وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر و رکن قومی اسمبلی حلقہ این اے37 کرم انجینئر حمید حسین طوری نے ضلع کرم میں بدترین ناامنی کے خلاف قومی اسمبلی میں دوسری قرارداد پیش کی۔جس پر 55 سے زائد ایم این ایز نے دستخط کئے۔
قرارداد میں قومی اسمبلی نے ضلع کرم میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، 6 ماہ سے چپری تا تری منگل تک سڑک کی بندش اور عسکری سرگرمیوں نے ہر بار بار المناک واقعات کو جنم دیا ہے:
مئی 2023 میں تڑی منگل میں سات اساتذہ کی سفاکانہ قتل، (اکتوبر 2024) میں خون ریز لڑائیوں سے سینکڑوں ہلاکتیں، نومبر میں عوامی کانوائے مین 100سے زائد شہریوں کی اجتماعی قتل ، باگن میں گھروں/دکانوں کو آگ لگانا، ڈپٹی کمشنر پر نشانہ بند حملہ (جنوری 2025)، خوراک کے قافلے کی لوٹ مار، اور چار خیل میں سامان کے قافلے پر تازہ ترین حملہ ضلع کرم دہشت گرد گروہوں، مقامی عسکریت پسندوں اور غیرملکی دہشت گردوں کا اڈہ بن چکا ہے، جس نے علاقے کو جنگ زدہ علاقے میں بدل دیا ہے اور مقامی باشندوں کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔
ضلع کرم پاکستان سےمنقطع ہو چکا ہے، جہاں ضروری سامان کی شدید قلت ہے، جبکہ دہشت گرد عناصر بے خوف و خطر کام کر رہے ہیں۔