا جاتا ہے۔ آفرین ہو ان شہداء کے وارثوں پر جن میں علماء بھی تھے اور غیر علماء بھی تھے، پاکیزہ ترین لوگ تھے، خود جا کر اپنے ہاتھوں سے تالے توڑے اور اپنے جنازے نکالے، یہ لوگ نہ ان HDP کے بدمعاشوں کے دھونس میں آئے اور نہ ان کی سازش کا شکار ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنازہ ہوا۔ جنازے کے دوران بھی انہی لڑکیوں کو بھیجا گیا تاکہ بدمزگی پیدا ہو اور وہ بدمزگی شہداء کی اپنی فیملیز نے دور کر دی، مقابلہ کیا اور اپنے جنازوں کو نہایت تقدس اور احترام کے ساتھ خود دفنایا۔ میں یہاں پر چند باتیں گزارش کروں گا کہ جو لوگ کوئٹہ کی صورتحال سے واقف نہیں ہیں، وہ پہلے کوئٹہ کی صورتحال کو سمجھیں، وہاں پر موجود طائفہ اور قبائلی سسٹم کو سمجھیں، وہاں پر فعال لسانی گروپ کی فعالیت کو سمجھیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح سے امام خمینیؒ ، رہبر معظم سید علی خامنہ ای، اسلامی انقلاب، تشیع کی روح کے دشمن ہیں اور کس طرح سے تشیع کو خراب کرنے کے لیے رات دن پروپیگنڈوں میں لگے رہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ امیر شام کی سازشوں کی طرح سے ہم بھی ان سازشوں کا شکار ہوں جو دین کے نام پر اور خدانخواستہ اپنے مقدس مشن سے غلط فہمی کی وجہ سے ہٹ جائیں۔ اب بھی الحمداللہ جب یہ اعلان ہوا اور پورے پاکستان میں اور پوری دنیا بھر میں بھی دھرنے اسی وقت ختم کر دیئے گئے، البتہ کچھ دوستوں نے مناسب سمجھا کہ جب تک شہداء کی لاشوں کی تدفین نہیں ہوتی، اس وقت تک دھرنا بھی باقی رہے گا۔ بہرحال یہ ان کا جذبہ تھا جو اچھی بات ہے۔ جب اعلان ہوا کہ تدفین ہو چکی ہے تو انہوں نے اپنے دھرنے بھی ختم کر دیئے۔
آخر میں دو اہم باتیں
یہاں پر دو باتیں اور ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایسے موقع پر جب فتنہ ہوتا ہے تو اس فتنے سے ہمیشہ آپ کا دشمن استفادہ کرتا ہے اور وہ دشمن آپ کو آپس میں لڑانے کے لیے ہی جدوجہد کرتا ہے، اس جدوجہد میں سادہ لوح لوگ مارے جاتے ہیں اور یہ ہمیشہ تاریخ میں ہوتا رہا ہے اور اب بھی میسجنگ کا ایک طوفان برپا کیا گیا اور پھر وہ جماعتیں جن کا وجود لسانیت پر ہے اور دین ستیزی اور دین دشمنی پر جن کی بنیاد قائم ہے، انہی نے شہداء کا پرچم اٹھا کر بیان بازیاں شروع کر دیں، چاہے وہ سندھ کی لسانی تنظیم ہو، چاہے وہ کوئٹہ کی لسانی تنظیم ہو، ہمیں افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر اور یہ سن کر کہ ایسے موقع پر شہداء کے خون کو ان لوگوں نے نہیں بخشا اور کچھ سادہ لوح لوگ ان کے ان پروپیگنڈوں اور ان سازشوں کی زد میں آ گئے لیکن الحمداللہ یہ غبار چھٹ چکا ہے اور سب کو معلوم ہو چکا ہے کہ حقائق کیا تھے، آج اور کل جس طرح لوگوں کو آگاہی پہنچی ہے اور لوگوں نے اصل حقائق کو سمجھا ہے تو وہ شکوک و شبہات بادل چھٹ چکا ہے اور الحمداللہ لوگ اب مطمئن ہیں۔ ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ حقائق اور جو بھی واقعات ہیں، ان کو تفصیل کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے، ان تفصیلات کی تصدیق آپ ان تمام علماء اور ان تمام لوگوں سے کر سکتے ہیں جو ان اجلاس میں موجود تھے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، چاہے ان کا تعلق مجلس وحدت مسلمین سے ہو، چاہے شیعہ علماء کونسل سے ہو یا آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی سے ہو یا کوئٹہ یکجہتی کونسل سے ہو یا ان کے علاوہ کوئٹہ کے دیگر علمائے کرام ہوں۔ جو حقائق میں نے بیان کیے ہیں وہ بالکل درست ہیں۔ میرے پاس کوئٹہ ہی کے ہزارہ دوستوں کے اتنے سارے میسج موجود ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا کہ ہم شرمندہ ہیں کہ HDP کی سازشوں سے آپ علمائے کرام کہ جنہوں نے اتنی قربانیاں دیں اور اس مقدس مشن کو سربلند رکھنے کے لیے جدوجہد کی، ان علمائے کرام کی کس انداز میں کردار کشی کی گئی اور لوگوں کو علمائے کرام سے اور دین سے دور کرنے کی سازش ہوئی لیکن الحمداللہ وہ تمام کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور حق جیت گیا۔ قرآن کریم کا یہ وعدہ ہے کہ پانی ہمیشہ صاف ستھرہ باقی رہتا ہے، اس کے اوپر موجود جھاگ چند ابتدائی لمحوں کے لیے ہوتی ہے اور اس کے بعد جھاگ ختم ہو جاتی ہے۔ الحمداللہ جھاگ ختم ہو چکی ہے، غبار چھٹ چکا ہے اور لوگوں تک حقائق پہنچ چکے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری زندگی کو شہداء کے مقدس مشن کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے اور ہماری زندگی کو اسی راہ میں سرف کرنے کی توفیق دے اور وہ دن جب ہم میں سے کوئی بھی شخص شہداء کے خون سے غداری کا سوچے وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو اور اس کو خدا اٹھا لے۔ اللہ تعالیٰ سے ایک اور دعا ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں، شہداء کی راہ میں زندہ رہیں اور جب دنیا سے اٹھنے لگیں تو ہمیں انہی شہیدوں کے ساتھ دنیا سے اٹھنا نصیب فرمائے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree