وحدت نیوز(کوئٹہ)سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان قائد وحدت سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سنگین سیکیورٹی خطرات کے باوجود سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کیلئے اپوزیشن قائدین کے ہمراہ کوئٹہ آمد اور شاندار استقبال۔
قبل ازیں علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کو ایڈوائس کیا جا تارہا کہ سردار اختر مینگل کے دھرنا میں شرکت نہ کریں کیونکہ مستونگ میں تکفیری دہشت گرد ان دونوں شخصیات کو نشانہ بناسکتے ہیں ۔ سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین بلوچستان اور پی ٹی آئی بلوچستان کے ساتھی بھی شدید ترین سیکورٹی تھریٹس کی وجہ سے وہاں ان دونوں شخصیات کے نہ جانے کے حق میں تھےمگر صاحبزادہ حامد رضا اور علامہ راجہ ناصر عباس نے باہمی مشاورت کے بعد مستونگ جانے کافیصلہ کیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ بلوچستان میں بدترین سیکورٹی صورتحال کے باوجود، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے مستونگ دھرنے میں شرکت کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ صوبے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔رہنماؤں نے اپنے خطاب میں ماہرنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے بغیر ملک میں حقیقی استحکام ممکن نہیں، اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔یہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔