The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نےتین روزہ مرکزی راہیان کربلا کنونشن سے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ انسان جب ایک مکتب اور آئڈیالوجی کو اپناتا ہے وہ مکتب اور نظریہ اگر جامعیت رکھتا ہو تو وہ انسان پرکچھ فرائض عائد کرتا ہےجواجتماعی بھی ہوتے ہیں اور انفرادی بھی ہوتے ہیں۔ مکتب اسلام ایک جامع دین ہے اور دنیا اور آخرت کی سعادتوں کا ضامن ہے ، جہاں اسلام ہماری انفرادی ذمہ داریاں بیان فرماتا ہے وہیں اجتماعی ذمہ داریوں کا تعین بھی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم ستیزی ہماری اجتماعی دینی ذمہ داری ہے، یزیدی سوچ سے ٹکرانا ہے، ظلم سے ٹکرانا ہے ۔مبارزہ اور جدوجہد کرنی ہے ، عدل کا پرچم اٹھانا ہے اور غلامی رنجیروں کو توڑنا ہے ۔ آزادی خواہی کے لئے اٹھنا ہے ، جہالت کا خاتمہ کرنا ہےاور جاہلیت کا مقابلہ کرنا ہے ، پاکی طہارت عفت اور پاکدامنی کو رواج دینا ہے ۔ لوگوں کو دنیا کی محب کے ہسار اور زندان سے نجات دلانی ہے ۔ ہمیں معاشرے کی اصلاح کرنی ہے اور شعور دینا ہے۔ آگہی اور بصیرت دینی ہے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نفاذ کرنا ہے۔ ظالم حکمرانوں سے ٹکرانا ہے زمانے کے فرعونوں کو للکارناہے۔ان کے مقابلے کیلئے میدان میں اترنا ہے یہ اجتماعی فرائض ہیں جو اسلام نے ہم پر عائدکیئے ہیں، انسان کسی نظم میں ڈھلےبغیر کسی تنظیم کے بغیر ان فرائض سے عہدہ براں نہیں ہوسکتا ۔عقل و شعور کہتا ہے ہمیں جمع ہوجانا چاہئے۔ یہ طیب و طاہرآرزؤں اور ارمانوں کے حامل لوگوں کا مجموعہ ایک جماعت کہلاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اُس زمانے میں ایم ڈبلیوایم کے پلیٹ فارم سےاپنے اجتماعی فرائض کی انجام دہی کا کام شروع کیا جب ملک کے حالات انتہائی نامساعد تھے، دشمن نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا، پاراچنار اور ڈی آئی خان محاصرے میں تھے،گلگت بلتستان سے کراچی تک گلی گلی شیعہ نسل کشی جاری تھی۔ ہمارے حقوق پامال ہورہے تھے۔ ہمیں مایوس اور ناامید کیا جارہاہے۔ ہمیں بےچارہ بنایا جارہا تھا ڈرایادھمکایا جارہاتھا۔ پوری ریاستی طاقت و جبراور ملکی وبین الاقوامی غنڈے اور بدمعاش ہمارے خلاف اکھٹے ہوگئے تھے۔ یہ سارے مل کر یتیمان آل محمد ؐ پر حملہ آور تھے۔ان خطرناک حالات میں کچھ مخلص دوست شہید قائد کی شہادت کی مناسبت سے اسلام آباد میں اکھٹا ہوئے  

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو لیبیا نہیں بننے دینا ،آج  سب کہہ رہے ہیں پاکستان ٹیکنیکلی ڈیفالٹ کرچکا ہےیعنیٰ پاکستان کا معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکاہے۔ مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے، کہا جارہا ہےکہ آنے والے دنوں میں غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ آپ نے دیکھا  جو کچھ لیبیا میں ہوا امریکاچاہتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو، دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت بھی چھن جائے اور وہ ایک کمزور اور لاچار اورٹوٹا ہوا پاکستان باقی رہ جائے ان کا جوارادہ شام کیلئےتھا وہی پاکستان کیلئے ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمارا واضح موقف ہے کہ اگر پاکستان میں ہمارے کسی دشمن کی بھی حکومت ہوتو ہم کسی بیرونی دشمن کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے ملک میں گھس کر وہ حکومت گرائے۔ کوئی بھی غیرت مند پاکستانی برداشت نہیں کرے گا کہ ہزاروں کلومیٹر دور سے زمانے کا فرعو ن امریکا اٹھے اور یہاں اکھاڑ بچھاڑ شروع کردے ۔ہمارا ایمان اجازت نہیں دیتا کہ اپنے دشمن کے ساتھ مل کر اپنے وطن میں حکومت گرائیںیہ کام صرف کوئی بےغیرت اور بے حیاء ہی کرسکتا ہے۔ ہم شہید قائد کے ماننے والے ہیں شہداء کے پیروکار ہیں خدا کبھی وہ وقت نہ لائے کہ خیانت کا داغ ہماری پیشانی پر آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اندر بہت کمزوریاں بھی ہیںجنہیں پر ہمیں توجہ دینی چاہئے، ہمارے تنظیمی سیٹ اپ کے اندر جازبیت ہونی چاہئے، ایسانہیں ہونا چاہیے کہ مثلاً میں کسی کو ذاتی طور پر پسند نہیں کرتا اس لیئے اسے تنظیم میں آنے نہیں دیتا ، میں دوسروں کیلئے شرح صدر نہیں رکھتا تنگ نظری کا مظاہرہ کرتا ہوں۔ ایسے روئیے سے جماعت سکڑنا شروع ہوجائےگی۔ میرا کوئی دشمن بھی ہو جو مجھے پسند نہیں کرتا لیکن مجلس کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو تواسے حق ہے کہ مجلس میں کام کرےمیں معیار نہیں ہوں کہ کوئی مجھ سے محبت کرے تو ہی مجلس میں کام کرسکتا ہےورنہ نہیں ۔ یہ امانت ہے ہمارے پاس قوم وملت کی اور یہ ان لوگوں کی امانت ہے جنہوں نے مبارزہ کرنا ہے ظلم کے خلاف انہیں ایک پاکیزہ پلیٹ فارم چایئے۔ہمارے پاس کوئی عذر نہیں ہے انہیں شامل نہ کرنے کیلئے، ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا چاہئےکہ ہم نے کتنے لوگوں کو جماعت میں شامل کیا ہے کتنے لوگوں کو دعوت دی ہے ۔ اخلاص ہوگا تو ہی ہم آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین قربانی دینے والوں کا پلیٹ فارم ہے ۔ شہیدوں کے راستے پر چلنے والوں کا پلیٹ فارم ہے اور شہیدوں کے راستے پر وہی چل سکتا ہے جو شہادت کی آرزو رکھتا ہواور شہادت کے تعقب میں ہو وہی جماعت کامیاب ہوسکتی ہے ۔ ہمیشہ زندہ رہنے اور بڑے بڑے محلات بنانے کا شوق مال وزر جمع کرنے کا شوق ہماری جدوجہد کے ساتھ میچ نہیں کرتا ۔ غیبت کرنے والے ، بغض رکھنے والے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والے لوگ کبھی منزل کی جانب نہیں بڑھ سکتے۔ اس لیئے مجلس کا ماحول اور کلچر خدائی ہونا چاہئے۔ہمارا دفتر جائے عبادت ہو مسجد کی طرح ہو۔ ہم باوضو ہوکر تنظیمی دفاترمیں بیٹھیں اور فرائض انجام دیں۔ ہماری جماعت کا ماحول نماز باجماعت کی طرح ہوناچاہئے جیسے نماز میں صف ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ہمیں قاری قرآن و دعا ہونا چاہیے، ایسے افراد کا اجتماع ہی بلندیوں کی جانب پروازکرسکتا ہے کوئی اور نہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان ایک بڑے مرحلے میں داخل ہونے جارہاہے،ہمارےشہید قائد کہتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں ہونے چاہئیں ناکہ واشنگٹن میں،وہ کہا کرتے تھے کہ ہماری خارجہ پالیسی ہر قسم کے بیرونی دباؤ سے آزاد ہونی چایئے ہمارے حکمران آج یہ باتیں کررہے ہیں لیکن ہمارے شہید قائد 35 برس قبل یہ فکر دیکر گئے تھے۔ وہ کہتے کہ جو امریکا کا یار ہے غدار ہے غدار ہے ۔یہ سلسلہ وہاں سے شروع ہے ۔یہ ہمارا بیانیہ ہے یہ ہمارا ایجنڈا ہے جسے قرطاس پاکستان پر ہمارے شہداء نے اپنے خون سےرقم کیا ہے ہم کیسے اس سےلاتعلق رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنظیمی دورانیےکہ اختتام پر اپنی اور اپنی کابینہ کی جانب سے ہوئی کوتاہیوں اور خامیوں پر معذرت خواہ ہوں۔ ہماری تربیت ویسی نہیں ہے جیسی ہونی چاہئے تھی ہم ویسے نہیں ہیں جیساہمیں ہونا چایئے تھا۔ میرے سر پر عمامہ ہے میرا اللہ گواہ ہے میں خود کو اس ذمہ داری کا اہل نہیں سمجھتااور ہمیشہ تکلیف میں رہتا ہوں۔ ہمارا خدا بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیںکتنے ناتواںہیں ۔میں اپنے خدااور امام زمانہ ؑ کی بارگاہ میں اپنی کوتاہیوں کی معافی چاہتا ہوں۔ لوگ میرے استقبال کیلئے کھڑے ہوتے ہیں باخدا مجھے شرمندگی ہوتی ہے ،ہم اس عزت اور شرف کے لائق نہیں ہیں ،اے ہمارے رب شہید قائد جیسا کوئی بھیج دے کہ جس کے ہم جس کے پیچھے چلیں۔جس کی قیادت پر ہم سب اکھٹا ہوں جو عابد شب زندہ دار تھا اور قاری قرآن تھا جو اہل دعا ومناجات تھا ۔ میں اپنے تنظیمی دورانئے کہ اختتام پر اپنی اور اپنی کابینہ کی جانب سے ایک بار پھر آپ سے اپنےرب سے امام زمانہ ع سے معافی کا طلبگار ہوں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوری عمومی نے جماعت کے تنظیمی ڈھانچے میں موجودمرکزی ، صوبائی ، ضلعی اور یونٹس کابینہ کےاہم کلیدی عہدوں کی تبدیلیوں کی منظوری دے دی ۔

تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اسلام آباد میں جاری تین روزہ مرکزی تنظیمی راہیان کربلا کنونشن کے دوسرے روز کے تیسرے سیشن کے دوران شوریٰ عمومی کے اراکین نے دستور کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی سفارشات پر رائے شماری کے ذریعے اہم دستوری ترامیم کی منظوری دے دی ہے ۔

ایم ڈبلیوایم کی شوریٰ عمومی نے کثرت رائے سے جماعت کے مرکزی سیکریٹری جنرل (سربراہ) کے عہدے کی جگہ چیئرمین اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی جگہ وائس چیئرمین کے عہدے کی منظوری دے دی۔اب آئندہ مرکزی سیکریٹری جنرل کی جگہ چیئرمین ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی جگہ وائس چیئرمین لکھا ، پڑھا اور پکاراجائے گا ۔

صوبائی ، ڈویژنل ،ضلعی اور یونٹس سطح پر سیکریٹری جنرل کی جگہ صدر کے عہدے اور ڈپٹی سیکریٹری کی جگہ نائب صدور کے عہدے اور کابینہ میں ایک جنرل سیکریٹری اور ایک سے زائد ڈپٹی جنرل سیکریٹریز کے نئے عہدے شامل کیئے گئے ہیں۔ لہذٰا اب صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور یونٹ سیکریٹری جنرل صاحبان کو صدر لکھا ، پڑھا اور پکاراجائے گا ۔

اس کے علاوہ ایم ڈبلیوایم کے دستوری نکات میں موجود بعض سقم ختم کرکے نئی سفارشات منظور کی گئیں اور تنظیمی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران اور شعبہ جات کی شرائط، اختیارات اور فرائض میں بھی بعض تبدیلیوں کی بھی منظوری لے لی گئی ہے۔

دستوری ترامیم پرسفارشات کی منظوری کیلئے منعقدہ اس اجلاس شوریٰ عمومی میں رکن دستورکمیٹی نثار علی فیضی ، مرکزی سیکریٹری امورسیاسیات اسدعباس نقوی نے دستوری ترمیمی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی ۔

واضح رہےکہ موجودہ مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے شوریٰ عمومی سے اپنے آخری کے بعد اپنی مرکزی کابینہ کے ہمراہ اپنے اپنے عہدوں سے باضابطہ طور پر مستعفیٰ ہونےکا اعلان کردیا ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین کی شوریٰ عمومی آئندہ تین سال 2022تا 2025تک لئے نئے پارٹی چیئرمین کا انتخاب آج 15 مئی بروز اتوار خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرے گی۔جس کا اعلان چیئرمین شوریٰ عالی کریں گے۔

وحدت نیوز (رپورٹ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پانچویں مرکزی سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیئے دستوری طور پر مرکزی شوریٰ کا تین روزہ اجلاس راہیان کربلا کنونشن کے عنوان سے جامع امام الصادق ؑ میں جاری ہے ۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی 12 سالہ شاندار اجتماعی و سیاسی جدوجہد کی جائزہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

فہرست

1۔عوامی بیداری مہم و ملی یکجہتی:        

2۔مختلف ملکی اور عالمی ایشوز پر اسٹینڈلیا گیا :

3۔شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی ؒ کی برسی کے پروگرامز:

4۔قائد شہید ؒکے مشن کی تکمیل اور سیاسی بیداری :

5۔فلاحی خدمات :

6۔احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعدقومی ثمرات:

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی کارکردگی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاءاس کا نصب العین ہے۔مجلس کو تشکیل پائے زیادہ سے زیادہ بارہ سال ہوچکے ہیں (۱۰ اپریل ۲۰۱۰ مجلس کا یوم تاسیس ہے ۔ اب اس مدت میں پاکستان جیسے معاشرے میں حالات کومدنظر رکھا جائے تو مجلس وحدت سے وہ توقع نہیں کی جاسکتی جو کئی دہائیوں پر محیط اور تسلسل رکھنے والی جماعت سے کی جانی چاہیے مجلس کی فعالیت زیادہ تر رضاکارانہ ہیںمجلس کے اند ربااخلاص لوگ رضاکارانہ طور پر فعال ہیں وہ اپنے الھی جذبے میںسرگرم ہیں ان کے سینوں میں موجود آرزو اور وژن انہیں میدان میں رکھے ہوئے ہے۔مجلس کی تشکیل ملت میں لگی آگ بجھانےوالے ریسکیو آپریشن کی طرح تھی جس میں ہنگامی کیفیت ہوتی ہے اب جب کہ آگ بجھ گئی ہے تو صفائی و ستھرائی کا عمل بھی انجام پارہا ہے خواہ اسباب کچھ بھی ہوںبہت سے دوست اس لئے فعال نہیں ہوں گےکہ شائد ان کے اپنے ذاتی مسائل آڑے آرہے ہوں جس کا انہیں حق ہے گرچہ اجتماعی الھی نہضتوں کا خاصہ ہے کہ کچھ تومشکلات سہہ نہیں پاتےاور کچھ کسی وجہ سے راستے بدل لیتے ہیں۔بہرحال مجموعی طور پر صورتحال اطمینان بخش ہے ۔ حالات و واقعات سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔

مجلس پر بات کرنے سے پہلے مجلس کی تشکیل سے پہلے والی صورتحال مکمل طور پر ذھن میں رہے تو تب اس عرصے میں آنے والی پیش رفت اور تبدیلیاں نظر آئیں گی. اور احساس ہو گا کہ سب کچھ خو بخود نہیں انجام نہیں پایا بلکہ ان اہم نتائج کے حصول کے لئے رہنمائوں،کارکنان اور مجلس کی حمایت کرنے والے عوام نےملکر قربانیاں دیں ہیں۔ اور جس سرزمین پر دشمن ملت تشیع کو اجتماعی میدان سے نکال کر دیوار سے لگا دینے پر مطمئن ہو چکا تھا. اسی میدان میں شیعہ قوم ایک ایسی قدرت کے ساتھ اتری ہے کہ تکفیریت کو تنہا کر دیا ہےصرف یہی نہیں بلکہ تکفیریت کے مرکز سے اندرون ملک ان کے اشاروں پر چلنے والے حکمران ،سیاستدان اورتکفیری سہولت کاروں کو کئی موقعوں پر ذلت ورسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑاہے۔بیرون ملک مکتب اہلبیت ؑ سے تعلق رکھنے والے  بھی (اندرون ملک) اکثریت کی طرح اس وقت جس پاکستانی شیعہ قومی جماعت پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اوراس سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں وہ واحد قومی جماعت مجلس وحدت مسلمین ہے۔اویہی دشمنوں کی آنکھ کا کانٹاہےدشمن سب سے زیادہ اس کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈےکرتا ہے۔ہمیں ان گذشتہ12 سالوں پر محیط اس کی جدوجہد اور اسکے ثمرات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور بہتری کے لئے مزید جدوجہد کرنی چاہیے سفر طولانی اور رکاوٹیں بہت ہیں۔ دردمندوں کو نصیحتوں اور مشوروں کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کا بوجھ بھی اٹھانا چاہیے۔تاکہ سفر تیزی کے ساتھ درست سمت پر جاری وساری رہے قائد اعظمؒ وشہید قائدؒکے یہ بااخلاص فرزند جنہوںنے رات دن کی محنت سے مجلس وحدت کو اس مقام پر پہنچایا کہ فقط ملت تشیع ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کا سہارا اور خدمت گزاربن چکی ہے اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ملکر دشمنان اسلام ودشمنان پاکستان کو ہر میدان میںرسوا وذلیل بھی کررہی ہے اور وطن عزیز کی تعمیر وترقی اور عدالت الہی کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے ۔

الحمدللہ آج جماعت کی نظریاتی بنیادیں بہت مضبوط ہیں وژن اور مشن بھی واضح ہے اس کی طرف حرکت بھی تیزی سے جاری ہے۔ہر شعبہ رفتار میں توازن کا باعث بنتا ہے۔ تمام شعبوں کی طرف ہماری نگاہیں برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل کی بنیاد پر مرکوز ہونی چاہئے تاکہ اس ساری مجموعی حرکت میں توازن برقرار رہے۔ عوام میں جڑیں مضبوط کرنا آئیڈیل ادارے بنانا اورہر فیلڈ میںاس فیلڈ کے ماہرین اور متخصصین کو جذب کرنا درحقیقت یہ ایسی مستحکم بیس اور بنیاد ہے جس پر صدیوں پر محیط طویل جدوجہد کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔مجلس وحدت نےاتنے کم عرصے میں جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں مختصرطور پر قارئین محترم کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں ۔

عوامی بیداری مہم و ملی یکجہتی

مجلس وحدت مسلمین نے عوامی بیداری مہم کے سلسلے میں کچھ ایسے اجتماعات منعقد کرائے ہیں جس میں ہزاروں لوگ شریک ہو ئے ہیں ۔
۱۔ کراچی ،نشتر پارک میں پیام ولایت کانفرنس کا انعقاد
۲۔ کراچی انچولی گرائونڈ میں استحکام پاکستان کانفرنس کا انعقاد
۳ ۔لاہور مینار پاکستان ،قرآن و سنت کانفرنس
۴ ۔کراچی، نشتر پارک قرآن و اہلبیتؑ کانفرنس  
۵ ۔ اسلام آباد، میں دفاع وطن کنونشن کا انعقاد
۶ ۔اسلام آباد، استحکام پاکستان کنونشن کا انعقاد
۷ ۔ کراچی، نشتر پارک امام مہدی کانفرنس
۸ ۔حیدرآباد، لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس
۹۔ فیصل آباد ،حسین ؑ سب کا کانفرنس  
۱۰ ۔لاہور ، نزول قرآن کانفرنس
۱۱ ۔اسلام آباد پیام وحدت کنونشن  
۱۲۔اسلام آباد پیام ولایت کنونشن
۱۳۔ ڈیرہ اسماعیل خان میںمجلس کے زیر اہتمام عظمت شہداء اور مھدیؑ برحق کافرنسززکا انعقاد
14۔ وحدت اسلامی و استحکام پاکستان کنونشن
15۔ جانثاران امام عصر کنونشن
16۔ سال 2020ء میں کرونا وباء کی وجہ سے مرکزی کنونشن (اجلاس شوری عمومی منعقد نہیں ہو سکا)
17۔ سال 2021ء میں کرونا وباء کی وجہ سے مرکزی کنونشن (اجلاس شوری عمومی منعقد نہیں ہو سکا)
18۔ مرکزی کنونشن راہیان کربلا، اجلاس شوری عمومی ،13،14،15 مئی 2022 ء کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے ۔
مختلف ملکی اور عالمی ایشوز پر اسٹینڈلیا گیا
۱۔قائد وحدت کی سربراہی میں امن کار وان کی پاراچنار روانگی
۲ ۔ پاراچنار کا۵ سالہ محاصرہ ختم کرایا گیا
۳۔کوئٹہ بلوچستان حکومت کی بساط لپیٹی گئی  
۴ ۔ سانحہ بابو سر پر بھرپوراور موثر احتجاج
۵ ۔ سانحہ چلاس پر پرزور احتجاج
۶۔ زائرین کے مسئلے پر قائد وحدت کا تفتان کا پرخطر سفر
۷۔ پاراچنار کی مظلوم عوام اور شہدائے پاراچنار سے اظہار یکجہتی کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے حکم پر پورے ملک مین دھرنے دیئے گئےپاراچنار کے مسائل کا حل اورمجلس وحدت کی جانب سے بھرپور احتجاج کی بدولت آرمی چیف نے پاراچنار کا دورہ کیا اور عوامی مطالبات کو تسلیم کیا ۔پاراچنار کے مظلوم عوام کے مطالبات ایم ڈبلیو ایم کے دھرنوں کے باعث تسلیم کیے گئے ۔
۸ ۔گلگت بلتستان زمینوں کے مسائل کااور عوامی مطالبات کی مکمل حمایت   
۹۔ کوئٹہ ہزارہ کمیونٹی کے مسائل کا حل
۱۰ ۔گلگت بلتستان سبسڈی کامسئلہ اور یوم حسین ؑ پر عوام کی مکمل حمایت اور احتجاج کی کال
۱۱۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر تکفیریوں کے حملے بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سےسیہون شریف سندھ میں ’’ تحفظ مزارات اولیاءکانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں لاکھوں زائرین نے شرکت کی اور یوں عوام پر چھائی مایوسی کو ختم کیا گیا۔  
۱۲۔ڈیرہ اسماعیل خان جہاں شیعہ نام جرم بن گیا تھا اور لوگ رات کی تاریکی میں اپنے شہداء کے جنازے دفن کرتے اور ایک طرح سے ناامید ہو چکے تھے حتیٰ اکثر لوگ وہاں سے ہجرت کرگئے تھے ۔

مجلس وحدت مسلمین نے ڈیرہ میں عظمت شہداء کانفرنس کا انعقاد کیا تو لوگوں کو حوصلہ ملا ڈیرہ کے غیور عوام نے اپنے شہداء سے اظہار یکجہتی کے لئے ڈیرہ کی تاریخ میں پہلی بار دھرنا دیا اور اپنے حقوق کے لئے گھروں سے باہر آئے ۔ کے پی کے کی حکومت کو مجبوراً کمیٹی تشکیل دینا پڑی تاکہ وہ ڈیرہ کے حالات کا جائزہ لے ۔خود عمران خان بھی بھوک ہڑتالی کیمپ آئے اور ڈیرہ کے عوامی مطالبات کی حمایت کی ۔ اور ان کے حل کے لئے یقین دہانی کرائی ۔ ابھی کچھ دن پہلے بھی ڈیرہ میں’’ مھدی برحق ‘‘کے نام سے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس سے قائد وحدت نے خطاب کیا ۔  

۱۳۔سال2020ء میں سانحہ دلخراش مچھ رونماہوا ۔جس پر شہداء کے ورثا ءنے احتجاج کیا اور جنازوں کو لیکر سخت سردی میں کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائوں میں بیٹھے رہے۔ شہداء کے لواحقین نے یہ مطالبہ کیا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور اپنے پیاروں کے جنازے نہیں دفنائیں گے ۔

۱۴ ۔ قومی متنازعہ نصاب پر تمام قومی و ملی جماعتوں سے ملکر اسٹینڈ لیا گیا ۔ حکومت کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔ نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور نمائندوں سے ملاقاتیں ، حکومتی وزراء سے ملاقاتیں اس کے علاوہ کئی ایک پریس کانفرنسز ، احتجاج اور قومی ملی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان جس کایہ نعرہ ہے کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں چاہیے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ظالم کے خلاف ہیں چاہیےوہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین نے بصیرت اور حکمت و تدبیر کے ساتھ شہداء کے لواحقین کا ساتھ دیا ۔مجلس وحدت کے مسئولین کوئٹہ پہنچ گئے ۔ حکومت وقت کے شدید دبائو اور ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹے رہے بالآخر نہ صرف وزیر اعظم کوبلکہ آرمی چیف کو بھی کوئٹہ آنا پڑا ۔ اور یوں مظلوموں کے مطالبات کو حکومت اور ریاست پاکستان نے من وعن مان لیا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہمیشہ قومی و ملی مفادات کو سامنے رکھا ۔ ذاتی اور شخصی مفادات کی نفی کی اورجب بھی ملت پر مشکل وقت آیا مجلس وحدت مسلمین پاکستان میدان میں سب سے پہلے نظر آئی ۔ اب یہی وجہ ہے کہ مکتب اہلبیت ؑ کے لوگ ہمیشہ مشکل وقت میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب رجوع کرتے نظر آتے ہیں اور مجلس وحدت کے مسئولین سے رابطہ کرتے ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھی ملت کو کبھی مایوس نہیں کیا ۔ جتنے مشکل سے مشکل حالات پیش آئے مجلس وحدت نے فرنٹ پر آکر اپنا رول پلے کیا ہے ۔


  شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی ؒ کی برسی کے پروگرامز

مجلس وحدت مسلمین کے مسئولین نے جب دیکھا کہ شہید قائد ؒکے افکارکووطن عزیز میں فراموش جا رہا ہے اور ان کے برسی کے سالانہ اجتماعات کو ختم کیا جارہا ہے تو مجلس میدان میں آئی اور شہید قائد ؒ کی برسی ان کے شایان شان طور پر منانے کا اعلان کیا اور اس دن سے لیکر آج تک شہیدقائدؒ کی برسی کا دن مجلس وحدت کا قومی تنظیمی دن بن گیا ہے اب مجلس کا سب سے بڑا اجتماع اسی دن اسلام آباد میں منعقد ہوتا ہے۔جس میں ہزاروںجوان ، مردو زن اور بچےبڑی عقیدت سے شرکت کرتے ہیں  ۔

۱۔سال 2013ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہیدکی 24ویں برسی کا اجتماع عظمت ولایت کانفرنس
۲ ۔سال 2014ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی25ویں برسی کا عظیم اجتماع عظمت شہداءکانفرنس ۔
۳ ۔سال 2015ءمیں ،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی26ویں برسی کا عظیم اجتماع دفاع وطن کانفرنس۔
۴۔سال 2016ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 27ویں برسی کا عظیم اجتماع استحکام پاکستان کانفرنس  ۔
۵۔سال 2017ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی28ویں برسی کا عظیم اجتماع تحفظ پاکستان کانفرنس ۔
۶۔سال 2018ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 29ویں برسی کا عظیم اجتماع مھدی برحق کانفرنس۔
 سال 2019ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 30ویں برسی کا عظیم اجتماع حمایت مظلومین  کانفرنس۔
 سال 2020ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 31ویں برسی کا عظیم اجتماع ناصران ولایت کانفرنس۔
 سال 2021ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 32ویں برسی کا عظیم اجتماع راہ ولایت و شہیدان راہ حق  کانفر نس منعقد ہوئی ہے۔
اب سال 2022ء میں اگست ان شاءا للہ برسی کا عظیم اجتماع اسلام آباد میں منعقد ہو گا ۔  

قائد شہید ؒکے مشن کی تکمیل اور سیاسی بیداری

۱۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان قومی سطح پر وہ واحد جماعت تھی جس نے ۲۰۱۳ کے الیکشن میں حصہ لیا اور اس کا انتخابی نشان خیمہ تھا ۔دھاندلی کے باوجود ایک سیٹ حاصل کی۔
۲۔ سال 2015 میں گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا جس کے نتیجے میں ۳ سیٹیں مجلس وحدت نے حاصل کیں۔
۳۔سال 2020 ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان میں 5 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر رہی اور صوب پنجاب میں ایک مخصوص نشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے
۴۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی بار بلدیاتی الیکشن(2022ء) میں کامیابی ملی اپر کرم میں تحصیل چیئر مین مجلس وحدت کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا ۔ اس کے علاوہ کئی ایک یونین چیئرمین اور کسان کونسلر اور آزاد کونسلرز منتخب ہوئے ۔
۵۔ اتحاد بین المومنین اور اتحاد بین المسلمین کےلئے کوششیں اور عملی اقدامات
۵۔ چار جماعتی اتحاد تشکیل دلوایا
۶۔اسلام آباد ،دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ۔
۷۔ کراچی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد
۸۔ ملتان ،اولیاء خدا کے مزارات پر تکفیریوں کے پے درپے حملوں کے خلاف اولیاءخدا کانفرنس کا انعقاد جس میں ۵۰ سے زائد اکابرین اور متولیان مزارات نے شرکت کی
۹۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےزیر اہتمام مجلس علماء امامیہ اور مجلس علماء شیعہ کا قیام
۱۰۔ ہرمیدان میں تنظیمی برادران کے شانہ بشانہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان اسمبلی میں ہماری ایک خواہر ممبرقانون ساز  اسمبلی ہیں ۔ اس کے علاوہ خواہران علمی ،تربیتی اور نظریاتی میدان میں بھی فعالیت کے لحاظ سے برادران سے کم نہیں ہیں ۔

فلاحی خدمات

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نےعوامی تعاون سے سب سے زیادہ کام فلاحی خدمات کے شعبے میں انجام دیا ہے ۔ابھی بھی کئی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ ان تمام صاحبان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عوامی خدمت کے فلاحی کاموں میں مالی معاونت کی ہے ۔  
۱۔ امن کاروان کے ذریعے۵سال سے پاراچنار کی مظلوم محصورعوام کا محاصرہ ختم کرایا ۔

۲۔پاکستان کی تاریخ میں جس سیلاب نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اس سیلابی صورتحال سے نبرد آزما ہونے اور متاثرین کی بحالی کے لئے ہنگامی اور کسی تعطل کے بغیر امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔

۳۔مجلس وحدت مسلمین کے رضاکاروںنے متاثرین سیلاب کے لئے دن رات کام کیااورضروریات زندگی کا سامان جمع کر کے روانہ کیا گیا ۔
۴۔ ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای کی تاکید کے بعدمجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھرپور توجہ دی اور امدادی سرگرمیوں کی رفتار میں تیزی لائی گئی
۴۔اشیائے خورد و نوش، ادویات اور دیگر ضروریات کا سامان فوری طور پر متاثرین کے روانہ کیا گیا
۵۔ پورے ملک میں ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کاقیام
۶۔سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننے والی فصلوں کے مالکان میں بیج اور دیگر زرعی ضروریات کا سامان تقسیم کیا گیا
۷۔ فوری طور پر مختلف مقامات پر خیمہ بستیاں بنائی گئیں
۸۔متاثرین کے مکانات، امام بارگاہیں اور مساجد کی تعمیر و مرمت کی گئی
۹۔ اسکولوں اور مدارس کا قیام
۱۰یتیموں کی کفالت کا منصوبہ
۱۱۔ تعمیر وطن پروگرام
۱۳۔رہائشی اسکیم
۱۴۔ تعمیر مساجد پروجیکٹ
۱۵۔ مکانات کی تعمیر
۱۶۔ شعبہ خواتین کی جانب سے (بیت زہراء) فلاحی ،رفاحی اورتعلیمی پروجیکٹ

احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعدقومی ثمرات

قومیں مرا نہیں کرتیں لیکن قومیں اس وقت مٹ جاتی ہیں جب ظلم کے سامنے خاموش ہو جائیں اور نامید ہو جائیں ۔اس کے متعلق حضرت امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے :
كُونا لِلظّالِمِ خَصماً و لِلمَظلُومِ عَوناً:ہرظالم کےمخالف اور ہر مظلوم کے مددگار بن کر رہنا آج مجلس وحدت مسلمین پاکستان بھی حضرت امام ؑ کے اس فرمان پر عمل پیراہے۔
۱۔عزاداری اور مکتب کے خلاف ہونے والی سازشوں اور حکمرانوں کے مکروہ چہروں کو عیاں کرنے کے لئے بھوک ہڑتال جیسا احتجاج ناگزیر ہو چکا تھا
۲۔جس طرح کوئٹہ کے واقعات میں قوم نے اپنی مظلومیت سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو بیدار کردیا تھا ۔ ایک بار پھر شہداء پاراچنار ،ڈیرہ اسماعیل خان ،پشاور سے اظہار یکجہتی کیا گیااور پورے پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی نے قوم کو بیدار کر دیا ہے ۔
۳۔دیگر مکاتب فکر و مسالک اور سیاسی پارٹیاں، تشیع کی مشکلات سے آگاہ نہیں تھیں۔وہ سب ہماری قوم کی مشکلات سے آگاہ ہو ئےہیں بلکہ تمام پارٹیوں اور مسالک کے سربراہوں اور نمائندوں نےبھوک ہڑتال کیمپ آ کرقائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہاریکجہتی کیا اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مطالبات کی مکمل حمایت بھی کی ۔
۴۔یہ مظلوموں اور محروموں کی ایک آوازجو بھوک ہڑتال کیمپ سے بلند ہوئی تھی بہت جلد عالمی سطح پر بیدار ضمیر انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔
۵۔بھوک ہڑتال کیمپ نے پوری قوم کو متحد کرکے ایک لڑی میں پرودیا ہے۔ملک کے تمام نامور ذاکرین اہلبیتؑ، ماتمی انجمنوں کے سالاروں اور نوحہ خوانوں نے بھی بھوک ہڑتال کیمپ آ کر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کی شیعہ حقوق کے دفاع کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
۶۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور عزاداری کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ملت جعفریہ کے حقوق کی پامالی کو تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا، اور بھوک ہڑتال کیمپ میں آکر ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کیا۔
۷۔ پاکستان میں شیعہ حقوق دفاع کے لیے پہلی دفعہ کسی عالم دین نے بھوک ہڑتال کی طویل تحریک چلا کر بے حس حکمرانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑا اور علماء دین کا وقار بلند کیا۔
۸۔اقلیتی برادری جیسے سکھ، ہندو اور مسیحوں نے ہمارے مطالبات کو پاکستان کے استحکام اور بقا کے لیے آئینی وجمہوری قرار دیا۔
۹۔اہل سنت کی اکثر جماعتوں اور قائدین نے اتحاد بین المسلمین کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے مطالبات کی مکمل حمایت کی اور کیمپ میں شرکت کر کے قائد وحدت سے اظہار یکجہتی کیا۔
۱۰۔ملت جعفریہ کے اتحاد کا عظیم مظاہرہ مختلف مواقع پر نظر آیا۔جس میں آل پارٹیز شیعہ کانفرنس پنجاب کے بڑے ذاکرین کا اجتماع، ذاکرت کانفرنس ،ماتمی انجمنوں کا اظہار یکجہتی، ملک بھر سے دانشوروں اور طلبہ کا اظہاریکجہتی اورحمایت ،سینکڑوں، خانوادگان شہداء کی کیمپ میں آمد اور اظہار یکجہتی ،پاکستان بھر کے جید اور بزرگ علمائے کرام اور مختلف مدارس کےطلبہ کا اظہار یکجہتی۔ بانیان مجالس کی حمایت بھی شامل ہے۔
۱۱۔۱۷جولائی کو خواتین اور بچوں کاقائد وحدت سے اظہار یکجہتی کے لیے پُر شکوہ ملک گیر احتجاج، اور یہ احتجاجات ان جگہوں پر بھی ہوئے جہاں کبھی خواتین اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتی تھیں۔
۱۲۔۲۲ جولائی ملت جعفریہ کا پاکستان کی اہم شاہراہوں کو بلاک کر کے اپنے حق میں آواز بلند کرنا یاد رہے کہ یہ دھرنے قوم نے شعوری طور پر دئیے،عام طور پر کسی سانحے کے رد عمل میں دھرنے یا احتجاج کیا جاتا ہے جو نسبتا اآسان ہوتا ہے،لیکن ۲۲جولائی کے دھرنے قائد وحدت کی آواز پر صرف ملت تشیع کے حقوق کی پامالی کے خلاف دئیے گئے۔
۱۳۔ یورپ میں جرمنی،فرانس اور سب سے زیادہ لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنےاور اسی طرح امریکہ کی کئی ریاستوں اور مشرق وسطی کے کئی ممالک میں بھوک ہڑتال کیمپ کی حمایت میں تاریخی مظاہرے ہوئے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر کے سامنے علامہ ناصر عباس جعفری کی حمایت میں 3 روزہ بھوک ہڑتال کیمپ لگایا گیاجس کا عالمی سطح پر نوٹس لیا گیا۔ جب کہ برطانیہ میں پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے گھر کا گھیرائو بھی ہوا۔
۱۴۔کئی موقر اخبارات جرائد نےمادر وطن میں ملت جعفریہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کے حوالے سےکئی خصوصی آرٹیکلز شائع کئےاور اس مسئلے کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا۔میڈیا پر تشیع کی پاکستان میں طویل ترین موضوعاتی کوریج بشمول ٹاک شوز ،پریس کانفرنسز۔
۱۵۔ملک بھر میں مطالبات کی حمایت اور بعد ازاں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی صحت یابی کے لیے دعائیہ اجتماعات کاانعقاد۔
۱۶۔۱۰۰۰سے زائد علماء آئمہ جمعہ و جماعت اور دینی مدارس کےعلمائے اور طلباء کی علامہ راجہ ناصر عباس کی حمایت میں کیمپ آمد اور ناصر ملت سے اظہار یکجہتی۔
۱۷۔ملک کے گوش وکنار میں نمازعید الفطر کے اجتماعات میں خطبا ء نے علامہ  راجہ ناصر عباس جعفری کے مطالبات اور تشیع کےحقوق کے لیے جاری پُرامن احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیااور ملک بھر میں شرکاء نماز عید الفطرنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ریاستی جبر وتشدد کے خلاف اپنا پُر امن احتجاج ریکارڈ کرایا۔
۱۸۔اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میںمجلس وحدت کے مطالبات اور بھوک ہڑتال کیمپ کی منصفانہ حمایت۔
۱۹۔ملک گیر ملی تنظیموں امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن ،امامیہ آرگنائزئشن ، اصغریہ آرگنائزئشن، اوردیگر ۲۴علاقائی موثر ملی تنظیموں کا اظہار یکجہتی اور حمایت کا اعلان ۔
۲۰۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا قائد وحدت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیمپ میں آنا اور شیعہ حقوق کی تحریک کی مکمل حمایت کرنا اس لحاظ سےبھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کہ پہلی دفعہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور عزاداری سید الشہداءؑکے خلاف سازشوں اورملت جعفریہ کے حقوق کی پامالی کو تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے تسلیم کیا اور ہمارے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کی۔
۲۱۔ پارا چنار ،ڈیرہ اسماعیل خان ،اور پشاور ،ہنگو، کوہاٹ کی صورت حال میں نمایاں بہتری اور بعض مسائل کا حل ۔ٹارگٹڈ آپریشن کا بعض مناطق میں آغاز۔فیصلہ سازی کے مراکز، حکومتی اداروں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملت جعفریہ کے ساتھ ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا گیا۔
۲۲۔ملک بھر سے آئے ہوئے ملت جعفریہ کے سینکڑوں نوجوانوں کی معنوی فکری اخلاقی اور سیاسی تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ اور شب قدر کےا عمال سینکڑوں دعائیہ پروگرام اور سینکڑوں اخلاقی فکری اور تربیتی دروس کے ذریعہ نوجوان ملت کی تربیت کی گئی۔
۲۳۔وطن عزیز میں ہر ظلم کے خلاف کے خلاف پرامن احتجاج کا سب بڑا فائدہ یہ ہوا کرپشن کے خلاف مقدمات عدالتوں میں اوپن ہوئے ۔ اور باقی پارٹیوں نے بھی ایإ یم ڈبلیو ایم سےپرامن احتجاج کرنا سیکھا ہے ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انہیں دھرنوں اور احتجاج کی بدولت فرعون صفت حکمرانوں کو قانون اور آئین کے سامنے شکست فاش ہو اور وہ اپنے انجام کو پہنچے ۔
۲۴۔عوام میں ظالم اور جابر حکومتوں کا خوف ختم ہوا ہے ۔ اب لوگ ہر قسم ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اوراحتجاج میں شریک ہوتے ہیں
۲۵۔ پاکستان بنایاتھا پاکستان بچائیں گے کا نعرہ اور عوامی پذیرائی کاحصول
۲۶۔عوام کو ولایت عملی کی تعلیم دی
۲۷۔پاکستانی تشیع عالمیتشیع کے ساتھہم آواز ہو گئے
۲۸۔عوامی رنگ مجلس کی ایک کامیاب حکمت عملی
۲۹۔پاکستان کےہر فردنے اپنے کو مجلس وحدت مسلمین کا کارکن ثابت کیا جس کا مظاہرہ کوئٹہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف صدائے احتجاج تھا اور مجلس وحدت اس وقت ایک قومی اور مذہبی جماعت کے طور پر متعارف ہوئی ۔
۳۰۔ مجلس وحدت نے شہداء ملت کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھا اور اس کو فراموش نہیں ہونے دیا جس سے قومی وحدت پیدا ہوئی ۔

نصر من اللہ و فتح قریب

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ،نصب العین /اغراض و مقاصد


۱۔نصب العین
دین اسلام کے صحیح اور حقیقی چہرے کا احیاء

۲۔اغراض و مقاصد
 ٭دین اسلام کے صحیح اور حقیقی چہرے کا احیاء۔
 ٭مملکت خدا داد پاکستان میں قوانین الٰہی کے عملی نفاذ کی جدوجہد کرنا۔
 ٭امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت اور مختلف ادیان کے مابین روابط وہم آہنگی۔
 ٭مملکت خدا داد پاکستان کی سا  لمیت ،استحکام اور ترقی کے لئے عملی کوشش ۔
 ٭معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فروغ ۔
 ٭مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ ۔
 ٭دنیا بھر کے مستضعفین اور مظلومین کی حمایت۔
 ٭عالمی سامراج اور استعمار کے خلاف جدوجہد اور اسلامی تحریکوں سے روابط اور ان کی حمایت۔
 ٭محمد و آل محمد ؑ کی تعلیمات کی روشنی میںامام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا فروغ اور تحفظ۔
 ٭راہ امام خمینی ؒ اور فکر شہیدقائد عارف حسین الحسینی ؒ پر گامزن رہنا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

ترتیب و تدوین : مولانا ظہیرالحسن کربلائی

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تین روزہ مرکزی راہیان کربلا کنونشن کااسلام آباد میں دوسرا روز شروع ہوچکا ہے۔دوسرے روز کا پہلا سیشن شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ کے نام سے منسوب ہے جس میں ملک بھر سے کارکنان ،عہدیداران اورعلمائے کرام کی کثیر تعداد شریک ہے۔

 دوسرے روز کے پہلے سیشن کا آغاز صبح 9:30 تلاوت کلام پاک سے ہوا قاری محمد باقرنے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ۔نظامت کے فرائض ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری امور تنظیم سازی آصف رضا ایڈوکیٹ انجام دے رہے ہیں۔مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔

اس نشست میں تمام صوبائی سیکریٹری جنرل صاحبان نے اپنی اپنی صوبائی کارکردگی رپورٹس پیش کی ، صوبہ سندھ سے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی، سینٹرل پنجاب سے سیکریٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی ،جنوبی پنجاب سے ڈپٹی سیکریٹری جنرل سلیم عباس صدیقی ، گلگت بلتستان سے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ شیخ احمد علی نوری، بلوچستان سے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ برکت مطہری جبکہ آزاد جموں کشمیر سےسیکریٹری تربیت مولانا اسرارحسین نے اپنی تنظیمی کارکردگی رپورٹس شرکائے اجلاس کے سامنے پیش کی۔

اس وقت صوبائی شوریٰ کے اجلاسوں کا انعقاد کیا جارہاہے، جس میں شوریٰ عالی کے نئے منتخب اراکین کے ناموں اور صوبائی کنونشن کے انعقاد کی تاریخوں پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان اور اصلاح نصاب کمیٹی کے کنوینیر مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے جبر کے ذریعے سات کروڑ شیعوں پر ان کے مذہبی عقائد و تعلیمات کے خلاف دینیات مسلط کرنا چاہتے ہیں جو کہ آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے ملت جعفریہ کے احتجاج کو مسلسل نظرانداز کرکے قوم و ملت کو منفی میسج دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازش شرمناک ہے مذہبی عبادت اور عزاداری کو جرم قرار دے کر سینکڑوں جھوٹی ایف آئی آرز کا اندراج نصاب تعلیم میں شیعہ مذہبی تعلیمات کو نظرانداز کرنا اور پھر ماورائے آئین و قانون شیعہ مسنگ پرسنز کا معاملہ اس بات کا عکاس ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں اس ملت کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کے حوالے سے ملت جعفریہ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے موقف میں ہمآھنگی لازمی ہے۔ اور یہ موقف قومی غیرت عزت و وقار اور مکتب اھل بیت کا ترجمان ہونا چاہیے۔ یہ بات واضح ہے کہ ملت کے تمام طبقات متنازعہ یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کر چکے ہیں اب آئندہ کے لایحہ عمل کے بارے میں مشترکہ قومی موقف اور مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل ضروری ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام تین روزہ مرکزی راہیان کربلا کنونشن کا جامع امام الصادق ؑ جی نائن ٹو اسلام آباد میں باقائدہ آغاز ہوگیا ہے ۔

کنونشن کی پہلے روز کی پہلی نشست شہید آیت اللہ سید محمد باقرالصدر کے نام سے منصوب ہے،اس نشست کا آغاز تلاوت کلام الہیٰ سے کیا گیا۔ نظامت کے فرائض مرکزی رہنما آصف رضا ایڈوکیٹ اور عارف علی الجانی نے انجام دیئے ۔ افتتاحی گفتگو رکن مرکزی شوریٰ عالی علامہ محمد اقبال بہشتی نے فرمائی۔

جبکہ مرکزی سیکریٹری تعلیم نثار علی فیضی نے بعنوان یکساں نصاب تعلیم ، مشکلات ، اقدامات اور راہ حل کے شرکائے اجلاس سے خطاب کیا۔

کنونشن کے پہلے روز کے پہلے سیشن میں ملک بھر سے منتخب ماڈل اضلا ع کے سیکریٹری جنرل صاحبان نے اپنے اپنے اضلاع کی تین سالہ کارکردگی رپورٹس شوریٰ مرکزی کے سامنے پیش کیں۔

پہلےروز کی دوسری نشست جو کہ شب شہداء بیاد شہید سلیمانی کے عنوان سے منصوب ہے کا آغاز بعد نماز مغربین وقفہ برائے طعام کے بعد کیا جائے گا، جس میں مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مختاراحمد امامی ،مرکزی سیکریٹری امور تربیت علامہ ڈاکٹر یونس حیدری اور مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری خطاب فرمائیں گے۔

وحدت نیوز(قم) یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر فاطمیہ فاؤنڈیشن شعبہ قم کے زیراہتمام ایک تجزیاتی سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ مقررین نے جنت البقیع کے انہدام کے حوالے سے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی اور راہ حل سوچنے پر زور دیا۔ سیمینار سے خصوصی گفتگو حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید شفقت شیرازی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مسئول امور خارجہ نے کی۔

 انہوں نے مختصر وقت میں جامع گفتگو کرتے ہوئے آل سعود اور امریکہ و برطانیہ کے گٹھ جوڑ کے مضمرات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ ان کے مطابق آل سعود کی پشت پناہی امریکہ و برطانیہ کی طرف سے کی جا رہی ہے، ورنہ آل سعود انتہائی کمزور لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ متعدد ممالک میں رژیم چینج کرنے کی کوششیں کرچکا ہے۔

اگر مقاومتی بلاک بشارالاسد کی مدد نہ کرتا تو یہ شام میں بھی اپنی پسند کی حکومت لے آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ امپورٹڈ حکومت آل سعود کے دباو پر اب انڈین حکومت سے غیر اصولی مفاہمت کرنے جا رہی ہے، ان کے مطابق ہندوستان کی خوشنودی کیلئے کشمیر سے لاتعلق ہونا موجودہ حکومت کی ایک اور خیانت ہے۔ اسی طرح اورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا بھی اورسیز پاکستانیوں کے حق پر ڈاکہ ہے۔

 انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کے نوکروں کے بھی نوکر ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ملت پاکستان کے استقلال، خود مختاری اور آزادی کے تحفظ، بقاء اور دفاع کیلئے جدوجہد کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے انٹرا پارٹی الیکشن کے سلسلے میں تین روزہ مرکزی کنونشن کا آغاز آج سے امام بارگاہ جامع الصادقؑ اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔جس میں شرکت کے لیےملک بھر سے مرکزی ، صوبائی اور ضلعی رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں،انٹرا پارٹی الیکشن کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

چیئرمین کنونشن ملک اقرار حسین کیمطابق جمعہ کے روز منعقدہ تقریب میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع کواسناد اور اعزازی شیلڈز دی جائیں گی۔ملک و قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےان کی یاد میں جمعہ کی رات شب شہدائے پاکستان کے عنوان سے تقریب نشست کا حصہ ہو گی۔

کنونشن کے دوسرے روز تمام صوبوں کے صوبائی سیکرٹری جنرل اپنے اپنے صوبوں کی کارکردگی رپورٹ پیش کریں گے۔اسی روز دستوری  ترامیم پر بھی بحث ہو گی اور اسے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔مرکزی عہدیداروں کے شعبہ جات کے بارے میں سوال و جواب بھی اسی نشست میں ہونگے۔نشست کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کارکنان سے اپنا اختتامی خطاب کریں گے۔

کنونشن کے آخری روزپارٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو گا۔شوری عالی کے سربراہ نومنتخب چیئرمین کے نام کا اعلان کریں گے۔بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین کے نو منتخب چیئرمین (سربراہ) پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا چولستان میں پانی کی کمی سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکمران جماعت پوری کابینہ سمیت ڈیکٹیشن لینے لندن میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔چولستان سے ڈیرہ بگتی تک پانی کی شدید قلت کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاست کا اولین فریضہ ہے۔پانی کے بحران کے خاتمہ کے لیے بلاتاخیر اقدامات کیے جائیں ۔یہ وقت حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کا نہیں بلک قوم کو درپیش سنگین مشکلات سے نجات دلانے کا ہے ،ملک کو بدترین صوتحال کا سامنا ہے ۔ مقتدر قوتوں کی آنکھ مچولیاں پاکستان کو خدانخواستہ سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف لے جا رہی ہے۔



وحدت نیوز(شگر)ضلع شگر کے مختلف مقامات پر یوم انہدام جنت البقیع کے موقع پر احتجاجی  مجالس کا انعقاد کیا گیا۔مرکزی امام بارگاہ مرہ پی شگر میں پاسدار سکواٹس کے زیر اہتمام احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع شگر شیخ اشرف حسین قمی نے کہا کہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں نے رسول کی بیٹی اور اہل بیت رسول ص کے روضہ انوار کو آج سے 99 سال پہلے منہدم کر کے شرمناک فعل کا ارتکاب کیا۔آل رسولؐ کے مقدس قبروں کو منہدم کر کےکروڑوں محب اہل بیت کی دل آزاری کی گئی۔

ادھر چھورکاہ جامع مسجد میں سرباز امام زمانہ تنظیم کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کلمہ گومسلمانوں نے اجر رسالت کا صلہ آل رسول کو خوب دیا،اہل بیت رسول کی عزت و توقیر اور فضیلت کو دبایا گیا،ان کے مقدس روضے کو بھی گرا کر یزیدی تسلسل کو دہرایا گیا۔

جلسے میں ایک مذمتی قراداد منظور کی گئی جسمیں سعودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا فورا روضہ اہل بیت رسول کو تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے اور مقدس مقامات کی زیارت کے لئےجنت البقیع کے مقام کو کھولا جائے۔

Page 4 of 1222

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree