وحدت نیوز(کھرمنگ) ماہ مبارک رمضان میں تبلیغ کی غرض سے ایران سے پاکستان آنے والے بلتستان سے تعلق رکھنے والے تین علمائے کرام کی جبری گمشدگی کے خلاف شاہراہ کرگل کھرمنگ پر احتجاجی دھرنا دے دیا گیا ہے ۔
تفصیلات کے علمائے کرام کی بازیابی کے مطالبے کیساتھ کھرمنگ پل کے سامنے شاہراہ کارگل ہر طرح کی ٹریفک کیلئے مکمل بند کرکے دھرنا شروع کرلیا گیا ہے۔ دھرنے میں کھرمنگ کے مختلف علاقوں کے علماء، عوام اور سر کردگان شریک ہیں۔
اغواء شدگان میں مولانا سید علی عباس رضوی ولد سید حیدر شاہ رضوی پاسپورٹ نمبر: AA9895965شناختی کارڈ نمبر:42101409559632۔مولانا غلام عباس ناصری ولد شیخ غلام حسین پاسپورٹ نمبر:EH1013364شناختی کارڈنمبر:42101298433633۔مولانا اختر علی ولد رستم علی پاسپورٹ نمبر:1803651شناختی کارڈ نمبر:7110263923655 شامل ہیں۔
صدر مجلس وحدت مسلمین ضلع کھرمنگ اور ممبر گلگت بلتستان اسمبلی علامہ شیخ اکبر رجائی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم باعمل آغا علی عباس رضوی اور ساتھی علماءکے ساتھ ان کے اہل خانہ کا ایک مرتبہ رابطہ کروانے کے بعد دوبارہ غائب کردیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کی انتہا ہے ، کسی عالم پر کوئی الزام ہےے تو عدالتیں موجود ہیں ، لیکن معلوم نہیں وفاق اور صوبائی حکومتیں بشمول سکیورٹی ادارے کس قانون اور آئین کے تحت ایسی فرعونی حرکتوں کے ذریعے اپنے لیئےنفرت کا سامان کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر محب وطن علماء فی الفور رہا نہیں کیئے جاتے تو جگہ جگہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، نون لیگ اور پی پی پی جنکی وفاق اور بلوچستان میں حکومتیں ہیں ان کے مرکزی اور مقامی رہنما عوام کو جوابدہ ہیں ،وہ کب تک ظلم و جبر اور فرعونیت پر خاموش تماشائی بنے رہیں گے ، مقامی سیاسی رہنما اپنے مرکزکے حکومتی ذمہ داروں سے پوچھیں اور آئیں مل کر ان علماء کی بازیابی کیلئے آواز اٹھائیں۔