Print this page

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی 12 سالہ شاندار اجتماعی و سیاسی جدوجہد کی جائزہ رپورٹ بمناسبت ’’راہیان کربلا مرکزی کنونشن ‘‘

14 مئی 2022

وحدت نیوز (رپورٹ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پانچویں مرکزی سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیئے دستوری طور پر مرکزی شوریٰ کا تین روزہ اجلاس راہیان کربلا کنونشن کے عنوان سے جامع امام الصادق ؑ میں جاری ہے ۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی 12 سالہ شاندار اجتماعی و سیاسی جدوجہد کی جائزہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

فہرست

1۔عوامی بیداری مہم و ملی یکجہتی:        

2۔مختلف ملکی اور عالمی ایشوز پر اسٹینڈلیا گیا :

3۔شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی ؒ کی برسی کے پروگرامز:

4۔قائد شہید ؒکے مشن کی تکمیل اور سیاسی بیداری :

5۔فلاحی خدمات :

6۔احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعدقومی ثمرات:

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی کارکردگی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاءاس کا نصب العین ہے۔مجلس کو تشکیل پائے زیادہ سے زیادہ بارہ سال ہوچکے ہیں (۱۰ اپریل ۲۰۱۰ مجلس کا یوم تاسیس ہے ۔ اب اس مدت میں پاکستان جیسے معاشرے میں حالات کومدنظر رکھا جائے تو مجلس وحدت سے وہ توقع نہیں کی جاسکتی جو کئی دہائیوں پر محیط اور تسلسل رکھنے والی جماعت سے کی جانی چاہیے مجلس کی فعالیت زیادہ تر رضاکارانہ ہیںمجلس کے اند ربااخلاص لوگ رضاکارانہ طور پر فعال ہیں وہ اپنے الھی جذبے میںسرگرم ہیں ان کے سینوں میں موجود آرزو اور وژن انہیں میدان میں رکھے ہوئے ہے۔مجلس کی تشکیل ملت میں لگی آگ بجھانےوالے ریسکیو آپریشن کی طرح تھی جس میں ہنگامی کیفیت ہوتی ہے اب جب کہ آگ بجھ گئی ہے تو صفائی و ستھرائی کا عمل بھی انجام پارہا ہے خواہ اسباب کچھ بھی ہوںبہت سے دوست اس لئے فعال نہیں ہوں گےکہ شائد ان کے اپنے ذاتی مسائل آڑے آرہے ہوں جس کا انہیں حق ہے گرچہ اجتماعی الھی نہضتوں کا خاصہ ہے کہ کچھ تومشکلات سہہ نہیں پاتےاور کچھ کسی وجہ سے راستے بدل لیتے ہیں۔بہرحال مجموعی طور پر صورتحال اطمینان بخش ہے ۔ حالات و واقعات سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔

مجلس پر بات کرنے سے پہلے مجلس کی تشکیل سے پہلے والی صورتحال مکمل طور پر ذھن میں رہے تو تب اس عرصے میں آنے والی پیش رفت اور تبدیلیاں نظر آئیں گی. اور احساس ہو گا کہ سب کچھ خو بخود نہیں انجام نہیں پایا بلکہ ان اہم نتائج کے حصول کے لئے رہنمائوں،کارکنان اور مجلس کی حمایت کرنے والے عوام نےملکر قربانیاں دیں ہیں۔ اور جس سرزمین پر دشمن ملت تشیع کو اجتماعی میدان سے نکال کر دیوار سے لگا دینے پر مطمئن ہو چکا تھا. اسی میدان میں شیعہ قوم ایک ایسی قدرت کے ساتھ اتری ہے کہ تکفیریت کو تنہا کر دیا ہےصرف یہی نہیں بلکہ تکفیریت کے مرکز سے اندرون ملک ان کے اشاروں پر چلنے والے حکمران ،سیاستدان اورتکفیری سہولت کاروں کو کئی موقعوں پر ذلت ورسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑاہے۔بیرون ملک مکتب اہلبیت ؑ سے تعلق رکھنے والے  بھی (اندرون ملک) اکثریت کی طرح اس وقت جس پاکستانی شیعہ قومی جماعت پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اوراس سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں وہ واحد قومی جماعت مجلس وحدت مسلمین ہے۔اویہی دشمنوں کی آنکھ کا کانٹاہےدشمن سب سے زیادہ اس کے خلاف سازشیں اور پروپیگنڈےکرتا ہے۔ہمیں ان گذشتہ12 سالوں پر محیط اس کی جدوجہد اور اسکے ثمرات پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور بہتری کے لئے مزید جدوجہد کرنی چاہیے سفر طولانی اور رکاوٹیں بہت ہیں۔ دردمندوں کو نصیحتوں اور مشوروں کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کا بوجھ بھی اٹھانا چاہیے۔تاکہ سفر تیزی کے ساتھ درست سمت پر جاری وساری رہے قائد اعظمؒ وشہید قائدؒکے یہ بااخلاص فرزند جنہوںنے رات دن کی محنت سے مجلس وحدت کو اس مقام پر پہنچایا کہ فقط ملت تشیع ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کا سہارا اور خدمت گزاربن چکی ہے اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ملکر دشمنان اسلام ودشمنان پاکستان کو ہر میدان میںرسوا وذلیل بھی کررہی ہے اور وطن عزیز کی تعمیر وترقی اور عدالت الہی کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے ۔

الحمدللہ آج جماعت کی نظریاتی بنیادیں بہت مضبوط ہیں وژن اور مشن بھی واضح ہے اس کی طرف حرکت بھی تیزی سے جاری ہے۔ہر شعبہ رفتار میں توازن کا باعث بنتا ہے۔ تمام شعبوں کی طرف ہماری نگاہیں برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل کی بنیاد پر مرکوز ہونی چاہئے تاکہ اس ساری مجموعی حرکت میں توازن برقرار رہے۔ عوام میں جڑیں مضبوط کرنا آئیڈیل ادارے بنانا اورہر فیلڈ میںاس فیلڈ کے ماہرین اور متخصصین کو جذب کرنا درحقیقت یہ ایسی مستحکم بیس اور بنیاد ہے جس پر صدیوں پر محیط طویل جدوجہد کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔مجلس وحدت نےاتنے کم عرصے میں جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں مختصرطور پر قارئین محترم کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں ۔

عوامی بیداری مہم و ملی یکجہتی

مجلس وحدت مسلمین نے عوامی بیداری مہم کے سلسلے میں کچھ ایسے اجتماعات منعقد کرائے ہیں جس میں ہزاروں لوگ شریک ہو ئے ہیں ۔
۱۔ کراچی ،نشتر پارک میں پیام ولایت کانفرنس کا انعقاد
۲۔ کراچی انچولی گرائونڈ میں استحکام پاکستان کانفرنس کا انعقاد
۳ ۔لاہور مینار پاکستان ،قرآن و سنت کانفرنس
۴ ۔کراچی، نشتر پارک قرآن و اہلبیتؑ کانفرنس  
۵ ۔ اسلام آباد، میں دفاع وطن کنونشن کا انعقاد
۶ ۔اسلام آباد، استحکام پاکستان کنونشن کا انعقاد
۷ ۔ کراچی، نشتر پارک امام مہدی کانفرنس
۸ ۔حیدرآباد، لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس
۹۔ فیصل آباد ،حسین ؑ سب کا کانفرنس  
۱۰ ۔لاہور ، نزول قرآن کانفرنس
۱۱ ۔اسلام آباد پیام وحدت کنونشن  
۱۲۔اسلام آباد پیام ولایت کنونشن
۱۳۔ ڈیرہ اسماعیل خان میںمجلس کے زیر اہتمام عظمت شہداء اور مھدیؑ برحق کافرنسززکا انعقاد
14۔ وحدت اسلامی و استحکام پاکستان کنونشن
15۔ جانثاران امام عصر کنونشن
16۔ سال 2020ء میں کرونا وباء کی وجہ سے مرکزی کنونشن (اجلاس شوری عمومی منعقد نہیں ہو سکا)
17۔ سال 2021ء میں کرونا وباء کی وجہ سے مرکزی کنونشن (اجلاس شوری عمومی منعقد نہیں ہو سکا)
18۔ مرکزی کنونشن راہیان کربلا، اجلاس شوری عمومی ،13،14،15 مئی 2022 ء کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے ۔
مختلف ملکی اور عالمی ایشوز پر اسٹینڈلیا گیا
۱۔قائد وحدت کی سربراہی میں امن کار وان کی پاراچنار روانگی
۲ ۔ پاراچنار کا۵ سالہ محاصرہ ختم کرایا گیا
۳۔کوئٹہ بلوچستان حکومت کی بساط لپیٹی گئی  
۴ ۔ سانحہ بابو سر پر بھرپوراور موثر احتجاج
۵ ۔ سانحہ چلاس پر پرزور احتجاج
۶۔ زائرین کے مسئلے پر قائد وحدت کا تفتان کا پرخطر سفر
۷۔ پاراچنار کی مظلوم عوام اور شہدائے پاراچنار سے اظہار یکجہتی کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے حکم پر پورے ملک مین دھرنے دیئے گئےپاراچنار کے مسائل کا حل اورمجلس وحدت کی جانب سے بھرپور احتجاج کی بدولت آرمی چیف نے پاراچنار کا دورہ کیا اور عوامی مطالبات کو تسلیم کیا ۔پاراچنار کے مظلوم عوام کے مطالبات ایم ڈبلیو ایم کے دھرنوں کے باعث تسلیم کیے گئے ۔
۸ ۔گلگت بلتستان زمینوں کے مسائل کااور عوامی مطالبات کی مکمل حمایت   
۹۔ کوئٹہ ہزارہ کمیونٹی کے مسائل کا حل
۱۰ ۔گلگت بلتستان سبسڈی کامسئلہ اور یوم حسین ؑ پر عوام کی مکمل حمایت اور احتجاج کی کال
۱۱۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر تکفیریوں کے حملے بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سےسیہون شریف سندھ میں ’’ تحفظ مزارات اولیاءکانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں لاکھوں زائرین نے شرکت کی اور یوں عوام پر چھائی مایوسی کو ختم کیا گیا۔  
۱۲۔ڈیرہ اسماعیل خان جہاں شیعہ نام جرم بن گیا تھا اور لوگ رات کی تاریکی میں اپنے شہداء کے جنازے دفن کرتے اور ایک طرح سے ناامید ہو چکے تھے حتیٰ اکثر لوگ وہاں سے ہجرت کرگئے تھے ۔

مجلس وحدت مسلمین نے ڈیرہ میں عظمت شہداء کانفرنس کا انعقاد کیا تو لوگوں کو حوصلہ ملا ڈیرہ کے غیور عوام نے اپنے شہداء سے اظہار یکجہتی کے لئے ڈیرہ کی تاریخ میں پہلی بار دھرنا دیا اور اپنے حقوق کے لئے گھروں سے باہر آئے ۔ کے پی کے کی حکومت کو مجبوراً کمیٹی تشکیل دینا پڑی تاکہ وہ ڈیرہ کے حالات کا جائزہ لے ۔خود عمران خان بھی بھوک ہڑتالی کیمپ آئے اور ڈیرہ کے عوامی مطالبات کی حمایت کی ۔ اور ان کے حل کے لئے یقین دہانی کرائی ۔ ابھی کچھ دن پہلے بھی ڈیرہ میں’’ مھدی برحق ‘‘کے نام سے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی ہے جس سے قائد وحدت نے خطاب کیا ۔  

۱۳۔سال2020ء میں سانحہ دلخراش مچھ رونماہوا ۔جس پر شہداء کے ورثا ءنے احتجاج کیا اور جنازوں کو لیکر سخت سردی میں کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائوں میں بیٹھے رہے۔ شہداء کے لواحقین نے یہ مطالبہ کیا کہ جب تک وزیر اعظم نہیں آتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور اپنے پیاروں کے جنازے نہیں دفنائیں گے ۔

۱۴ ۔ قومی متنازعہ نصاب پر تمام قومی و ملی جماعتوں سے ملکر اسٹینڈ لیا گیا ۔ حکومت کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔ نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور نمائندوں سے ملاقاتیں ، حکومتی وزراء سے ملاقاتیں اس کے علاوہ کئی ایک پریس کانفرنسز ، احتجاج اور قومی ملی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان جس کایہ نعرہ ہے کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں چاہیے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ظالم کے خلاف ہیں چاہیےوہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین نے بصیرت اور حکمت و تدبیر کے ساتھ شہداء کے لواحقین کا ساتھ دیا ۔مجلس وحدت کے مسئولین کوئٹہ پہنچ گئے ۔ حکومت وقت کے شدید دبائو اور ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹے رہے بالآخر نہ صرف وزیر اعظم کوبلکہ آرمی چیف کو بھی کوئٹہ آنا پڑا ۔ اور یوں مظلوموں کے مطالبات کو حکومت اور ریاست پاکستان نے من وعن مان لیا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہمیشہ قومی و ملی مفادات کو سامنے رکھا ۔ ذاتی اور شخصی مفادات کی نفی کی اورجب بھی ملت پر مشکل وقت آیا مجلس وحدت مسلمین پاکستان میدان میں سب سے پہلے نظر آئی ۔ اب یہی وجہ ہے کہ مکتب اہلبیت ؑ کے لوگ ہمیشہ مشکل وقت میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب رجوع کرتے نظر آتے ہیں اور مجلس وحدت کے مسئولین سے رابطہ کرتے ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھی ملت کو کبھی مایوس نہیں کیا ۔ جتنے مشکل سے مشکل حالات پیش آئے مجلس وحدت نے فرنٹ پر آکر اپنا رول پلے کیا ہے ۔


  شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی ؒ کی برسی کے پروگرامز

مجلس وحدت مسلمین کے مسئولین نے جب دیکھا کہ شہید قائد ؒکے افکارکووطن عزیز میں فراموش جا رہا ہے اور ان کے برسی کے سالانہ اجتماعات کو ختم کیا جارہا ہے تو مجلس میدان میں آئی اور شہید قائد ؒ کی برسی ان کے شایان شان طور پر منانے کا اعلان کیا اور اس دن سے لیکر آج تک شہیدقائدؒ کی برسی کا دن مجلس وحدت کا قومی تنظیمی دن بن گیا ہے اب مجلس کا سب سے بڑا اجتماع اسی دن اسلام آباد میں منعقد ہوتا ہے۔جس میں ہزاروںجوان ، مردو زن اور بچےبڑی عقیدت سے شرکت کرتے ہیں  ۔

۱۔سال 2013ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہیدکی 24ویں برسی کا اجتماع عظمت ولایت کانفرنس
۲ ۔سال 2014ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی25ویں برسی کا عظیم اجتماع عظمت شہداءکانفرنس ۔
۳ ۔سال 2015ءمیں ،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی26ویں برسی کا عظیم اجتماع دفاع وطن کانفرنس۔
۴۔سال 2016ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 27ویں برسی کا عظیم اجتماع استحکام پاکستان کانفرنس  ۔
۵۔سال 2017ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی28ویں برسی کا عظیم اجتماع تحفظ پاکستان کانفرنس ۔
۶۔سال 2018ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 29ویں برسی کا عظیم اجتماع مھدی برحق کانفرنس۔
 سال 2019ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 30ویں برسی کا عظیم اجتماع حمایت مظلومین  کانفرنس۔
 سال 2020ءمیں،ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 31ویں برسی کا عظیم اجتماع ناصران ولایت کانفرنس۔
 سال 2021ءمیں، ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام قائد شہید ؒ کی 32ویں برسی کا عظیم اجتماع راہ ولایت و شہیدان راہ حق  کانفر نس منعقد ہوئی ہے۔
اب سال 2022ء میں اگست ان شاءا للہ برسی کا عظیم اجتماع اسلام آباد میں منعقد ہو گا ۔  

قائد شہید ؒکے مشن کی تکمیل اور سیاسی بیداری

۱۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان قومی سطح پر وہ واحد جماعت تھی جس نے ۲۰۱۳ کے الیکشن میں حصہ لیا اور اس کا انتخابی نشان خیمہ تھا ۔دھاندلی کے باوجود ایک سیٹ حاصل کی۔
۲۔ سال 2015 میں گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا جس کے نتیجے میں ۳ سیٹیں مجلس وحدت نے حاصل کیں۔
۳۔سال 2020 ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان میں 5 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر رہی اور صوب پنجاب میں ایک مخصوص نشت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے
۴۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پہلی بار بلدیاتی الیکشن(2022ء) میں کامیابی ملی اپر کرم میں تحصیل چیئر مین مجلس وحدت کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا ۔ اس کے علاوہ کئی ایک یونین چیئرمین اور کسان کونسلر اور آزاد کونسلرز منتخب ہوئے ۔
۵۔ اتحاد بین المومنین اور اتحاد بین المسلمین کےلئے کوششیں اور عملی اقدامات
۵۔ چار جماعتی اتحاد تشکیل دلوایا
۶۔اسلام آباد ،دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ۔
۷۔ کراچی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد
۸۔ ملتان ،اولیاء خدا کے مزارات پر تکفیریوں کے پے درپے حملوں کے خلاف اولیاءخدا کانفرنس کا انعقاد جس میں ۵۰ سے زائد اکابرین اور متولیان مزارات نے شرکت کی
۹۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےزیر اہتمام مجلس علماء امامیہ اور مجلس علماء شیعہ کا قیام
۱۰۔ ہرمیدان میں تنظیمی برادران کے شانہ بشانہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان اسمبلی میں ہماری ایک خواہر ممبرقانون ساز  اسمبلی ہیں ۔ اس کے علاوہ خواہران علمی ،تربیتی اور نظریاتی میدان میں بھی فعالیت کے لحاظ سے برادران سے کم نہیں ہیں ۔

فلاحی خدمات

مجلس وحدت مسلمین پاکستان نےعوامی تعاون سے سب سے زیادہ کام فلاحی خدمات کے شعبے میں انجام دیا ہے ۔ابھی بھی کئی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ ان تمام صاحبان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عوامی خدمت کے فلاحی کاموں میں مالی معاونت کی ہے ۔  
۱۔ امن کاروان کے ذریعے۵سال سے پاراچنار کی مظلوم محصورعوام کا محاصرہ ختم کرایا ۔

۲۔پاکستان کی تاریخ میں جس سیلاب نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اس سیلابی صورتحال سے نبرد آزما ہونے اور متاثرین کی بحالی کے لئے ہنگامی اور کسی تعطل کے بغیر امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔

۳۔مجلس وحدت مسلمین کے رضاکاروںنے متاثرین سیلاب کے لئے دن رات کام کیااورضروریات زندگی کا سامان جمع کر کے روانہ کیا گیا ۔
۴۔ ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای کی تاکید کے بعدمجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھرپور توجہ دی اور امدادی سرگرمیوں کی رفتار میں تیزی لائی گئی
۴۔اشیائے خورد و نوش، ادویات اور دیگر ضروریات کا سامان فوری طور پر متاثرین کے روانہ کیا گیا
۵۔ پورے ملک میں ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کاقیام
۶۔سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننے والی فصلوں کے مالکان میں بیج اور دیگر زرعی ضروریات کا سامان تقسیم کیا گیا
۷۔ فوری طور پر مختلف مقامات پر خیمہ بستیاں بنائی گئیں
۸۔متاثرین کے مکانات، امام بارگاہیں اور مساجد کی تعمیر و مرمت کی گئی
۹۔ اسکولوں اور مدارس کا قیام
۱۰یتیموں کی کفالت کا منصوبہ
۱۱۔ تعمیر وطن پروگرام
۱۳۔رہائشی اسکیم
۱۴۔ تعمیر مساجد پروجیکٹ
۱۵۔ مکانات کی تعمیر
۱۶۔ شعبہ خواتین کی جانب سے (بیت زہراء) فلاحی ،رفاحی اورتعلیمی پروجیکٹ

احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعدقومی ثمرات

قومیں مرا نہیں کرتیں لیکن قومیں اس وقت مٹ جاتی ہیں جب ظلم کے سامنے خاموش ہو جائیں اور نامید ہو جائیں ۔اس کے متعلق حضرت امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے :
كُونا لِلظّالِمِ خَصماً و لِلمَظلُومِ عَوناً:ہرظالم کےمخالف اور ہر مظلوم کے مددگار بن کر رہنا آج مجلس وحدت مسلمین پاکستان بھی حضرت امام ؑ کے اس فرمان پر عمل پیراہے۔
۱۔عزاداری اور مکتب کے خلاف ہونے والی سازشوں اور حکمرانوں کے مکروہ چہروں کو عیاں کرنے کے لئے بھوک ہڑتال جیسا احتجاج ناگزیر ہو چکا تھا
۲۔جس طرح کوئٹہ کے واقعات میں قوم نے اپنی مظلومیت سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو بیدار کردیا تھا ۔ ایک بار پھر شہداء پاراچنار ،ڈیرہ اسماعیل خان ،پشاور سے اظہار یکجہتی کیا گیااور پورے پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی نے قوم کو بیدار کر دیا ہے ۔
۳۔دیگر مکاتب فکر و مسالک اور سیاسی پارٹیاں، تشیع کی مشکلات سے آگاہ نہیں تھیں۔وہ سب ہماری قوم کی مشکلات سے آگاہ ہو ئےہیں بلکہ تمام پارٹیوں اور مسالک کے سربراہوں اور نمائندوں نےبھوک ہڑتال کیمپ آ کرقائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہاریکجہتی کیا اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مطالبات کی مکمل حمایت بھی کی ۔
۴۔یہ مظلوموں اور محروموں کی ایک آوازجو بھوک ہڑتال کیمپ سے بلند ہوئی تھی بہت جلد عالمی سطح پر بیدار ضمیر انسانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔
۵۔بھوک ہڑتال کیمپ نے پوری قوم کو متحد کرکے ایک لڑی میں پرودیا ہے۔ملک کے تمام نامور ذاکرین اہلبیتؑ، ماتمی انجمنوں کے سالاروں اور نوحہ خوانوں نے بھی بھوک ہڑتال کیمپ آ کر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کی شیعہ حقوق کے دفاع کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
۶۔پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور عزاداری کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ملت جعفریہ کے حقوق کی پامالی کو تمام سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا، اور بھوک ہڑتال کیمپ میں آکر ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کیا۔
۷۔ پاکستان میں شیعہ حقوق دفاع کے لیے پہلی دفعہ کسی عالم دین نے بھوک ہڑتال کی طویل تحریک چلا کر بے حس حکمرانوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑا اور علماء دین کا وقار بلند کیا۔
۸۔اقلیتی برادری جیسے سکھ، ہندو اور مسیحوں نے ہمارے مطالبات کو پاکستان کے استحکام اور بقا کے لیے آئینی وجمہوری قرار دیا۔
۹۔اہل سنت کی اکثر جماعتوں اور قائدین نے اتحاد بین المسلمین کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے مطالبات کی مکمل حمایت کی اور کیمپ میں شرکت کر کے قائد وحدت سے اظہار یکجہتی کیا۔
۱۰۔ملت جعفریہ کے اتحاد کا عظیم مظاہرہ مختلف مواقع پر نظر آیا۔جس میں آل پارٹیز شیعہ کانفرنس پنجاب کے بڑے ذاکرین کا اجتماع، ذاکرت کانفرنس ،ماتمی انجمنوں کا اظہار یکجہتی، ملک بھر سے دانشوروں اور طلبہ کا اظہاریکجہتی اورحمایت ،سینکڑوں، خانوادگان شہداء کی کیمپ میں آمد اور اظہار یکجہتی ،پاکستان بھر کے جید اور بزرگ علمائے کرام اور مختلف مدارس کےطلبہ کا اظہار یکجہتی۔ بانیان مجالس کی حمایت بھی شامل ہے۔
۱۱۔۱۷جولائی کو خواتین اور بچوں کاقائد وحدت سے اظہار یکجہتی کے لیے پُر شکوہ ملک گیر احتجاج، اور یہ احتجاجات ان جگہوں پر بھی ہوئے جہاں کبھی خواتین اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتی تھیں۔
۱۲۔۲۲ جولائی ملت جعفریہ کا پاکستان کی اہم شاہراہوں کو بلاک کر کے اپنے حق میں آواز بلند کرنا یاد رہے کہ یہ دھرنے قوم نے شعوری طور پر دئیے،عام طور پر کسی سانحے کے رد عمل میں دھرنے یا احتجاج کیا جاتا ہے جو نسبتا اآسان ہوتا ہے،لیکن ۲۲جولائی کے دھرنے قائد وحدت کی آواز پر صرف ملت تشیع کے حقوق کی پامالی کے خلاف دئیے گئے۔
۱۳۔ یورپ میں جرمنی،فرانس اور سب سے زیادہ لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنےاور اسی طرح امریکہ کی کئی ریاستوں اور مشرق وسطی کے کئی ممالک میں بھوک ہڑتال کیمپ کی حمایت میں تاریخی مظاہرے ہوئے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر کے سامنے علامہ ناصر عباس جعفری کی حمایت میں 3 روزہ بھوک ہڑتال کیمپ لگایا گیاجس کا عالمی سطح پر نوٹس لیا گیا۔ جب کہ برطانیہ میں پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے گھر کا گھیرائو بھی ہوا۔
۱۴۔کئی موقر اخبارات جرائد نےمادر وطن میں ملت جعفریہ کے ساتھ ہونے والے مظالم کے حوالے سےکئی خصوصی آرٹیکلز شائع کئےاور اس مسئلے کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا۔میڈیا پر تشیع کی پاکستان میں طویل ترین موضوعاتی کوریج بشمول ٹاک شوز ،پریس کانفرنسز۔
۱۵۔ملک بھر میں مطالبات کی حمایت اور بعد ازاں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی صحت یابی کے لیے دعائیہ اجتماعات کاانعقاد۔
۱۶۔۱۰۰۰سے زائد علماء آئمہ جمعہ و جماعت اور دینی مدارس کےعلمائے اور طلباء کی علامہ راجہ ناصر عباس کی حمایت میں کیمپ آمد اور ناصر ملت سے اظہار یکجہتی۔
۱۷۔ملک کے گوش وکنار میں نمازعید الفطر کے اجتماعات میں خطبا ء نے علامہ  راجہ ناصر عباس جعفری کے مطالبات اور تشیع کےحقوق کے لیے جاری پُرامن احتجاجی تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیااور ملک بھر میں شرکاء نماز عید الفطرنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ریاستی جبر وتشدد کے خلاف اپنا پُر امن احتجاج ریکارڈ کرایا۔
۱۸۔اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میںمجلس وحدت کے مطالبات اور بھوک ہڑتال کیمپ کی منصفانہ حمایت۔
۱۹۔ملک گیر ملی تنظیموں امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن ،امامیہ آرگنائزئشن ، اصغریہ آرگنائزئشن، اوردیگر ۲۴علاقائی موثر ملی تنظیموں کا اظہار یکجہتی اور حمایت کا اعلان ۔
۲۰۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا قائد وحدت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیمپ میں آنا اور شیعہ حقوق کی تحریک کی مکمل حمایت کرنا اس لحاظ سےبھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کہ پہلی دفعہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور عزاداری سید الشہداءؑکے خلاف سازشوں اورملت جعفریہ کے حقوق کی پامالی کو تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے تسلیم کیا اور ہمارے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کی۔
۲۱۔ پارا چنار ،ڈیرہ اسماعیل خان ،اور پشاور ،ہنگو، کوہاٹ کی صورت حال میں نمایاں بہتری اور بعض مسائل کا حل ۔ٹارگٹڈ آپریشن کا بعض مناطق میں آغاز۔فیصلہ سازی کے مراکز، حکومتی اداروں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملت جعفریہ کے ساتھ ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا گیا۔
۲۲۔ملک بھر سے آئے ہوئے ملت جعفریہ کے سینکڑوں نوجوانوں کی معنوی فکری اخلاقی اور سیاسی تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ اور شب قدر کےا عمال سینکڑوں دعائیہ پروگرام اور سینکڑوں اخلاقی فکری اور تربیتی دروس کے ذریعہ نوجوان ملت کی تربیت کی گئی۔
۲۳۔وطن عزیز میں ہر ظلم کے خلاف کے خلاف پرامن احتجاج کا سب بڑا فائدہ یہ ہوا کرپشن کے خلاف مقدمات عدالتوں میں اوپن ہوئے ۔ اور باقی پارٹیوں نے بھی ایإ یم ڈبلیو ایم سےپرامن احتجاج کرنا سیکھا ہے ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انہیں دھرنوں اور احتجاج کی بدولت فرعون صفت حکمرانوں کو قانون اور آئین کے سامنے شکست فاش ہو اور وہ اپنے انجام کو پہنچے ۔
۲۴۔عوام میں ظالم اور جابر حکومتوں کا خوف ختم ہوا ہے ۔ اب لوگ ہر قسم ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اوراحتجاج میں شریک ہوتے ہیں
۲۵۔ پاکستان بنایاتھا پاکستان بچائیں گے کا نعرہ اور عوامی پذیرائی کاحصول
۲۶۔عوام کو ولایت عملی کی تعلیم دی
۲۷۔پاکستانی تشیع عالمیتشیع کے ساتھہم آواز ہو گئے
۲۸۔عوامی رنگ مجلس کی ایک کامیاب حکمت عملی
۲۹۔پاکستان کےہر فردنے اپنے کو مجلس وحدت مسلمین کا کارکن ثابت کیا جس کا مظاہرہ کوئٹہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف صدائے احتجاج تھا اور مجلس وحدت اس وقت ایک قومی اور مذہبی جماعت کے طور پر متعارف ہوئی ۔
۳۰۔ مجلس وحدت نے شہداء ملت کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھا اور اس کو فراموش نہیں ہونے دیا جس سے قومی وحدت پیدا ہوئی ۔

نصر من اللہ و فتح قریب

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ،نصب العین /اغراض و مقاصد


۱۔نصب العین
دین اسلام کے صحیح اور حقیقی چہرے کا احیاء

۲۔اغراض و مقاصد
 ٭دین اسلام کے صحیح اور حقیقی چہرے کا احیاء۔
 ٭مملکت خدا داد پاکستان میں قوانین الٰہی کے عملی نفاذ کی جدوجہد کرنا۔
 ٭امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت اور مختلف ادیان کے مابین روابط وہم آہنگی۔
 ٭مملکت خدا داد پاکستان کی سا  لمیت ،استحکام اور ترقی کے لئے عملی کوشش ۔
 ٭معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فروغ ۔
 ٭مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کی جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ ۔
 ٭دنیا بھر کے مستضعفین اور مظلومین کی حمایت۔
 ٭عالمی سامراج اور استعمار کے خلاف جدوجہد اور اسلامی تحریکوں سے روابط اور ان کی حمایت۔
 ٭محمد و آل محمد ؑ کی تعلیمات کی روشنی میںامام حسین علیہ السلام کی عزاداری کا فروغ اور تحفظ۔
 ٭راہ امام خمینی ؒ اور فکر شہیدقائد عارف حسین الحسینی ؒ پر گامزن رہنا ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

ترتیب و تدوین : مولانا ظہیرالحسن کربلائی

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree